31

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری 23روزہ ”کراچی تھیٹر فیسٹیول“ کا کامیاب اختتام ،اختتامی تقریب میں نوجوان ہدایت کاروں کو ایوارڈز سے نوازا گیا

کراچی: صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ اگر امریکہ میں ہوتے تو ٹرمپ کو بھی ہرا دیتے ،چوالیس روز میں 23تھیٹرز یہ ایک معجزہ ہے ۔ ہمیں نوجوان ہدایت کاروں کو خوب سراہنا چاہیے ،ان خیالات کا اظہار معروف ادیب و دانشور انور مقصود نے کراچی آرٹس کونسل میں کراچی تھیٹر فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انور مقصود نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں جس طرح سے آرٹس کونسل نے ”تھیٹر فیسٹیول “ کا کامیاب انعقاد کیا ہے آپ سب مبارکباد کے حق دار ہیں۔انور مقصود نے مزید کہا کہ ٹی وی پر چلنے والے 100فیصد ڈراموں میں 90فیصد صرف خواتین لکھاری ہیں جو ڈراموں کو کھیل سمجھ رہی ہیں ،خدارا ڈرامے کو بدلیں ۔
اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ تھیٹر کے دروازوں کو زنگ لگنے لگ گیا تھا ،انور مقصود نے اپنے ڈراموں کے ذریعے تھیٹر کو جلاءبخشی ۔میثم نقوی کے ساتھ آرٹس کونسل کراچی کی تخلیقی ٹیم نے فیسٹیول کو کامیاب بنایا، شاندار فیسٹیول منعقد کرنے پر آرٹس کونسل کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ کرونا وبا ءکو مد ِ نظر رکھتے ہوئے تمام ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے فیسٹیول کا انعقاد کیا ، تاکہ چیزوں کو معمول پر لایا جاسکے۔
اختتامی تقریب میں انور مقصود نے کراچی تھیٹر فیسٹیول کے ہدایت کاروں جن میں ”بانو“میثم نقوی، ”ہیر“زین احمد، ”لیڈیز ٹیلر“ثمینہ نذیر، ”تماشہ“ عظمیٰ ثبین، ”راحت جان“ انجم ایاز، ”بے چارہ چور“ عبید اقبال، ”لوپ“بازیلہ مصطفی، ”انویسٹی گیشن سیل“ کلثوم آفتاب، ”اسٹمپڈ” رئوف آفریدی، ”کھویا ہوا آدمی“ ذیشان نل والا، ”ڈیڈاینڈ“سنیل شنکر، ”پھرمجرم کون“ وجدان شاہ، ”پنٹوڈیٹھ کلب“پارس مسرور، ”بیگم جان“ماریہ سعد، ”لَو اَون سیل“ یونس خان، ”لائٹس آئوٹ“فوادخان، ”منہ میں تو موجود“ شیما کرمانی، انور جعفری، ”بیڈروم کنرورزیشن“ خالد احمد، ”عشق کے بعد“ زرکا ناز، ”اڑتا تیر“ مظہر، منتظر، ”گڈلک ڈارلنگ“ فرحان عالم ،آرٹس کونسل کی پروڈکشن”A Doll’s House “دانیال عمراور نکڑناٹک ”سفر“ کی ڈائریکٹر آفرین سحر کو بہترین کارکردگی پر ایوارڈز سے نوازا۔
فیسٹیول کے آخری روز فرحان عالم کا کھیل ”گڈ لک ڈارلنگ“ پیش کیا گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں