48

افغان امن عمل: پاکستان کی کاوش

وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان کے ایک روزہ دورے پر افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لئے افغانوں کے فیصلوں کا احترام کرے گا۔حکومت پاکستان اور عوام خطے میں امن چاہتے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان مسلم برادر اورہمسایہ ملک ہیں۔ دینی رشتے کی بنیاد پر دونوں کے مفادات مشترکہ ہیں۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں پاکستان کے لئے کابل اور افغان عوام کے لئے پشاور پسندیدہ مقامات تھے۔ اب افغان عوام چار دہائیوں سے خطر ناک حالات سے دو چار ہیں۔ پاکستان افغانستان میں مستقل قیام امن کے لئے کوشاں ہے۔ انٹرا افغان مذاکرات کے باوجود تشدد کے واقعات پیش آنا افسوس ناک ہے۔ دونوں رہنماؤں نے انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات کے حالیہ سلسلہ کو کم کرنے کے لئے مشترکہ کوششوں میں تیزی لانے پر اتفاق کیا اور کہا کہ طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں۔ افغانستان میں سیاسی استحکام اور بحالی دراصل جنوب مغربی ایشیا ہی نہیں عالمی امن کی بنیادی ضرورت ہے۔ افغانستان کے پر امن ہونے کا دوسرا مطلب وسط ایشیا کے تمام ایشیائی خطوں اور ممالک سے محفوظ تجارتی تعلقات کی بحالی ہے۔ پر امن افغانستان کی مدد سے علاقائی وسائل کے بہترین استعمال کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگرممالک کے درمیان تعاون واشتراک کی راہیں ہموار ہوں گی۔پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو پر امن افغانستان بلوچستان سے ایران اور ترکی جبکہ خبر پختونخواہ اوربلوچستان سے وسط ایشیا، مشرقی یورپ اور ترکی تک پر امن جغرافیائی اتصال کی شکل میں یہاں آباد کروڑوں زندگیوں کو خوش حال اورترقی کی نعمت سے ہمکنار کرنے کاباعث بن سکتا ہے۔ عالمی تناظر میں افغانستان،چین اورروس جیسی عالمی طاقتوں کی جغرافیائی قربت کے باعث خصوصی اہمیت کا حامل ہے جبکہ حساس جغرافیائی حیثیت،معدنی وسائل اورمحل وقوع کے دیگر پہلو اس کی بین الاقوامی اہمیت کی دلیل ہیں، اس لئے علاقائی امن وسلامتی کاسوال ہو یا عالمی امن اورترقی کو درپیش چیلنج، افغان امن عمل کی کامیابی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکے گا۔ پاکستان چار دہائیوں سے افغانستان میں پائیدار امن کے لئے موثر کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ طویل جغرافیائی سرحدیں، مذہبی،سماجی، ثقافتی تعلق اور دفاعی حوالے سے دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات ایسے زمینی حقائق ہیں کہ جن کی بنیاد پر پاکستان برادر اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے۔سوویت یونین کی فوجی مداخلت، سوویت افواج کا انخلاء اور اس کے بعد پیداہونے والے غیر سنجیدہ حالات، طالبان کی حکومت سازی، نائن الیون سانحہ اور اتحادی افواج کی جار حانہ آمد سمیت کسی بھی قسم کے حالات میں پاکستان نے افغانستان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ چالیس سال سے زائد عرصہ سے لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں قیام پذیر ہیں۔ نائن الیون سے قبل اور بعد ازاں غیر ملکی جنگجوؤں کی افغانستان آمد سے پاکستان کو امن وسلامتی کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں جرأت مندانہ شرکت کے نتیجے میں پاکستان کو انتہا پسندی، عدم برداشت اور ان سب کے نتیجے میں ہولناک دہشت گردی کاسامنا کرنا پڑا۔ دہشت گردی کے بھیانک سلسلے کے نتیجے میں پاکستان کو 110 ارب ڈالر سے زیادہ کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ کم وبیش 70 سے 80 ہزار شہری لقمہ اجل بن گئے۔ کھیل کے میدان، سیاحتی مقامات، کاروباری وتجارتی مراکز ویران ہو کر رہ گئے۔ پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کے مسائل اور افغان پناہ گزینوں کی وجہ سے ملک کو منشیات، ناجائز اسلحے کی بہتات اور امن وامان کے حوالے سے سنگین مسائل نے لپیٹ میں لیے رکھا۔ ان تمام مصائب اورہلاکتوں کوبرداشت کیا گیا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت اور عوام اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ افغان امن کے بغیر خطے کی سلامتی اورپاکستان کے استحکام کوممکن نہیں بنایا جا سکتا۔افغانستان میں امن کی اہمیت کے مد نظر پاکستان نے افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان سیاسی روابط کے لئے نتیجہ خیزکوششیں کیں۔ قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کی تشکیل سے امریکہ، چین، روس جیسے ممالک سے سیاسی روابط کے لئے پاکستان نے سنجیدہ کوششیں جاری رکھیں۔اس سلسلے میں پاکستان کی طرف سے افغانستان میں سیاسی حکومت کے قیام کی کوششیں بھی جاری رہیں۔بون کانفرنس میں پاکستان کے فعال کردار کی وجہ سے پیدا ہونے والے اتفاق رائے سے افغانستان میں عام انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا اور کابل میں سیاسی حکومتوں کی تشکیل ہوئی۔ پاکستان نے افغانستان میں سیاسی حکومت کی تشکیل میں ٹھوس کردار ادا کیا اور اس کے ساتھ افغان طالبان اور عالمی برادری کے ذمہ دار ممالک کے درمیان تعمیری مذاکرات کی راہ ہموار کی۔ یہ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں ہی کا ثمر ہے کہ امسال 29فروری کو امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پایا۔ اگلے مرحلے میں افغان طالبان اور کابل انتظامیہ کے درمیان مذاکرات ہونا ہے جو فریقین کے درمیان اعتماد میں کمی کے باعث تاحال ممکن نہیں ہو پائے۔ کابل حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے افغانستان میں بد امنی و انتشار کی صورت حال پر قابو پانے میں کامیابی نہیں ہو رہی۔ بے یقینی کی اس صورت حال کے پس منظر میں دیکھا جائے تو بھارت نے افغانستان میں ایسے پنجے گاڑ رکھے ہیں کہ امن کی ہر کوشش ان کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو پاتی۔ جب تک افغان عوام اور حکومت کو بیرونی سازشوں اور استعماری طاقتوں کی ریشہ دوانیوں سے نجات نہیں مل جاتی، خطے میں پائیدار امن کاقیام مشکوک رہے گا۔ افغان امن کے لئے نیک خواہشات اور افغانستان میں سیاسی استحکام کے عزم کی بنیاد پر وزیراعظم عمران خان گزشتہ روز کابل پہنچے۔ افغانستان کے پہلے سرکاری دورے پر وزیر اعظم عمران خان نے صدر اشرف غنی سے خصوصی ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن اور افغانستان کی سلامتی کے ایجنڈے پر بھر پوراتفاق کیا۔ افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر اعظم نے افغان امن عمل کے لئے پاکستان کے عزم کو دہرایا اور کہا کہ افغانستان سے تشدد کے خاتمے کے لئے پاکستان کا کردار جاری رہے گا۔ افغان صدر نے بھی علاقائی سلامتی اور افغان امن عمل کے لئے پاکستان کے کردار و اہمیت کی ستائش کی، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان قیادت علاقائی استحکام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں تاخیر نہ کرے۔ پاکستان اوردوست ممالک سے تعلقات میں اعتمادسازی کی کوششوں میں اضافہ کرے۔ پاکستان اور افغانستان کی قیادتیں باہمی ہم آہنگی کی بنیاد پر آگے بڑھنے کاسلسلہ جاری رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ کابل میں مستقل سیاسی استحکام نہ ہو اور افغانستان میں موجود امن دشمن عناصر کا قلع قمع کر کے خطے کو امن وسلامتی کا گہوارہ نہ بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں