48

امام حسین ؓ کی قربانی امن و اخوت کا پیغام دیتی ہے

نیا اسلامی سال ہمیں ایک درس دیتا ہے کہ ہم بحیثیت پاکستانی اور ایک قوم کے ان تمام عناصر کو جو ہمارے درمیان مذہبی منافرت پھیلاتے ہیں اور ہمیں شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی، بلوچی سندھی، پٹھان اور پنجابی کے جھگڑوں میں الجھاتے ہیں ان کو متحد مسلمان اور ایک پاکستانی قوم بن کر بتائیں کہ ہم ان تمام عناصر کو ان شاء اللہ شکست فاش دیں گے۔
ہ وہ لوگ ہیں جو کہ دین میں فتنہ پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ہمیں ایک قوم کی طرح ہر حال میں متحد ہو کر انہیں پہچان کر شکست دینی ہے۔ وہ ہمیں دیمک زدہ درخت کی طرح اندر سے کھوکھلاکرنا چاہتے ہیں، لیکن ہمیں اتحاد و محبت سے مل کر انہیں اپنی جڑوں سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ اگر کسی مذہب کو اخوت، باہمی اخلاق و تہذہب اور اتحاد کی دولت فروانی اور کثرت سے عطا کی گئی ہے تو وہ مذہب اسلام ہے۔ اسلام کی فیاضی اور کشادہ دلی اس کی امتیازی شان ہے۔ وہ امیر و غریب کو اپنی شفیق آغوش میں پناہ دیتا ہے۔ اچھوت پن کی لعنت دور کرنے کی طاقت صرف اسلام میں ہے۔ اسلام احترام کا درس دیتا ہے،جو امن اور محبت کا پیغام ہے۔ مسلمان تمام انبیاء کرام اور ان کے پیغام کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ اس لئے ہمارا پیغام نفرت کیسے ہو سکتا ہے؟

دہشت گردی اسلام کا وطیرہ نہیں، بلکہ یہ عفوو درگزر کا درس دیتا ہے،جو امن کی ضمانت ہے،مگر مسلمانوں کو بنیاد پرست، انتہا پسند اور دہشت گرد قرار دے کر بدنام کیا جا رہا ہے۔مسلمانوں کے بارے میں غلط تاثرات کے خاتمے کے لئے بار آور کوششیں ہونی چاہیں۔کئی ایک گروہ اُمت مسلمہ میں فتنہ پھیلانے میں مصروف ہیں تاکہ مسلمان آپس میں کٹ مریں۔ ابلیسی قوتوں کو پاکستان کا استحکام اور مضبوطی کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اسلامی ممالک میں واحد ایٹمی طاقت ہے۔
اتحاد میں برکت ہوتی ہے۔ ہم نے یہ واقعہ کئی بار سنا ہے کہ ایک باپ نے اپنے بیٹوں کے سامنے ایک ماچس کو رکھ دیا کہ اسے توڑ کر دکھا تو انہوں نے ایک ایک کر کے تمام تیلیوں کو توڑ دیا تھا، مگر جب ان کے سامنے تمام تیلیوں کو اکھٹا کر رکھا گیا اور کہا کہ اب توڑو تو کوئی نہ توڑ سکا۔ یہ وہ درس عظیم تھا کہ متحد ہو کر آپ کو کوئی نہیں توڑ سکتا۔ لہٰذا ہمیں بھی ایک قوم ہو کر تمام بیرونی اور اندرونی دہشت گردوں کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہم ایک عظیم قوم بن کر اپنے دشمنوں کو شکست دے سکیں۔

اسلام کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان یا انسان کی بلاوجہ جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام تو امن و سلامتی کا علمبردار ہے۔اسلام کسی بھی صورت میں کسی مسلم یا غیر مسلم کو دہشت گردی یا خود کش حملوں کے ذریعے جان سے مارنے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے اور قرآن نے ایسے لوگوں کو سخت عذاب کی بشارت دی ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا اور ایسے تمام عناصر کو بے نقاب کرنا ہوگا جو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔
محرم الحرام کی آمد ہے اور ساتھ ہی نئے اسلامی سال کا آغاز جو کہ ہمیں ایک عظیم قربانی اور ظالم کے سامنے حق بات کرنے اور اس کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ نواسہ ئ رسولؐ حضرت امام حسینؓ نے دنیا میں ظلم و جبر کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جو شاندار روایت قائم کی ہے وہ تا قیامت ہمارے لئے ایک مشعل راہ ہے۔ یہ وہ قربانی ہے جو کہ ہمیں ثابت قدمی اور ہمت کا درس دیتی ہے۔ ہمیں راستہ دکھاتی ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ہمیں ہمت اور اخوت سے ہر بیرونی اور اندرونی سازش کو ناکام بنانا ہے۔

پچھلے کچھ عرصہ سے نام نہاد تنظیموں نے جہاد کے نام پر بنی نوع انسان اور انسانیت کے قتل کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اس سے جہاد کا مقصد پورا نہیں ہوتا، بلکہ مسلمان اور اسلام بھی بدنام ہو رہے ہیں۔ اصل جہاد اللہ کے احکامات کو بجا لانا ہے اور یہی بہترین جہاد ہے۔صبر کا مطلب ظالم کے ہر ظلم پر خوف یا مجبوری سے خاموش رہنا نہیں،بلکہ اس کے خلاف کلمہ حق کہنا اور حق کی راہ میں لڑتے ہوئے شہید ہونا بھی صبر کے زمرے میں آتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے بھی قربانی دے کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔
محرم الحرام کا مہینہ ہمیں اتحاد اور عظیم مقصد کے لئے قربانی کا درس دیتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مختلف مکتبہ فکر کے علمائے کرام ملک میں اتحاد بالخصوص محرم الحرام کے مہینے کے دوران بین المذاہب اور بین الفرقہ ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ اسلام امن اور بھائی چارگی کا مذہب ہے اور ہمیں برداشت و بلاتفریق ہر ایک کی عزت و احترام کرنے کا درس دیتا ہے۔ ہم سب نے مل کر ملک میں کامیابی کے ساتھ امن بحال کرنے کے لئے کام کیا ہے اور ہمیں اپنے وزڈم، وڑن، ایکشن اور تقاریر سے مشترکہ طور پر کوششیں کرتے ہوئے اسے برقرار بھی رکھنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں