154

امیدوں بھرا اجتماع

یہ ہمارے بڑے خان صاحب جب سے روحانیت کے بندھن میں بندھے ہیں کچھ بدلے بدلے نظر آرہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کچھ سمجھدار اورعقل مند سے ہوگئے ہیں۔ یہ میں نہیں سب کہہ رہے ہیں۔ ان کی طبیعت میں کچھ ٹھہراﺅ سا محسوس ہونے لگا ہے۔ گفتگو میں سنجیدگی و پختگی نمایاں ہے۔ چہرے پر اعتماد کی لہر ہے زیر لب مسکراہٹ چھپائے نہیں چھپ رہی۔ مینار پاکستان کے سائے تلے خان صاحب کی شخصیت میں یہ تبدیلی بڑی واضح نظر آئی۔ یہ داتا نگری کا فیض ہے یا گھریلو روحانیت کا کمال کہ خان صاحب تقریباً 2 گھنٹے مسلسل اپنے11 نکاتی ایجنڈے کو جوش و جذبے اور روانی سے بیان فرماتے رہے۔ مینار پاکستان میں موجود ان کے مداحوں اور ملک بھر میں لوگوں نے پوری یکسوئی سے انہیں سنااورسمجھنے کی کوشش کی۔ اس ”تاریخی خطاب“ کے نتیجے میں جو پہلاتاثر ابھرا وہ یہ تھا کہ خان صاحب کی بھی کچھ حدود مقرر ہیں جن کو وہ پھلانگ نہیں سکتے۔ خارجہ پالیسی شائد ان کے دائرہ کار میں نہیں لوگ توقع رکھتے تھے کہ وہ پاکستان امریکہ تعلقات، بھارت پاکستان کشیدگی، مسئلہ کشمیر پر واضح طورپر روشنی ڈالتے اور افغانستان بارے پی ٹی آئی کی سوچ کو دنیا تک پہنچاتے کہ یہی کشمیر کے بعد دنیاکا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ پاکستان آج علاقائی و بین الاقوامی سطح پر جس تنہائی کا شکار ہے پاکستانی عوام اپنے سیاست دانوںاورسیاسی جماعتوں کے قائدین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ ان کے پاس کون سا تریاق ہے کہ جسے پی کر ہم دنیا میں زندہ رہ سکیں۔ فلاحی ریاست کا ٹھنڈا ٹھار شربت ہر کوئی پلا رہا ہے مگر دودھ اور شہد کی جو نہریں خیبرپختونخوا میں لوگوں کو راحت بخش رہی ہیں وہ ہمیں بھی تو نظر آنی چاہئیں۔ عام انتخابات کی باقاعدہ تاریخ کا اعلان ہونے سے قبل کروڑ ہا روپے(تقریباً 50 کروڑ) لگا کر یہ جو مجمع اکٹھا کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد تو سمجھ آنا ضروری ہے یقینا اسے پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز توکہا جاسکتا ہے اور اس کے لئے بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنا بھی نہایت ضروری تھا اوریہ سوچ بھی کسی حد تک درست قرار دی جاسکتی ہے کہ رمضان المبارک کی آمد آمد اورگرم ترین موسم میں انتخابی مہم کے دوران ایسا جلسہ کرنا ممکن نہیں تھا مگر خان صاحب ذرا یہ تو بتائیے کہ کروڑوں روپے کے جھنڈے، بینرز، ٹرانسپورٹ اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر اشتہارات کی بھرمار کے اخراجات کس نے کئے؟ اور اس کے نتیجے میں کیا پی ٹی آئی کا ووٹ بینک دوگنا ہوگیا یا تخت لاہور والے بھاگ کر جدہ چلے گئے۔ اس ”امیدوں بھرے اجتماع“ کا پوسٹ مارٹم توتجزیہ نگاروں نے بہترین انداز میں کردیا ہے مگر اسے عام انتخابات میں کامیابی کا زینہ قرار دینا اتنا آسان نہیں جتنا خان صاحب کی ٹیم سمجھ بیٹھی ہے۔ اس جلسے کی تیاری کے لئے تقریباً 6 ماہ سے خان صاحب نے خود شہر شہر رابطہ مہم جاری رکھی۔ تب کہیں جا کر یہ اجتماع منعقد کرنا ممکن ہوا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ اجتماع خان صاحب کی انتخابی سیاست کے سب سے بڑے جلسے منعقدہ 29 اکتوبر 2011 ءمینار پاکستان سے کہیں کمزور تھا۔ 2011 ءکے جلسے میں لاہورکے عوام کی شرکت قابل دید تھی۔ یہ جذبہ 29 اپریل 2018 ءمیں کہیں نظر نہیں آیا۔ خان صاحب کی فہم و فراست کو داد دینے کو دل چاہتا ہے کہ انہوں نے قبل از وقت ”ہم سب امید سے ہیں“ کے کرداروں کو اکٹھا کرکے ایک زبردست پاور شو کا اہتمام کیا مگر ہم تھوڑی دیر کے لئے عام انتخابات سے قبل پارٹی ٹکٹوں کی حتمی تقسیم کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لیں تو یہ ” ہجوم عاشقاں“ آدھے سے بھی کم ہونے کی توقع رکھی جاسکتی ہے اور یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ خان صاحب جو پیپلز پارٹی، ن لیگ اوراب ق لیگ کی وکٹ پر وکٹ گرائے جارہے ہیں اور” ٹُٹی بھجی جُتیاں وٹالو“ کی صدا لگائے جو ”کھلاں بتاشے“ بانٹ اور ”پرانے پانڈے“ قلعی کراکے پی ٹی آئی میں سجارہے ہیں عام انتخابات سے قبل وفادار جنونیوںاور نظریاتی رہنماﺅں کو کس طاق میں سجائیں گے؟
محسوس یہی ہوتا ہے کہ یہ بے پیندے کے لوٹے کسی بھی وقت خان صاحب کی ایسی پھرکی گھمائیں گے کہ رہے اللہ کا نام۔ سارے وِننگ گھوڑے جمع کرکے خان صاحب جو ریس جیتنا چاہتے ہیں خطرہ ہے کہ کہیں ریس سٹارٹ ہونے سے قبل ہی یہ گھوڑے آپس میں ٹکرا نہ جائیں اور لینے کے دینے پڑ جائیں۔ مینار پاکستان کے میدان میں جلسہ عام کے بعد جگہ جگہ پڑے گندگی کے ڈھیر نئی تنظیم سازی کی گواہی دے رہے تھے اور اُجڑے میدان کی حالت زار دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی حالت بھی ایسی ہی ہوگی،پی ٹی آئی لاہور کے منتخب ارکان شفقت محمود اور میاں محمود الرشید کی سٹیج پر عدم موجودگی اور انہیں نظر انداز کرنے سے پارٹی کے اندر دال میں کچھ کالا لگتا ہے اور آنے والے وقتوں میں یہ دال گلتی نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف ن لیگ کی قیادت جس امتحانی دورسے گزررہی ہے اور کڑے احتساب سے دو چار ہے یہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ نااہل ہونے والے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اور موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے لے کر وفاقی حکومت تک سب مایوسی کا شکارہیں۔ وفاقی بجٹ پیش کرنے کے بعد ن لیگ کا موجودہ دور حکومت عملی طورپر مکمل ہو چکا۔ صرف بجٹ منظوری کی رسم باقی ہے لیکن ن لیگ کی قیادت کے پاس اداروں سے ٹکراﺅ کے علاوہ عوام کو دینے کے لئے کچھ بھی نظرنہیں آتا۔ سب وسوسوں کاشکار ہیں،گماں ہے کہ اندرون خانہ بغاوت ہو چکی ہے اور ایک دوسرے پر بھروسہ ختم ہوتا جارہا ہے۔ چند دن کی مہمان حکومت کے 5 نئے وفاقی وزراءکا حلف اٹھانا اسی طرف اشارہ کررہا ہے کہ انتخابات سے قبل ن لیگ کو مزید سیاسی صدموں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری طرف آصف علی زرداری وہی پتے کھیل رہے ہیں جوان کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ عہدوپیماں کے بھی پکے ہیں اور دُھن و دھن کے بھی۔ بلاول ابا کی بات سمجھ گئے ہیں۔ انہیں سمجھا دیا گیا ہے کہ کھیل کے آخر میں ہاتھ جھاڑنے سے بہتر ہے کہ پتے دیدہ و نادیدہ اتحادیوں سے شیئر کرلئے جائیں۔ اہل سیاست میں یہ بات آصف علی زرداری سے بھلا کون بہتر جانتا ہے کہ ”ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔“ مگر ہم نے تو سینیٹ انتخابات میں ضرورت کو ایجاد کی ”نانی“ بنتے بھی دیکھا۔ بلاول بھٹو زرداری کواچانک بلوچستان کی جو یادستا رہی ہے وہ جائز ،منطقی اور معنی خیز ہی نہیں وقت کی ضرورت بھی ہے۔ یہ وہی بلوچستان ہے جہاں سے2018 ءمیںآئندہ جمنے والے سیاسی اکھاڑے کا آغاز ہوا۔ بلوچستان کے متعلق بلاول بھٹو کا بیانیہ خوبصورت ہے مگر ان کی یہ منطق قطعی سطحی اور حقائق کے برعکس ہے کہ ”وفاق مضبوط کیا گیا تو بلوچستان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔“ بلاول بھٹو کے والد محترم نے اپنے 5 سالہ مفاہمتی دور میں ماسوائے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کو معقول حصہ دینے کے سوا کچھ نہیں کیا،یہ الگ بات کہ ایوارڈ کی بیشتر رقم مشہورزمانہ مفاہمت کی بھینٹ چڑھ کر کرپشن کی نذر ہوگئی۔ وفاق کو کمزور دیکھنے کی خواہش کے بجائے سنجیدہ، فرض شناس اوراہل لوگوں کو وفاق کی باگ ڈور سونپنے کی کوشش کی جانی چاہئے تاکہ بلوچستان میں نوٹوں کو پہیے لگانے کے بجائے صحیح معنوں میں اس کے ساتھ انصاف کیاجاسکے کہیں ایسا نہ ہو کہ اقتدار کی دوڑ میں امیدوں بھرے اجتماعات نا امیدی کے عمیق سمندر میں غوطہ زن ہوجائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں