52

آذربائیجان سے جھڑپوں میں مزید 30 آرمینیائی جنگجو ہلاک، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب

باکو: آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین جھڑپوں میں شدت آ گئی، گولہ باری سے آرمینیا کے مزید 30 جنگجو مارے گئے، دونوں ممالک کے درمیان لڑائی پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کر لیا گیا۔
آذربائیجان اور آرمینیا کی جھڑپوں آرمینیا کے مزید 26 جنگجووں کی ہلاکت کے بعد گولہ باری سے مارے گئے افراد کی مجموعی تعداد 85 تک پہنچ گئی۔ ترکی نے آرمیینا سے نگورنو کاراباخ کا قبضہ چھوڑنےکا مطالبہ کیا ہے جبکہ آوآئی سی کی جانب سے بھی آرمینیا کے آذربائیجان پر حملے کی مذمت کی گئی ہے۔
آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان لڑائی میں دونوں جانب سے راکٹ اور توپ خانے کا استعمال کیا جا رہا ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے آرمینیا اور آذربائیجان حکام سے رابطہ کیا ہے۔ انتونیو گوتریس نےدونوں ملکوں سےجنگ بند کرنے اور تحمل کامظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
او آئی سی نے آرمینیا کی جانب سے آذربائیجان پر جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے آذر بائیجان سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے، او آئی سی نے آرمینیا سے آذربائیجان کا علاقہ خالی کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ترک صدر نے دوٹوک الفاظ میں آرمینیا کو آذر بائیجان کی مقبوضہ سرزمین نگورنو کاراباخ کا قبضہ ختم کرنے کی وارننگ دے دی۔ روس، چین ، امریکا اور ایران نے ایک بار پھر مذاکرات کے ذریعہ تنازعہ حل کرنے پر زور دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں