sarwar jalandari 67

بیماری پر سیاست : افسوس ناک طرز عمل

کوٹ لکھپت جیل کے باہر ہر جمعرات کے روز ایک میلہ کا سماں ہوتا ہے اس جیل میں مسلم لیگ (ن) کے قائد ‘سابق وزیراعظم میاں نواز شریف قید ہیں جمعرات کا دن ان کی ملاقات کے لیے مقرر ہے اس روز ان کے اہل خانہ کے علاوہ ملک بھر سے پارٹی رہنما آئی جی جیل خانہ جات کی خصوصی اجازت سے میاں نواز شریف سے ملاقات کرتے ہیں کئی لوگوں کو درخواست کے باوجود ملاقات کرنے والوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جاتا اس کے باوجود وہ محبت کے اظہار کے لیے جیل کے مین گیٹ تک ضرور جاتے ہیں اورسینکڑوں پارٹی کارکنوں کے ساتھ ‘پس دیوار زنداں اپنے پارٹی لیڈرسے وفاداری کا اظہار کرکے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں ۔
میاں نوازشریف جیل میں دل کے عارضہ میں مبتلا ہیں انہیں علاج معالجہ کی فوری اور چوبیس گھنٹے ماہر امراض قلب کی نگرانی کی اشد ضرورت ہے حکومت ان کی بیماری کو ایک ڈھونگ سمجھ کر ان کے علاج معالجہ کرانے میں تاخیری حربے اختیار کررہی ہے حکومت کی جانب سے ان کی بیماری کی تشخیص اور علاج معالجہ کے لیے ضروری سفارشات پہلے طبی بورڈ سے چوتھے طبی بورڈ کی رپورٹ وفاقی حکومت کی میز پر پڑے ایک ماہ گزر چکا ہے وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں میاں نواز شریف کی بیماری کا معاملہ زیر غور آنے پر حکومت پنجاب کو ان کے علاج معالجہ کے حوالے سہر ممکن سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت جاری کردی ہے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے صوبائی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماری کا معاملہ سامنے آنے پر ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں حکومت کی جانب سے وزیر قانون راجہ بشارت ‘وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے دو ارکان بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا مو¿قف ہے کہ وہ سیاست دان بعد میں ہیں ‘ڈاکٹر پہلے ہیں راجہ بشارت کا اخبارات میں تازہ تبصرہ پڑھ کر حیرانی ہوئی کہ وہ میاں نواز شریف کو ”انوکھا قیدی “ کہہ رہے ہیں جو علاج بھی اپنی مرضی کا چاہتا ہے شیخ رشید احمد کے تازہ تبصرے کا ذکر کرنا ہی فضول ہے کل تک میاں نواز شریف کی تعریفیں کرتا تھا آج ان کی شخصیت میں کیڑے نکالنے اور طنزیہ فقرے باری سے انہیں فرصت نہیں ملتی۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی میڈیکل رپورٹوں میں ان کے دل کے سنگین امراض کا ذکر ہے جیل میں انہیں انجائنا کے پانچ دورے پڑچکے ہیں انہیں نے جیل کی ڈسپنسری کے ڈاکٹر کو اپنی تکلیف بتانا ہی چھوڑ دیا ہے جیل کے ڈاکٹر کے پاس ای سی جی مشین ہونا دور کی بات ہے ٹمپریچر چیک کرنے کے لیے تھرمامیٹر اور بلڈپریشر چیک کرنے کا آلہ نہیں ہے وہ ایمرجنسی میں مریض کو ابتدائی طبی امداد دینے کی بھی پوزیشن میں نہیں ہے۔
یہ الیکٹرانک ‘سوشل اور پرنٹ میڈیا کی سابق وزیراعظم کی صحت پر اٹھنے والے سوال ‘آواز ‘کارکنوں کے شور کے علاوہ ان کی صاحبزادی مریم نواز کے بیانات اور واویلا پر ہونے والی رپورٹنگ ‘حکومت کے لیے ”توجہ دلاﺅ نوٹس “ بنی ہوئی ہے جس پر حکومت سنجیدگی سے علاج نہیں بلکہ عوام اور میڈیا کو مطمئن کرنے کے لیے کبھی نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل پی آئی سی‘کبھی سروسز اور کبھی جناح ہسپتال کے چکر لگلوارہی ہے علاج ان ہسپتالوں کی عمارتیں نہیں کرتی بلکہ ان عمارتوں کے اندر دل کے امراض کے ماہر ڈاکٹروں کو علاج کے لیے دل کے مرض سے متعلقہ ادویات ‘میڈیکل رپورٹ تیار کرنے کے لیے ضروری مشینری ‘آپریشن کے جدیدآلات جراحی سے آراستہ آپریشن تھیڑوں کی ضرورت ہوتی ہے میاں نواز شریف کی مجبوری یہ ہے کہ ان کے دل کے دو آپریشن بیرون ملک ماہر امراض قلب کی نگرانی میں ماہر امراض قلب کے ہاتھوں ہوچکے ہیں وہ ڈاکٹروں کی ٹیم مرض کے بارے میں پاکستانی ڈاکٹروں سے بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں وہ لال حویلی کے نیم حکیم ‘عطائی ڈاکٹر اور جعلی پیر کی طرح دم نہیں کرتے اور نہ ہی گردے سے پتھری نکالنے سے جھوٹے دعوے کرتے ہیں ایسا بیانات شیخ رشید (پنڈی بوائے)اکیلے نہیں دیتے ‘حکومت نے ایک پوری ٹیم تیار کررکھی ہے جو گاہے بگاہے اور کبھی کبھی بیک وقت نواز شریف کی بیماری کے بارے مخالف بیانات اور تبصرے کرتے ہوئے تمام اخلاقی حدود پار کرجاتے ہیں وزیر قانون راجہ بشارت اور وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی پیش کش سے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کی سابق وزیر اعظم نواز شریف کے علاج معالجہ کے لیے تشکیل دی گئی پارلیمانی کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کو آگاہ کردیا ہے مسلم لیگ (ن) کے ارکان کمیٹی نے اپنے تحفظات اور تجاویز سے حکومتی کمیٹی کے دونوں وزراءارکان کو آگاہ کردیا ہے۔
مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آنے والی تجاویز پر حکومتی اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف حکومتی رویئے سے اس قدر ڈس ہارٹ ہوچکے ہیں کہ انہوں نے ایک بار پھر جیل سے علاج کی غرض سے ہسپتال جانے انکار کردیا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ جیل میں ہی ٹھیک ہیں ہر بار ہسپتال لے جایا جاتا ہے پھر واپس بغیر علاج کے بھیج دیا جاتا ہے میاں نواز شریف نے جیل میں ملاقات کے دوران والدہ محترمہ بیگم شمیم شریف اور اپنی لخت جگر مریم نواز اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی جیل سے ہسپتال منتقلی کی کوشش پر اپنی والدہ کو بتایا کہ اس موجودہ صورت حال میں مزید تماشا بننے سے بہتر ہے کہ جیل میں رہا جائے اور اللہ تعالیٰ سے شفا کی دعا کی جائے ۔بوڑھی ماں نے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا اور اللہ تعالیٰ سے نواز شریف کی بیماری دور کرنے ‘مصیبتیں ٹالنے اور پریشانی دور کرنے کے لیے ہاتھ اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں بلند کردیئے۔
ڈاکٹر عدنان نے میاں نواز شریف سے ان کی تکلیف کے بارے میں پوچھ کر کچھ ادویات تبدیل کرنے کا مشورہ دیا اور کچھ نئی ادویات بیماری کو وقتی طور پر کنٹرول کرنے کے لیے ‘جو وہ ساتھ لے کر آئے تھے ‘نواز شریف کے حوالے کیں مریم نواز نے جیل حکام سے کہا کہ ان کے والد کی بیماری میںمسلسل اضافہ ہورہا ہے ملک کے تین بار کے وزیراعظم رہنے والے اور ملک کو ایٹمی طاقت بنانے والے میاں نواز شریف کی قومی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہی ڈاکٹروں سے علاج کرانے کی اجازت دی جائے جنہوں نے ان کے آپریشن کئے تھے میں نے جیل کے باہر ان کی گفتگو کا یہی مطلب سمجھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں