21

تمام ڈاکوجمع ہوکر شور مچارہے ہیں کہ NRO دو، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ سارے ڈاکوایک جگہ جمع ہوگئے ہیں، سب شور مچارہے ہیں کہ ان کو این آر او دے دو، زندگی آسان ہوجائے گی۔
عمران خان نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں اسٹنٹ مینوفیکچرنگ یونٹ کا افتتاح کردیا، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے اداروں میں باہمی تعاون کا فقدان ہے۔
وزیراعظم عمران خان کاکہنا ہے کہ بہتری کا راستہ آسان نہیں ہوتا، مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ سمندرپار پاکستانی ہیں، دہری شہریت والے پاکستان کے لیے ترستے ہیں ۔
افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہمقامی سطح پراسٹنٹ کی تیاری اہم پیش رفت ہے، کوئی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک اس کی امپورٹ زیادہ اور ایکسپورٹ کم ہو۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ڈالرکی کمی ہوجاتی ہے ہمیں ہر کچھ عرصے بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑجاتا ہے، اگرملک کو ترقی دینی ہے تو ڈالر ملک میں زیادہ لانا ہونگے اور باہرکم بھیجنے ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ چین نے ایسے ہی ترقی کی کہ اپنی ایکسپورٹ کو بڑھایا، ترکی کےوزیراعظم اردوان بھی ایسے ترقی لے کر آئے کہ اپنی ایکسپورٹ پر توجہ دی۔
عمران خان کاکہنا ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں ہم انڈسٹریالائزیشن کی طرف جارہے تھے، بدقسمتی سے ستر کی دہائی میں کنفیوژ مائنڈ سیٹ آگیا اور نیشنل آئزیشن کا نعرہ لگایا گیا، یہی کنفیوژ مائنڈ سیٹ آج بھی ہے جس کی وجہ سے معیشت تباہ ہے۔
ان کاکہنا تھا کہ کوئی ملک صرف کپاس بیچ کر اوپر نہیں جاسکتا،پاکستان کے مائنڈ سیٹ کو درست کرنا ہے، جوبھی ایکسپورٹ کی طرف جارہا ہے، حکومت کو چاہیے کہ اس کوسپورٹ کریں ۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا سب سےبڑا اثاثہ سمندرپار پاکستانی ہیں، سمندر پار پاکستانی سب سے زیادہ محب وطن ہیں، اسلام وفوفیا کے باعث وہ زیادہ محب وطن ہیں ، دہری شہریت والے پاکستان کے لیے ترستے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ملک میں صرف ماحول درست کرنا ہے تاکہ ہمارے ماہرین باہر سے واپس آسکیں، میرےپاس وہ تجربہ ہے جوبہت کم پاکستانیوں کےپاس ہے،اس لیے اپنا تجربہ طالب علموں سے شیئرکرنا چاہتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ طالب علموں کو پیغام دیتا ہوں کہ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کوپہچانتے ہی نہیں، مولانا رومی نے کہا کہ اللہ نےہمیں پر دیئے ہیں تو ہم چیونٹیوں کی طرح کیوں زمین پرچلتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی کی روح اس وقت خوش ہوتی ہے جب ہم اللہ کے بتائے راستے پر چلتے ہیں، دوچیزیں سائنس آپ کو کبھی نہیں بتا سکتی،ایک وہ چیز کہ انسان کا دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے، دوسرا یہ کہ انسان کے مرنے کے بعد کیا ہوگا۔
نسٹ میں اسٹنٹ مینوفیکچرنگ یونٹ کے افتتاح پر انہوں نے بتایا کہ مقامی طور پر دل کے اسٹنٹ بنانے سے آٹھ ارب روپے کی سالانہ بچت ہوگی، پاکستان اسٹنٹ بنانے والا 18 واں ملک بن جائے گا۔
واضح رہے کہ مقامی طور پر دل کے اسٹنٹ بنانے والے ممالک میں ترکی کے بعد پاکستان مسلم دنیا کا دوسرا ملک بن گیا ہے اور مقامی طور پر اسٹنٹ تیار ہونے سے ملک میں دل کے مریضوں کو معیاری اور سستے اسٹنٹ دستیاب ہوں گے جبکہ ملک کو سالانہ 8 ارب روپے کی بچت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں