76

جمعہ مبارک اور وظیفہ جات

جب سے سمارٹ فون ایجاد ہوا ہے اور اس ڈیوائس میں مختلف فیچرز کے علاوہ واٹس ایپ کا فیچر بھی مہیاکیا گیا ہے، اس ایپ کو ہم پاکستانیوں نے ثواب کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔یہ ایپ کا رپوریٹ کاروبار کی سہولت کے لئے تیز ترین ذریعہ مواصلات کے طور پر بنائی گئی تھی۔ فی الحقیقت یہ تفریح کا ذریعہ نہیں تھی۔ یہ تو بنائی گئی تھی، بڑے اہم پیغامات اور بڑی بڑی دستاویزات کی فوری ترسیل کے لئے۔ یہ فون جب ذرا کم قیمت کا ہوا تو متوسط اور غریب کی پہنچ میں بھی آگیا۔ اُن کے لئے یہ ایپ تجارتی اہمیت کی بجائے تفریح کا ذریعہ بن گئی۔ اپنا، یا اپنی فیملی کا فوٹو بنایا اور جھٹ سے دوستوں رشتہ داروں کو ایک اُنگلی کے ٹچ سے دُور دراز ممالک میں بھجوا کر تفریح حاصل کرنا ایک شغل بن گیا۔ سمارٹ فون ٹیکنالوجی میں جوں جوں ترقی ہوتی گئی،وہ دیگر کاموں کے لئے بھی استعمال ہونی شروع ہو گئی۔ ٹی وی اور میڈیا والوں نے چلتی پھرتی خبروں کی تصویریں بنائیں اور فوراً ہی اپنے نشریاتی سسٹم میں ڈال دیں۔ سیاست دانوں کی تعریف کی فوری تشہیر کا ذریعہ بھی یہ فون بن گیا۔ سیاست دانوں نے اپنی اپنی میڈیا ٹیمیں بنالیں۔ سیاسی میڈیا طنزو مزاح، تفریح کا باعث بھی بن گیا، یعنی ہمارے جیسے غیر سیاسی لوگ وٹس ایپ پر دیئے گئے تبصروں اور تصویروں سے محظوظ ہونا شروع ہو گئے۔ واٹس ایپ کی سہولت کا غلط استعمال ہونا بھی شروع ہو گیا۔ بلیک میلنگ شروع ہو گئی۔فحش تصویریں اور ویڈیو کلپ بھی لوڈ ہونے شروع ہو گئے۔
پچھلے تین چار سال سے یہ فون مذہبی جوشیلے لوگوں کے لئے ثواب کمانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ واٹس ایپ پر جمعہ مبارک کے پیغامات ہر جمعے کو کثرت سے آتے ہیں۔ یہ پیغام چھوٹے اور بڑے درجے کے شہری مذہبی جوش کے زیر اثر زیادہ بھیجتے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو ہر مذہبی عمل ثواب کمانے کے لئے کرتا ہے۔ اس طبقے کو عبادت کے پانچ ارکان سے جو تربیت ملتی ہے یا جس طرح اِخلاق سازی ہوتی ہے یا جس طرح پابندیئ وقت کی ٹریننگ ہوتی ہے اور جس طرح گفتگو میں شائستگی اور سلیقہ آتا ہے، ثواب کمانے والے حضرات کو اِن اسلامی قدروں سے کوئی غرض نہیں ہے۔ وہ تو ثواب کمانے کے لئے مجھے اور آپ کو ”جمعہ مبارک“کا پیغام ہر جمعے کو تواتر سے بھیجتے ہیں۔ میَں نے تھوڑی ریسرچ کی کہ ”جمعہ مبارک“ پیغام لوکل ذرائع سے آیا یا باہر کے عرب ممالک کے زیر اثر آیا ہے۔ بالکل جس طرح ہمارے کئی مذہبی روّئیے ہمیں عرب ممالک سے ملے ہیں۔ خاص طور سے 1973ء کے بعد جب پاکستانی ہنر مند اور غیر ہنر مند عرب ممالک میں روزی کمانے کے لئے گئے۔ ہمیں لفظ نماز کی جگہ صلوٰۃ استعمال کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ہم جو 900 سال سے خدا حافظ کہا کرتے تھے اَب ہمیں ٹوک کر کہا جاتا ہے کہ اللہ حافظ کہو۔ یہ پیغام مقامی طور پر غالباً تبلیغی جماعت والوں نے ایجاد کیا ہے اور ظاہر ہے میڈیا پر وائرل بھی ہو گیا ہے۔مجھے یقین ہے کہ ”جمعہ مبارک“ کا پیغام واٹس اَپ پر بھیجنے والوں کے دِلوں میں ثواب کمانے کی اُمید ہوتی ہوگی۔

قرآنی اور غیر قرآنی وظائف بھی ”جمعہ مبارک“کے علاوہ پوسٹ کئے جاتے ہیں، جو واٹس ایپ پر مختلف حاجات کو پورا کرنے کے لئے اور ثواب کمانے کے لئے ہوتے ہیں۔ ہمارے اکثر لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ وظیفوں کو سمجھ لیا ہے۔خواہ اِن لوگوں کے کرتوت اسلام کی ہدایات کے نزدیک نہ پھٹکتے ہوں۔ میَں نے پڑھے لکھے اور اچھے عہدوں پر فائز پاکستانیوں کو دیکھا ہے جو قرآن سے فال نکالتے ہیں۔ بیٹی کی رخصتی کے وقت قرآن کا سایہ اُس کے سر پر کرتے ہیں، قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور گفتگو کے دوران اپنے بیان کو زور دار بنانے کے لئے کلمہ پڑھتے ہیں یا قرآن کی قسم کھاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ قرآن کو ہم لوگ کتابِ ہدائت نہیں سمجھتے، بلکہ اِن اُلٹے سیدھے کاموں کو کرنے کے لئے قرآن کو اہمیت دیتے ہیں۔
برصغیر کے مسلمان ثواب کمانے کے آسان ذرائع ڈھونڈتے ہیں،حالانکہ ثواب کا اہم ذریعہ معاشرت اور معیشت کو ٹھیک رکھنا ہے۔ سبز پگڑی باندھنے سے، یا ٹخنوں سے اونچی شلوار رکھنے سے یا ہندوؤں کی طرح دکان کھولتے وقت اگربتیاں جلانے سے ثواب نہیں ملتا۔ ہمارے دین میں کلام اللہ کی جو اہمیت ہے اُسے تو ہم نے گردانا ہی نہیں۔ بس ثواب مل جائے۔ ہم اپنے سماج کو متوازن رکھنے کے لئے اچھے کام کیوں نہ کریں۔ منافع خوری ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، ٹیکس چوری اور سرمایہ اندوزی چھوڑ کر ہم اپنے رب کی خوشنودی اور رضا زیادہ حاصل کر سکتے ہیں بہ نسبت اُن کاموں کے جن کو ہم ثواب کا باعث سمجھتے ہیں۔ کاش اِن جوشیلے لوگوں کو کوئی بتائے کہ واٹس ایپ کے ذریعے ثواب کمانے سے بہتر ذریعہ ہے اللہ تعالیٰ کی اُن ہدایات کی تشہیر، جو ہمارے معاشرے میں بھلائی اور نیکی پھیلانے کا باعث بن سکیں۔ ہم لوگوں میں دین کی فہم واجبی سی ہے، ہمارے اکثر لوگ اپنے دین کے عملی پہلو کو اہمیت نہیں دیتے۔ سڑکوں پر چلتی ہوئی اکثر کاروں کے پچھلے سکرین پر کلمہ تحریر ہو گا یا کوئی قرانی آیت لکھی ہو گی۔یہ بھی ثواب اور نیکی کمانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ سب دکھاوے کی اسلام پسندی ہوتی ہے۔ قریباً ہر کار میں دعائے قنوت یا آیت الکرسی کا طُغرا لٹک رہا ہو گا۔ ہم لفظ ”اسلام“ کو تجارتی مقاصدکے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اسلامی شہد، اسلامی دواخانہ، اسلامی بینک اور اسلامی ریسٹورنٹ،ہمیں ہر شہر میں ملیں گے۔پاکستانی عوام کی اکثریت دین کے بارے میں واجبی سی معلومات رکھتی ہے، بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ غلط معلومات رکھتی ہے۔ ہمارے اکثر ممبرانِ اسمبلی اسلام کا بنیادی فہم بھی نہیں رکھتے۔ 2018ء کے الیکشن کے اُمیدواروں کے انٹرویوز سے ہی ظاہر ہوتا تھا کہ ہمارے مستقبل کے قانون ساز اسلام کی کتنی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔دین سے ناواقفیت کی وجہ سے اِن ممبرانِ اسمبلی کو پارلیمینٹ میں بیٹھے ہوئے مولوی حضرات ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔

واٹس ایپ پر ”جمعہ مبارک“ کے پیغامات، کاروں کے پچھلے سکرینوں پر کلمے اور آیات کی نمائش، پبلک ٹرانسپورٹ کی بسوں اور ویگنوں کے پیچھے کالا کپڑا لٹکتا ہوا، اِن سب کو میں توہم پرستی کے زمرے میں رکھتا ہوں۔ ہم اسلام کے عملی پہلو کو جب تک نہیں اپنائیں گے ہم اس ہی طرح خسارے میں رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں