42

حیران کن فیصلے پریشان کن نتائج

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کیا پاکستان کو خوش حال ، مستحکم اور ترقی یافتہ بنانا اتنا مشکل کام تھا جو ہمارے حکمرانوں نے مشکل ترین بنا دیا؟ کیا اس ملک کو اپنے گھر کی طرح آباد نہیں کیا جاسکتا تھا ؟ کہتے ہیں حکمران تو قوم کا باپ ہوتا ہے اور ایک باپ اپنے خاندان ،گھر اوراس سے جڑے تمام افراد ، رشتے داروں، دوستوں، دشمنوں کو بڑے احسن انداز میں زندگی کا حصہ بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔ ایک خوش حال خاندان کا سمجھ دار سربراہ اپنی خوشیاں، غم، دکھ، سکھ سمیٹنے کی خاطر اپنے مالی وسائل کے اندر رہ کر زندگی کو سنوارنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور خاندان کے ہر فرد کو ایک نظر سے دیکھتا ہے کسی سے حسد نہیں کرتا، کسی سے انتقام نہیں لیتا، بس اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح گھر کو بچایا جائے، چلایا جائے اور اس میں بسنے والوں کے دکھ سکھ کو اپنی جان پر لے کرخوشیاں بانٹی جائیں۔ کسی بھی خاندان کی کامیابی میں اس خاندان کے سربراہ کے بے لوث جذبے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اسے خوشیاں بانٹنے کے لئے بار بار قربانیاں دینی پڑتی ہیں اپنے جذبات کی ، اپنے احساسات کی، اپنی خوشیوں کی پھر کہیں جاکے خاندان کی خوش حالی کی بنیادپڑتی ہے۔ میرے اورآپ کے اردگرد بسنے والا ہر فرد کسی نہ کسی خاندان کا حصہ ہے اور ہر خاندان ایک باپ، ایک سربراہ یا خاندان کے کسی بزرگ کی حکمت و دانش سے جڑا ہوا ہے اور اپنی بساط بھر خاندان کے تمام افراد، اپنی اولاد کو خوش حال بنانے کی خاطر دن رات جدوجہد کرتے ہیں۔ میں آئے دن دیکھتا ہوں کہ غریب سے غریب تر ، مڈل کلاس ، ملازمت پیشہ افراد، امیر سے امیر تر خاندان صرف اسی بنیاد پر کامیاب زندگی گزار رہے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔ سہارا بنتے ہیں اورجن خاندانوں کے سربراہ خودغرض، مفاد پرست اور وقتی ضرورتوں کے تابع ہوتے ہیں وہ خاندان بہت جلد بکھر جاتے ہیں، ان کا وجود ختم ہو جاتا ہے، پریشانیاں ہی پریشانیاں ان کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں۔ ایسے خاندان کبھی کامیاب ہوتے نہیں دیکھے۔ صرف وہی خاندان کامیاب ہوا جو اپنی اساس سے جڑا رہا اور یہ اساس خلوص و محبت اوربے لوث جذبوں سے قائم ہوتی ہے۔ میرے اردگردہزاروں ایسے لوگ ہیں جو اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی خاطر تین تین شفٹوں میں کام کرتے ہیںکسی اور کی کیا مثال دوں میرے اپنے ادارے کے نوے فیصد کارکن کم ازکم دو یا اڑھائی شفٹوں میںمختلف اداروں میں کل وقتی یا جز وقتی کام کرتے ہیں۔ وہ بُرے سے بُرے حالات میں بھی اپنے خاندان کی بہتر کفالت کی خاطر دن رات تگ و دو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہاں کبھی کبھی جب انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کسی نے اپنی بیٹی بیاہنی ہے یا اپنے بچوں کی تعلیم کے بھاری داخلوں کے اخراجات اٹھانے ہیں یا خاندان کی خوشی غمی پوری کرنی ہے یاکسی جان لیوا بیماری کا مہنگا ترین علاج کروانا ہے تو انہیں وقتی طور پر کسی دوست کی مالی معاونت (ادھار) بھی لینا پڑ جاتا ہے لیکن اکثریت یہ کوشش کرتی ہے کہ مستقبل کی ذمہ داریوں کو نبھانے کی خاطر ”کمیٹی سسٹم“ کے تحت اپنی آمدنی کا کچھ حصہ بچت کی شکل میں محفوظ رکھے کہ مستقبل کی ذمہ داریوں کو نبھانا آسان ہوجائے۔ صرف اعشاریہ چند فیصد کے سوا کسی کو در در بھیک مانگتے نہیں دیکھا۔ اگر آس پڑوس سے کبھی تھوڑا بہت کبھی قرضہ لے بھی لیا تو انہیں فوری فکر ہوتی ہے کہ پہلی فرصت میں اسے اتارنے کی کوئی تدبیر کریں۔ یہ پاکستانی معاشرے کی کامیابی کی بنیاد ہے اور اس بنیاد پر جھونپڑی میں رہنے والے سے لے کر تاج محلوں کے مالک بھی زندہ کھڑے ہیں۔ کیا پاکستان میرا اور آپ کا گھر نہیں؟ کیا اس میں بسنے والے انسان ایک خاندان نہیں؟ کیا اس کا حکمران اس خاندان کا سربراہ نہیں؟ یارو! پاکستان کا نظام چلانا اتنا بھی مشکل نہیں تھا جتنا ہمارے حکمرانوں نے بنا دیا اور آج ہم دنیا میں بھکاری بنے بیٹھے ہیں۔
وسائل کی کمی کا رونا تو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک کا کوئی باپ نہیں جو اس خاندان کو جوڑ سکے، بچا سکے، خوش حال بنا سکے۔ یہاں بڑے بڑے سیاست دان بھوکے ننگے آئے اور کھرب پتی بن گئے۔ بڑے بڑے صنعت کاروں ، سرمایہ داروں، سیٹھوں، بظاہر کامیاب کاروباری شخصیات نے اپنی اپنی حکمت و دانش اور کرپشن کے پہیوں سے بڑی بڑی ذاتی سلطنتیں تو قائم کرلیں لیکن اس ملک کا کسی نے نہیں سوچا۔ یہ وہ تھے جو متحدہ ہندوستان سے لٹے پٹے خالی ہاتھ اس پاکستان میں آئے اور دونوں ہاتھوں سے اسے لوٹا اور مال بنایا۔ ہمارے قائد بابا ئے ملت! محمد علی جناحؒ نے ان کا اپنی بساط کے مطابق مقابلہ کیا اور اس ملک کے سربراہ اور باپ کی حیثیت سے پاکستان کو ایک خاندان بنانے کی کوشش کی اور اپنے نہ ہونے کے برابر وسائل میں اس خاندان کو ایک قوم بنانے کی بنیاد رکھی۔ قائداعظمؒ نے کسی سے بھیک نہیں مانگی، کسی کو اپنی تکلیف یا بیماری کا احساس نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے اپنا لائف سٹائل تک اپنی قوم پر قربان کر دیا۔ کسی ادارے، شخصیت پر الزام نہیں لگایا۔ کسی کو قصور وار نہیں ٹھہرایا۔ انتظامی طور پر جو کمزور ترین ڈھانچہ دستیاب تھا اسی پر بھروسہ کیا۔ عسکری طور پر جو قیادت میسر تھی اس کا حوصلہ بڑھایا۔ ماضی کی تلخیوں کی لکیر پیٹنے کی بجائے مستقبل پر نظر رکھی اور خاندان (پاکستان) کی کمزوریوں کو ایک طاقت کے طور پر لے کر آگے بڑھے، قائد ملت خان لیاقت علی خان کے بعد جو یہ خاندان بکھرا کہ آج تک اسے جوڑنا مشکل ترہوگیا۔ کس نے لوٹا، کس نے کھایا، کس نے کس طرح کمایا یہ کہانی بڑی درد ناک ہے۔ بس سوال اتنا ہے کہ اس بکھرے خاندان کو ایک بار پھر کیسے قوم بنایا جائے؟ اور کون ہے جو اپنی حکمت و دانش سے اس خاندان کے ایک ایک فرد کو مطمئن کرکے خوش حالی کے راستے پر لے آئے؟ عمران خان شائد نئی نسل اور نئے پاکستان کی آخری امید تھی مگر جس کا اپنا سیاسی خاندان بکھرا ہو وہ پاکستان کے بکھرے خاندان کو کیسے ایک دوسرے سے جوڑ سکتا ہے؟ جس کی اپنی پریشانیاں ختم نہ ہو رہی ہوں وہ دوسروں کے دکھوں کا مداوا کیسے کرسکتا ہے؟ بڑا دکھ ہوتا ہے جب خاندان کا سربراہ ہی عقل و دانش سے عاری ہو۔ زندگی کا تجربہ تو یہی کہتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان کبھی بھی ایک سوچ کا مالک نہیں ہوتا اور خاندان کا ہر فرد فرشتہ ، دیانت دار ، مخلص اور بے لوث نہیں ہوتا۔ یہ خاندان کا سربراہ ہی ہوتا ہے کہ جسے ہر مشکل کو حل کرنے کی کوئی نہ کوئی تدبیر نکالنا پڑتی ہے کہ نظام زندگی چلے، اگر خاندان کا سربراہ ہی فریق بن جائے تووہ انصاف کیا کرے گا؟ اور خاندان میں تحریک کیسے پیدا ہوگی؟ یہ نیا پاکستان پُرانے پاکستان کی تعمیر و مرمت سے ہی بن سکتا ہے۔ یاد رکھیئے حیران کن فیصلے پریشان کن نتائج ہی دے سکتے ہیں۔ لندن میں جاری سیاست دانوں اور سرمایہ کاروں کی باہمی سرگرمیاں عمرانی سرکار کو آنے والے دنوں میں یقینا حیران بھی کریں گی اور پریشان بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں