Abd ul Rashee quraishi 22

خبریں ان کی تبصرہ ہمارا

صاحبو! ہمارا گزشتہ کالم ملک میں بدترین مہنگائی پر تھا آج پھر اسی مہنگائی کے بارے میں شائع ہونے والی ایک خبر نے ہمارے چاروں طبق روشن کردیئے خبر کی سرخی کچھ ایسے ہے کہ ”ایک ماہ میں مہنگائی کا پانچ سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا“۔وزیراعظم پاکستان آنے والے وقت میں مزید کتنے ”ریکارڈ “ توڑتے ہیں ؟یہ بات شائع ہونے والی خبر نے واضح کردی ہے ۔یہ بات بھی واضح ہوچکی ہے کہ مہنگائی والی اس خبر نے حکومت کی نااہلی کا پول کھول دیا ہے کہ موجودہ حکومت اس قاہل ہی نہیں کہ وہ نظام چلا سکے ۔سمجھ سے باہر ہے کہ موجودہ حکومت انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ پھر وہی وعدے اور دعوے کررہی ہے جو اس کی قیادت نے اقتدار میں آنے کے لئے قوم سے کئے تھے ۔خدشہ ہے کہ موجودہ سیاست دانوں کا اس محاورے کے تحت اصلی چہرہ سامنے آچکا ہے کہ ” ہاتھی کے دانت کھانے کےااور دکھانے کے اور “ دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زرعی پیداوار میں کمی بھی کھانے پینے کی اشیاءکی مہنگائی کا سبب بنے گی ۔ رپورٹ کا مقصد یہ ہے کہ کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتوں میں ابھی مزید اضافہ متوقع ہے ۔بات وہیں آتی ہے کہ ”تبدیلی “ آنہیں رہی بلکہ آچکی ہے“
ہم پھر کہتے ہیں کہ حالات وواقعات واضح کررہے ہیں کہ حکومت کی طرف سے عوام پر مہنگائی کے مزید بم گرائے جانے کے خدشات برقرار ہیں۔عوام کو ہوشیار رہنا چاہئے اس لئے حکومت کی آنکھیں ہر دم عوام کی جیبوں پر ہیں ۔دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے کیونکہ جو ”تبدیلی “ عوام کے گلے پڑچکی ہے ‘پانچ ماہ میں اس نے ظاہر کردیا ہے کہ کیا ہونے والاہے ۔واہ عمران خان صاحب!آپ نے عوام کو اپنی سیاست کے نرغے میں لے کر ایسا دصوبی پٹڑا مارا ہے کہ عوام بڑی بڑی لغت کی ورق کرانی کرتے ہوئے ”تبدیلی “ لفظ کے مفہوم کو ڈوھونڈ رہے ہیں لیکن انہیں اس کا مفہوم نہیں مل رہا ۔ مہنگائی کے بارے میں شائع ہونے والی خبر پر تبصرہ ہوچکا اب ہم بعض خبروں پر تبصرہ کرنا چاہتے ہیںکہ ہم الوداع کہتے ہیں اس لئے کہ اور بھی بہت سی خبریں ہیں جن پر ہم تبصرہ ضروری ہے ۔
غربت کا خاتمہ ‘کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق اور شہروں کو مزید نہیں پھیلنے دیں گے ۔۔۔عمران خان
٭۔آپ کی باقی باتوں کو تو ہم ایک طرف رکھتے ہیں ۔رہ گئی بات غربت کے خاتمہ کے دعوے کی ؟ہم تو اس کے برعکس ہی دیکھ رہے ہیں کہ غربت نہیں غریب کا خاتمہ شروع ہوچکا ہے۔
پاکستان کا جواب اتنا شدید تھا کہ آواز دنیا نے سنی ‘بھارت کو اس سے زیادہ لتاڑنا نہیں چاہتے۔۔۔ذرائع دفتر خارجہ
٭۔دفتر خارجہ کی یہ بات بالکل درست ہے کہ پاکستان کے جواب کی شدت پوری دنیا نے سنی لیکن بھارت کو زیادہ نہ لتاڑنے والی بات سمجھ سے باہر ہے اس لئے کہ ستر سال بیت گئے ‘بھارت نے پاکستان کو لتاڑنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ بھارت کاکشمیریوں پر ظلم اور بربریت کا جاری سلسلہ بھی پاکستان کو لتاڑنے کے مترادف ہے۔
لائن آف کنٹرول پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ ‘پاکستانی خاتون سمیت دو شہری شہید،بھارت کی بدمعاشی اور غنڈہ گردی : ایک خبر
٭۔بھارت کی اس بدترین جارحیت پر دفتر خارجہ کی طرف سے بھارت کو زیادہ نہ لتاڑنے والی بات سمجھ سے باہر ہے ؟ہم امن کے داعی ضرور ہیں لیکن بھارت کے لئے ہمارے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ آج تک بھارت نے ہمیں دل سے تسلیم ہی نہیں کیا۔
میرٹھ میں مودی سرکار نے مسلمانوں کے دوسو گھر نذر آتش کردیئے۔۔۔ایک خبر
٭۔ دفتر خارجہ سے ہمارا سوال ہے کہ کیا اب بھی بھارت کو لتاڑنے میں دفتر خارجہ ”ہتھ ہولا “ رکھے گا ؟
مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے تک جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے ۔۔۔ سراج الحق
٭۔سراج الحق صاحب !ہماری رائے میں تو مسئلہ کشمیر جنگ کے بغیر حل نہیں ہوگا ‘ مگر مشکل یہ ہے کہ ہم امن اور انسانیت کی بقاءکے لئے جنگ نہیں چاہتے لیکن کیا کیا جائے کہ بھارت ہماری بات ماننے کو تیار ہی نہیں۔ ہم جنگ سے نہیں ڈرتے ‘کشمیر کا مسئلہ ہر صورت میں حل ہونا چاہیے۔
حکومت کی یہ خواہش ہے کہ ساری اپوزیشن جیل میں ہو۔۔۔سید خورشید شاہ
٭۔خورشید شاہ صاحب !ویسے خدشہ ہمیں بھی یہی ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ ”سنجیاں ہوجان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے “۔
سیاسی یتیم اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں ‘چوہدری نثار کی رکنیت ختم کی جائے۔۔۔وزیر پٹرولیم چوہدری غلام سرور
٭۔چوہدری غلام سرور صاحب !سیاسی بکھیڑوں کے بجائے کچھ عوام کے مفاد میں بھی سوچ لیں‘اب عوام کی جیب پرنئے ڈاکےکی کب ضرورت پیش آئے گی ؟
صاحبو! ہم نے جن چند خبروں پر تبصرے کئے ‘ان میں کوئی بھی خیر کی خبر نہیں تھی ہمارے نزدیک تو ”تبدیلی “ یہی ہے کہ ملک میں ہر طرف انتشار اور افراتفری کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے وہ جادو سیاست کا ہو یا مہنگائی کا ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں