59

خواتین پر تشدد:بھارت بازی لے گیا

سیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بھارت کو خواتین کے لیے دنیا میں سب سے زیادہ خطرناک ملک قرار دے دیا گیا جہاں سب سے زیادہ جنسی زیادتی اور جبری مشقت کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ تھامسن رائٹرس فاو¿نڈیشن کی طرف سے جاری کئے گئے ایک سروے میں خواتین کے تئیں جنسی تشدد، ہیومن اسمگلنگ اور جنسی کاروبار میں دھکیلے جانے کی بنیاد پر ہندوستان کو خواتین کے لئے خطرناک بتایا گیا ہے۔ افغانستان اور سیریا دوسرے اور تیسرے، صومالیہ چوتھے اور سعودی عرب پانچویں مقام پر ہیں۔یعنی پوری دنیا میں ہندوستان، خواتین کے لئے سب سے خطرناک اور غیر محفوظ ملک مانا گیا ہے۔ تھامسن رائٹرس فاو¿نڈیشن کے سروے میں 193ملکوں کو شامل کیا گیا تھا، جن میں سے عورتوں کے لئے ٹاپ 10 بدترین ملکوں کا انتخاب کیا گیا۔
اس سروے میں خواتین کے تئیں جنسی تشدد کے خطروں کے لحاظ سے واحد مغربی ملک امریکہ ہے۔ اس میں یورپ، افریقہ، امریکہ، جنوب-مشرقی ایشیا کے پیشہ ور، ماہر تعلیم، حفظان صحت ملازم، غیر سرکاری تنظیم کے لوگ، پالیسی ساز اور سماجی مبصرین شامل تھے۔اس سے قبل یہ سروے2011 میں ہوا جس میں میں افغانستان، کانگو، پاکستان، ہندوستان اور صومالیہ خواتین کے لئے سب سے خطرناک ملک مانے گئے تھے۔ لیکن اس دفعہ ہندوستان تین پائیدان اوپر کھسک کر پہلے مقام پر آ گیا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ 2011 میں دہلی میں ایک چلتی بس میں ہوئے گینگ ریپ کے بعد ابھی تک خواتین کے تحفظ کولے کر زیادہ کام نہیں کئے گئے
ہیں۔سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2007 سے 2016 کے درمیان خواتین کے تئیں بڑھتے جرائم میں 83 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے۔ساتھ ہی ہر گھنٹے میں 4 ریپ کے معاملے درج کئے جاتے ہے۔ہندوستان ہیومن اسمگلنگ، جنسی تشدد، سماجی اور مذہبی روایتوں کی وجہ سے اور خواتین کو سیکس دھندوں میں دھکیلنے کے لحاظ سے سر فہرست ہے۔متعلقہ وزارت نے اس سروے کے نتیجوں پر کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔سروے میں جواب دینے والوں سے پوچھا گیا کہ 193 اقوام متحدہ کے ممبر ریاستوں میں سے خواتین کے لئے سب سے خطرناک پانچ ملک کون سے ہیں اور صحت، اقتصادی وسائل، ثقافتی اور رسم و رواج، جنسی تشدد، استحصال، غیرجنسی تشدد اور ہیومن اسمگلنگ کے معاملے میں کون سا ملک سب سے خراب ہے۔جواب دینے والوں نے ہندوستان کوہیومن اسمگلنگ، جنسی استحصال اور سیکس سلیوری، گھریلو غلامی اور زبردستی شادی کرانے اور اسقاط حمل کی بنیاد پر بھی خواتین کے لئے سب سے خطرناک ملک بتایا ہے۔افغانستان اقتصادی وسائل، صحت سہولیات کی بھاری کمی اور جنسی تشدد کی وجہ سے تیسرے مقام پر ہے۔وہیں سیریا اورصومالیہ میں طویل عرصے سے چل رہی جنگ کی وجہ سے خواتین کی حالت کافی خراب ہوئی ہے۔سیریا میں صحت سہولیات تک خواتین کی کوئی پہنچ نہیں ہے اور صومالیہ میں ثقافتی اور مذہبی روایتوں کی وجہ سے بھی خواتین پریشان ہیں۔بھارت میں عورتوں کی جان، عزت اور ناموس بری طرح غیر محفوظ ہے۔ بھارت میں عورت جبر و ظلم کا شکار ہے اور اس حوالے سے عالمی جائزوں کے مطابق بھارت دنیا کا خطرناک ترین ملک بن چکا ہے۔ بھارت جہاں بین الاقوامی رائے عامہ کو اپنی نام نہاد جمہوریت کے حوالے سے گمراہ کررہا ہے، وہیں حالیہ تین عالمی رپورٹیں سامنے آنے پر اسے بے حد ندامت کا سامنا ہے۔ ان رپورٹوں میں سب سے پہلے امریکی سی آئی اے کی طرف سے بھارت میں ہندو فرقہ پرست تنظیموں راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی شاخوں اور ویشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو اس کے بھیانک کردار و عمل کی وجہ سے دہشت گردی کی فہرست میں ڈالے جانے کی رپورٹ شائع ہوئی۔ دوسری رپورٹ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی بربریت پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے جاری ہوئی، جبکہ تیسری عالمی رپورٹ ایک برطانوی ادارے کی طرف سے جاری کی گئی، جس پر بھارت کو خواتین کے لیے انتہائی غیر محفوظ ملک قرار دیا گیا۔
سیکولرازم اور مساوی حقوق کے نام نہاد علمبردار بھارت میں گزشتہ چند برسوں میں پیش آنے والے والی جنسی زیادتی کے پے در پے واقعات نے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔بھارتی خواتین کو عوامی جگہوں، خاندانوں اور دفتروں میں ہراساں اور جنسی تشدد کا نشانہ بنانا ایک معمول ہے ہر جگہ عدم تحفظ کی فضاء ہے۔ عوامی مقامات ہوں یا پھر پبلک ٹرانسپورٹ، عورتوں کو کہیں بھی جنسی طور پر ہراساں کر لیا جاتا ہے یا پھر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔بھارتی معاشرے میں خواتین کے ساتھ روا رکھے گئے غیر انسان سلوک کے ردعمل میں بھارت میں سینکڑوں ہندو لڑکیوں نے سماجی اور اخلاقی گراوٹ سے گھبرا کر اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد میں عافیت تلاش کرنا شروع کردی ہے۔ ہندوﺅں میں ذات پات کی تقسیم کی رو سے برہمن اور دلت کے درمیان کھینچی گئی لکیر کے مطابق نیچ (نچلی) ذات قرار پانے ولے دلت ہندوﺅں سے تعلق رکھنے والی سیکڑوں لڑکیوں نے مسلمان لڑکوں کو اپنا جیون ساتھی چننے کے لیے دینی شخصیات کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسی طرح بھارت میں متعصب ہندوﺅں کی پیداکردہ غیر فطری اونچ نیچ کے باعث لڑکے باعزت زندگی گزارنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں، جبکہ لڑکیوں نے سماجی ظلم، ناروا سلوک اور اونچ نیچ سے نجات کا راستہ مسلمان ہونے میں تلاش کیا ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد وہ ہندوﺅں سے تو شادی نہیں کر سکتیں۔ اس لیے مسلمان ہی کو جیون ساتھی بنانا پڑتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں