86

دَب کے ہور لُٹ!

نعرہ تھا، پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا ﷲ، ہمارے 72سالہ کرتوت، نعرہ ہوا، پاکستان کا مطلب کیا؟ دَب کے لُٹ، رَج کے کھا۔ نجی بجلی گھر ڈاکا پھیلتا ہی جا رہا، 9رکنی انکوائری کمیٹی رپورٹ 3سو صفحوں تک جا پہنچی۔

یہ رپورٹ جسے وزیراعظم پبلک کرنے، تحقیقاتی کمیشن بنانے، فرانزک آڈٹ کروانے، 90دنوں میں حتمی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر چکے، یہ بتائے، نجی بجلی گھر مگرمچھوں نے ہمیں 5ہزار 8سو ارب کا ٹیکا لگایا، غلط اعداد و شمار کی آڑ میں مگرمچھ 13برسوں میں 4ہزار 8سو 2ارب کھا گئے، ایندھن چوری سے 209ارب لوٹ لے گئے، منصوبوں کی لاگت بڑھا چڑھا کر 322ارب اضافی لے گئے، مقررہ منافع سے 565ارب زیادہ منافع کما گئے۔

منافع تو دیکھئے، 1994بینظیر بھٹو دور، جو بجلی گھر لگے، ان کی لاگت 50ارب، یہ بجلی گھر اب تک 415ارب کما چکے، 2002مشرف دور، بجلی گھر لگے 58ارب کے، یہ بجلی گھر اب تک کما چکے 203ارب، 2015نواز شریف دور، یہاں تو حد ہی ہو گئی۔

حکومت، نجی بجلی گھر مگرمچھوں کے درمیان منافع طے ہوا 15فیصد، لیکن نجی بجلی گھروں نے منافع کمایا 79فیصد تک، یہاں ایک مثال، رپورٹ کے مطابق میاں منشا کے 3پاور پلانٹس، تینوں کی لاگت 11ارب 19کروڑ، اب تک مبینہ طور پر اضافی کما چکے 51ارب 43کروڑ، اگر ان تینوں پاور پلانٹس کو ان کی مدت پوری ہونے تک چلنے دیا جائے تو پونے 38ارب اور کما جائیں گے، اب آ جائیں گردشی قرضے پر، زرداری دور میں نجی بجلی گھروں کا گردشی قرضہ تھا 228ارب (4ارب ماہانہ) نواز شریف دور میں گردشی قرضہ ہوا 480ارب (10ارب ماہانہ) آج عمران خان دور میں گردشی قرضہ پہنچا 1100ارب پر (41ارب ماہانہ) شوگر مافیا کی طرح نجی بجلی گھر مافیا نے بھی حکومت سے سبسڈی لی۔

مطلب بجلی بیچی، چوریاں کیں، ڈاکے مارے، منافع کمائے، اوپر سے حکومت سے امدادی رقمیں بھی لیں، یہ بھی سن لیں، یہ پی پی، لیگی، مشرف معاہدوں کی برکت، اس وقت پاکستان کو روزانہ ایک ارب کا نقصان ہو رہا۔

پاکستان کا مطلب کیا؟ دَب کے لُٹ، رَج کے کھا، کمال بات یہ، آٹا، گندم اسکینڈل ہو یا چینی گھپلے یا پھر نجی بجلی گھر ڈاکے، زرداری اینڈ اومنی گروپ ہر جگہ، ہاؤس آف شریف ہر جگہ، جہانگیر ترین، خسرو بختیار، رزاق داؤد ہر جگہ، ہاں البتہ ندیم بابر صرف بجلی گھر منصوبوں میں۔

میں صدقے جاؤں جہانگیر ترین، خسرو بختیار جیسے سائنسدانوں پر، کسان سے گنا خریدیں 180روپے فی من، گنے سے چینی بنائیں، چینی من چاہی قیمت پر ایکسپورٹ کریں، ایکسپورٹ پر حکومت سے من چاہی سبسڈی لیں، مارکیٹ میں مصنوعی چینی بحران پیدا کریں۔

مصنوعی چینی بحران کی آڑمیں چینی کی قیمت 16روپے فی کلو تک بڑھا کر اربوں کمائیں اور پھر 180روپے من لیے گئے گنے کا پھوک لائیں اپنے نجی بجلی گھروں میں، اس پھوک سے اپنے بجلی گھر چلائیں، بجلی پیدا کریں، اربوں کما لیں۔

مگر یہ تصویر کا ایک رخ، یہ تو وہ، جو سامنے، اصل کام پردے کے پیچھے، جیسے بینکوں کے قرضے سے شوگر ملیں لگانا، بینکوں کے پیسے سے گنا خریدنا، وہ بھی اپنی مرضی کے ریٹ پر، جیسے بے نامی چینی کاروبار، گھوسٹ ایکسپورٹ اور کچے یاجعلی اکاؤنٹس بنا کر ٹیکس بچانا، یہ سب شوگر انڈسٹری میں، پاور سیکٹر میں ایندھن چوری، پلانٹ پرفارمنس، منصوبہ لاگت بڑھا چڑھا، غلط اعداد و شمار بتا کر پیسے کمانا، مقررہ منافع سے ہزاروں گنا زیادہ منافع لے اڑنا، یہ وہ کام جو یہ سائنسدان کمال سائنسی انداز میں کر رہے۔

پاکستان کا مطلب کیا؟ دَب کے لُٹ، رَج کے کھا، یہ تو بڑے ڈاکے، سرکار کو جس بے رحمی سے لوٹا جائے، ایک چُنی مُنی سی مثال، پارلیمنٹ کی ایک قائمہ کمیٹی برائے امورِ کشمیر، اس کا 9ماہ کا خرچہ 3کروڑ 12لاکھ سامنے آیا، کیسے، ایسے، اعزازی تنخواہیں، 37لاکھ، بیرونِ ملک دورے 80لاکھ، کھانوں کا بل 11لاکھ، پٹرول 6لاکھ، اسٹیشنری خرچہ 97ہزار، قومی اسمبلی سیشن الاؤنس 22لاکھ، خصوصی پارلیمنٹ الاؤنس 18لاکھ، باقی خرچہ چھوڑیں، یہ ایک قائمہ کمیٹی، سینیٹ، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں اور چاروں صوبوں کی سینکڑوں قائمہ کمیٹیاں الگ، اب پچھلے 9ماہ میں کشمیر معاملے پر جو اس قائمہ کمیٹی نے تیر مارے، وہ تو خیر اس قائمہ کمیٹی کو بھی نہیں پتا۔

مگر اپنی بساط اور معدے کے حساب سے جو تیر یہ کمیٹی مار چکی، وہ آپ کے سامنے، ہاں تو بات ہو رہی تھی، نجی بجلی گھر ڈاکے کی، انکوائری رپورٹ بتائے، جہانگیر ترین نے مبینہ طور پر 3ارب 85کروڑ اضافی منافع کمایا، خسرو بختیار خاندان نے مبینہ طور پر ایک ارب منافع اضافی کمایا، جبکہ روش پاور پلانٹ والے رزاق داؤد، 3پاور پلانٹوں کے مالک، حصے دار ندیم بابر نے مبینہ طور پر 36ارب کا اضافی منافع کمایا۔

پاکستان کا مطلب کیا؟ دَب کے لُٹ، رَج کے کھا، اب سوال یہ، ملکی تاریخ کے اس بڑے فراڈ، ڈاکے کا کچھ ہوگا، جواب بڑا آسان، سرے محلوں، ایون فیلڈوں کا کچھ ہوا؟

العزیزیہ، فلیگ شپ، شریف شوگر مل کیسوں کا کچھ ہوا؟ 10والیمز پاناما لیکس، 25والیمز جعلی اکاؤنٹس منی لانڈرنگ، بے نامی اثاثوں، بےنامی جائیدادوں، بےنامی اکاؤنٹوں، بےنامی ٹی ٹیوں کا کچھ ہوا؟ دوائی اسکینڈل، نیب الماریوں اور احتساب عدالتوں میں رُلتے 12سو سے زیادہ میگا کرپشن اسکینڈلوں، ریفرنسوں کا کچھ ہوا؟ کچھ کیس چلے ہی نہیں، جو چلے وہ چلے ہی جا رہے، جن دو چار کیسوں میں سزائیں ہوئیں۔

ان سزاؤں کا نتیجہ آپ کے سامنے، انوکھے ریلیف، انوکھی رعایتیں، انوکھی ضمانتیں، انوکھے فیصلے، لہٰذا حوصلہ رکھیں، پچھلے کیسوں، گھپلوں، فراڈوں، ڈاکوں کی طرح اس بار بھی شور بہت مگر نتیجہ صفر، ہاں! ایک حل، اگر اس کورونا زدہ نظام، اس کورونا زدہ قانون، اس کورونا زدہ جمہوریت کو 6مہینے کیلئے قرنطینہ میں رکھ کر سعودی ماڈل پر بلاامتیاز و تفریق پھینٹیاں لگیں، چھتر مارے جائیں، الٹا لٹکایا جائے، پیٹ چیرے جائیں، معدوں کے آپریشن ہوں تو یقینی طور پر بہت کچھ ہو سکتا ہے، ورنہ اس نظام، اس قانون، اس جمہوریت میں یہ احتساب، وقت کا ضیاع، کچھ حاصل وصول نہیں ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں