36

دُبئی کی عدالت نے بچوں کی لڑائی کے مقدمے کا انوکھا فیصلہ سُنا دیا

دُبئی: بچوں میں سکول، گلی محلے اور پارک میں جھگڑے اور تلخ کلامی ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ روزانہ ایسے واقعات لاکھوں کی گنتی میں پیش آتے ہیں تاہم امارات میں مقیم ایک عرب باشندے کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کے چھوٹے بچے کی ایک حرکت اسے بھاری رقم سے محروم کر دے گی۔ یہ واقعہ راس الخیمہ میں پیش آیا جہاں ایک عرب بچے نے ایشیائی بچے کو بُرا بھلا کہا اور اس کی مار پیٹ بھی کی ۔
جس کے نتیجے میں بچے کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ ہسپتال میں زیر علاج رہا جس پر کافی رقم خرچ آئی۔ ایشیائی بچے کی والدہ نے عرب بچے کے ناروا سلوک کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔خاتون کا موقف تھا کہ عرب بچے کے تشدد کی وجہ سے اس کے بیٹے کو جسمانی اور ذہنی طور پر شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ علاج پر بھی خرچہ آیا ہے۔
اس کے بیٹے کو پہنچنے والے نقصان کا معاوضہ بچے کے والد سے دلوایا جائے۔
پرائمری کورٹ نے عرب بچے کے والد کو حکم دیا کہ وہ ایشیائی بچے کو پانچ ہزار درہم بطور جرمانہ ادا کرے۔کیونکہ بچہ مار پیٹ کی وجہ سے 20 روز تک اپنے کام بھی نہیں نمٹا سکا تھا۔ تاہم عرب شہری کے وکیل نے ایشیائی خاتون کا دعویٰ مسترد کرنے اور مقدمے کے جملہ اخراجات ادا کرنے کا الٹا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت نے خاتون کی جانب سے ہرجانے کے دعوے پر یہ معاملہ سول کورٹ کو بھجوا دیا۔
سول کورٹ نے خاتون کے حق میں فیصلہ سُناتے ہوئے عرب بچے کے والد کو حکم دیا کہ وہ اپنے بچے کی پُرتشدد حرکت کے باعث خاتون کو 70 ہزار درہم بطور ہرجانہ ادا کرے۔جس میں پچاس ہزار درہم کی رقم بچے کے جسمانی نقصان اور 20 ہزار درہم اس کے اخلاقی نقصان کی مد میں دیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مقدمے کے تمام اخراجات اور وکیل کی فیس بھی عرب شہری کو ادا کرنے کا حکم سُنایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں