cell-phones-smartphones 52

ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ ،سمارٹ فون کے بعد اب سستے موبائل بھی عوام کی پہنچ سے باہر

اسلام آباد: حکومت نے درآمدی موبائل فونزپر 1800 سے ساڑھے 18 ہزار تک کی ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا دی، سمارٹ فون کے بعد اب سستے موبائل بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہونے لگے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے آمدن میں اضافہ کے لیے موبائل فونز کی ریگولیٹری ڈیوٹی کے ڈھانچے میں پھر تبدیلی کر دی۔پاکستان میں اب موبائل فون خریدنے والوں کو 41 سو روپے سے زائد کے موبائل فونز پر ایک ہزار 8 سو روپے ٹیکس ادا کرنا ہو گا جب کہ اس سے قبل 8 ہزار روپے کے موبائل فونز پر 250 روپے اور 18 ہزار روپے تک کے موبائل پر 5 سو روپے کی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد تھی۔حکومت کی جانب سے موبائل فونز پر عائد کردہ نئے ٹیکس کے بعد 14 ہزار روپے سے 28 ہزار روپے کے موبائل اب مزید 27 سو روپے مہنگے ہو گئے ہیں ۔اسی طرح 48 ہزار روپے تک کے موبائل فونز پر 36 سو روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔ ساڑھے 69 ہزار روپے تک کے موبائل فونز کی قیمت 10 ہزار 5 سو روپے بڑھ گئی ہے جب کہ 70 ہزار روپے اور اس سے زائد کے موبائل فونز پر اب 18 ہزار 5 سو روپے زیادہ ادا کرنا ہوں گے۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 18-2017 میں درآمدی موبائل کی شرح 847 ملین ڈالر سے زائد رہی، صارفین کہتے ہیں حکمران مہنگے فونز پر ٹیکس بڑھائے مگر غریبوں پر اضافی بوجھ تو نہ ڈالے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں