79

شاہ صاحب کا تھاتھیا

دھیو، بہنوتے بالو کڑیو! پھٹے پُرانے کپڑے، ٹٹیاں بھجیاں جُتیاں،پانڈے وٹالو تے کھیلاں پتاشے کھا لو، نویں پرانے پانڈے کلّی کرالو۔ نواں پاکستان بن گیا جے تے پُرانے نوں بُھل جاوو۔ (بیٹیو، بہنو، نوجوان لڑکیو، پھٹے پرانے کپڑے، ٹوٹی جوتیاں تبدیل کراکے نئے پرانے برتن کلّی کروالو اورکھیلاں بتاشے کھالو۔ نیا پاکستان بن چکا ہے اور پُرانے کو بھول جاﺅ)۔ آج پُرانے پاکستان میں غریبوں کی بستیوں میں لگنے والی یہ صدا دل سے اک آہ بن کر نکلتی ہے کہ جب عمرانی سرکار کی حرکتیں دیکھتے ہیں تو خیال یہی آتا ہے کہ یہ حکمران پورے پاکستان کو غریبوں کی بستی بنانے کی خاطر گلی گلی یہی صدا لگا رہے ہیں اور غریبوں کے پُرانے کپڑے، جوتیاں ، برتن تک بکوا کر ہی دم لیں گے اور صرف وقتی طور پر زبان کے چسکے کی خاطر ”کھیلاں بتاشے“ ہی دیں گے۔ پیٹ بھر کر کھانے کو روٹی نہیں ملے گی۔ یعنی عوام کو ٹھینگا، مشیر خزانہ اور لم ڈھینگ خزانہ صاحب کو اس ملک کی بربادی کا ٹھیکہ ہی ملے گا۔ عمرانی سرکار کی ایک خوبی تو یہ ہے کہ جو کہتی ہے کرکے دکھاتی ہے۔ دیکھیں نا عوام کی چیخیں نکلوانے کا جو وعدہ کیا تھا لم ڈھینگ خزانہ صاحب نے پورا کر دکھایا۔ اب تو یوتھیے بھی عش عش کراٹھے ہیں،سیاسی وارداتیے بھی بڑے کمال کے لوگ ہوتے ہیں، خصوصاً جیب کترے، عوام کی ایسی جیب کاٹتے ہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ متاثرہ شخص کو اسی وقت پتہ چلتا ہے جب وہ لٹ چکا ہوتا ہے لیکن یہ وارداتیے تو دن دیہاڑے ناکے لگا کر عوام کو جگہ جگہ لوٹ رہے ہیں اور ان کے خلاف کسی تھانے ، کورٹ کچہری میں فریاد بھی نہیں ہوسکتی۔ اتوار کی چھٹی کے دن جب سڑکیں ویران تھیں عوام محو خواب خرگوش تھے، لم ڈھینگ خزانہ صاحب نے پٹرول بم چلا کر ہر طرف صف ماتم بچھا دی۔ غریبوں کی لاشیں گرا دیں۔ عوام کی چیخیں نکلوا دیں۔ تاریخ اس سانحے کو کبھی نہیں بھولے گی۔ اس کے کرداروں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یہ جو گلی گلی غریب بین کرتے ، دیواروں سے سر ٹکراتے بددعائیں دے رہے ہیں آپ دیکھیں گے بہت جلد یہ تمام قومی مجرم لائن بنائے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے مگر انصاف پھر بھی نہیں ملے گا ، عوام کی چیخیں اسی طرح نکلتی رہیں گی۔ یہ سب وارداتیے پھر بھی کہتے ملیں گے کہ جو کچھ کیا اس ملک کے مفاد، خوشحالی و ترقی کے لئے کیا۔ یہ دھوکے باز بڑی ہوشیاری سے نوسر بازی کر رہے ہیں جس دن پٹرول بم چلایا گیا تو ریسکیو کی خاطر ادارہ شماریات میدان میں آیا کہ مرغی، انڈے، گوشت ، سبزی کی قیمتوں کی بنیاد پر مہنگائی کی شرح کم ہونے کے نام نہاد اعداد و شمار پیش کردیئے اور دوسرے ہی دن اسی ادارے نے پلٹا کھایا اور پانچ سال میں مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹنے کا اعتراف کرلیا۔ پٹرول نے مہنگائی کے فیتے کو ایسی آگ لگائی کہ ڈالر بھی قابو سے باہر ہوگیا۔ پاکستان سٹاک ایکس چینج کی بھی چیخیں نکل گئیں۔ رہی سہی کسر عمرانی سرکار کے زیر انتظام یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے ”سمارٹ بموں“ نے آٹے ، دال ، چاول اور دیگر اشیاءکی قیمتوں میں گیارہ سے پچاس روپے فی کلو اضافہ کرکے رمضان سے قبل ہی غریبوں کو روزے رکھوا دیئے۔ کوئی خدا کا خوف نہیں، کیا کسی نے اپنے رب کو جان نہیں دینی؟ کیوں اقتدار کی خاطر اپنی آخرت خراب کرتے ہو؟ غریبوں کی بددعاﺅں سے ڈرو، ماﺅں، بہنوں ، بیٹیوں کی آہوں سے بچو، وہ وقت دور نہیں کہ جب یہ شاہی گدائی میں بدل جائے گی۔ تم کہتے ہو غریب متاثر نہیں ہوگا، امیروں کا پیٹ پھاڑ کر پیسہ نکلوا کر غریبوں کی جھولی میں ڈالوں گا۔ کیا تم بے حس لوگ یہ نہیں جانتے کہ اب توحالت یہ ہوگئی ہے کہ بڑے بڑے شاہ، خزانوں کے مالک کنگال ہوگئے ہیں اور صدائے گدا لگانے پر مجبور ہیں۔جو سفید پوش تھے تم نے تو ان کے تن بدن سے بھی کپڑا چھین لیا، تم نے اس قوم کی تقدیر تو کیا بدلنی تھی سب کو بھکاری بنا دیا۔ اے بنی گالا کے شاہی مکین !تم وہ نہیں ہو جو ہم سمجھے تھے۔ تم نے ہم سے دھوکہ کیا ہے، تمہیں کیا خبر کہ بنی گالا کے باہر گندی نالیوں، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، تعفن زدہ گلی محلوں میں بھوک کس طرح ننگی ناچ رہی ہے اور اس برہنہ رقص پر بھی تماش بین نوٹ نچھاورکرنے کو تیار نہیں۔ وزیر خزانہ کی عقل گھٹنوں میں پھنسی ہے جو آج عوام کی چیخیں سن سن کر عرب شیوخ کی طرح بچوں کی اونٹ ریس میں اس بات پر خوش ہو رہا ہے کہ جو کہا کر دکھایا۔ کچھ توخدا کا خوف کرو۔ ذرا پیچھے مڑ کر دیکھو۔ سیالکوٹ، فیصل آباد، کراچی، لاہور جیسے شہروں سے سرمایہ اُڑ کر باہر جا چکا ہے۔ بینکوں سے روپیہ غائب، صنعتوں کا پہیہ جام ہوچکا اور تم پٹرول، ڈالر کی گیم میں چند لوگوں کی دیہاڑیاں لگوا کر اے ٹی ایم مشینوں کو فل کرنے پر تلے ہو اور انہیں اپنا سہارا سمجھتے ہو ، یاد رکھو! انصاف اندھا ہوتا ہے یہ کسی کو بھی شکنجے میں لے سکتا ہے، جس دن انصاف ہوگا ڈالر پٹرول کے کھیل میں روپیہ پیسہ بنانے والوں کے گریبانوں تک آئے گا۔ سب کچھ نظر آرہا ہے بس کچھ اندھے لوگوں کو سمجھ نہیںآرہی کہ آخر اس کھیل میں کچھ لوگ بڑی تیزی سے اپنی تجوریاں بھرنے کے چکر میں ہیں۔ انہیں عمرانی سرکار کے مستقبل کا یقین نہیں، وہ چاہتے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو اپنے ہیلی کاپٹروں، جہازوں، گاڑیوں کا کرایہ وصول کرکے پیچھے ہٹ جائیں۔ جناب خان صاحب! نیا پاکستان پرانے پاکستان سے زیادہ کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے، پنجاب کے ہر محکمے میں آپ کے لوگ پرچی مافیا کا حصہ بن چکے ہیں۔ لوٹ مار کے نئے ریکارڈ قائم کئے جارہے ہیں۔ ایسے لگ رہا ہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی کی طرح تحریک انصاف میں بھی ایسے بھوکے ننگے لوگ شامل ہوگئے ہیں جو ساری عمر امیروں کو گالیاں دیتے رہے کرپٹ کہتے رہے جب اقتدار ملا تو وہ بھی ہوس کے پجاری نکلے اوراب یوتھیے بھی دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کررہے ہیں کہ پتہ نہیں یہ اقتدار رہے یا نہ رہے، جیب میں پیسہ ہوگا تو ہم بھی زرداری، نواز شریف کی طرح سیاست میں رہیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ پہلے والے حکمران عقل مند وارداتیے تھے، انہیں لوٹ مار کا ہنر آتا تھا۔ آپ کے لوگ تو بڑے اناڑی نکلے اور کھلے عام جیبیں بھر رہے ہیں یہ جو ملتان کے شاہ صاحب! نے تھا تھیا شروع کر دیا ہے کہیں مستقبل میں ٹھا ٹھیا نہ کردے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ شاہ صاحب ”موسیقار“ کے بغیر نئی دھن تیار کرسکیں۔حیرت اس بات پر ہے کہ شاہ صاحب کے ساتھ طبلہ نوازی کے فرائض جناب گورنر پنجاب چودھری محمد سرور انجام دے رہے ہیں۔ کئی سارنگیاں بھی بجیں گی۔ ذرا محتاط ہو جائیے، نئی فلم کے گانوں کی دھنیں تیار کی جارہی ہیں جلد طبلے کی تال پر دھمال پڑے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں