135

علاقائی اخبارات قومی ضرورت ہیں

وسیع سائنسی علم اور ٹیکنالوجی کی حیران کن ترقی کے باعث دنیا سمٹ کر انسان کی مٹھی میں بند ہو چکی ہے۔ آپ لاڑکانہ یا اوکاڑہ کی بستی میں ہوں یا واشنگٹن ڈی سی اور مانچسٹر میں، جما دینے والی سردی کے حامل کسی براعظم کے دور افتادہ علاقے میں ہوں یا کسی ایسے سلگتے صحرا میں جہاں اردگرد تاحد نگاہ ریت کا ایک سمندر ہو مگر حضرت انسان نظر نہ آئے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ دنیا کے کس علاقے میں ہیں، ہاں فرق اس سے پڑتا ہے کہ آپ ٹیکنالوجی کا استعمال کس حد تک جانتے ہیں۔ ٹیکنالوجی میں ترقی اور اس کا استعمال جس قدر وسیع ہورہا ہے، دنیا اسی قدر سمٹ رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے جہاں مختلف آلات اور مشینیں استعمال ہو رہی ہیں وہاں الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا بھی دور جدید کی ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کررہا ہے اوراپنے قارئین و سامعین اور ناظرین کے سامنے نت نئی خبریں، اطلاعات اور معلومات رکھ رہا ہے۔ عوام الناس تک جو خبریں، اطلاعات اور معلومات بہم پہنچائی جارہی ہیں اس کے پیچھے کوئی تو نیٹ ورک ہے جو ایک منظم و مربوط طریقے سے خبر رسانی کا یہ کام کررہا ہے۔ یہ نیٹ ورک مقامی و علاقائی صحافیوں کا ہے جن کی اہمیت آج کے جدید ترقی یافتہ دور میں بھی کم نہیں ہوئی یعنی جو ٹیکنالوجی خبر رسانی اور معلوما ت کی فراہمی کے لئے بنائی گئی ہے اس میں اگر اطلاعات و معلومات اور خبروں کا ماخذ، علاقہ اور ذریعہ نکال دیا جائے تو یہ ٹیکنالوجی بذات خود بے سود ثابت ہوگی البتہ دیگر فوائد کی حامل ٹیکنالوجی اپنے اپنے دائرہ کار کے اندر بہت سُود مند ہوسکتی ہے۔ لہٰذا خبر رسانی کا ذریعہ (علاقائی صحافی) اس سارے کھیل کا مرکزی کھلاڑی ہے جس کے بغیر جدید ٹیکنالوجی کے باوجود اس سے بھرپور استفادہ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا اور یہ شاہین کا تجسس اور چیتے کا جگر رکھتا ہے تب ہی اپنے اخبار کا پیٹ بھرتا ہے۔
علاقائی صحافی سے علاقائی صحافت کا تصور ابھرتا ہے جس کی اہمیت کو دورِ حاضر میں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک وقت تھا جب اطلاعات کی ترسیل کا نظام مربوط و منظم تھا، نہ ہی آسان، اس وقت علاقائی اخبارات ہی تھے جو اپنے علاقوں کی سیاست، سماج، تہذیب و تمدن، فن و ثقافت، رسم ورواج ، تجارت و معاش، معاشرتی رجحانات اور علاقائی مسائل کو اجاگر کرکے اپنی آواز نہ صرف مقتدر حلقوں تک پہنچاتے تھے بلکہ دیگر علاقوں کو بھی اس سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ دیکھا جائے تو اخبارات آج بھی یہ فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ یہ علاقائی اخبارات سے جڑے نمائندوں کا ہی نیٹ ورک ہے جس سے قومی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا استفادہ کرتا ہے۔
الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے موجودہ ترقی یافتہ دور میں علاقائی اخبارات کی اہمیت دو چندہوئی ہے۔ مثال کے طور پر صادق آباد یا سرگودھا کے کسی دور افتادہ گاﺅں میں اگر ماحول سے متعلق کوئی ایسی تبدیلی ہوئی ہے جو غیر معمولی ہو تو علاقائی اخبارات کے ذریعے وہ قومی اخبارات اور پھر عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کرے گی جس کی طرف ماہرین ماحولیات اور ماہرین ارضیات فوری توجہ دیں گے اور ریسرچ کے ذریعے اس کی وجوہات تلاش کریں گے اور تدارک کا طریقہ کار وضع کریں گے۔ ثابت ہوا کہ مقامی سطح کا کوئی اخبار کس قدر اہم کردار ادا کرسکتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ علاقائی صحافت تیزی سے پنپ رہی ہے لہٰذا علاقائی اخبارات مزید اہمیت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ آج ہماری قومی و صوبائی اسمبلیوں میں خواتین، بچوں، کسانوں، استحصال زدہ طبقات اور انسانی حقوق سے متعلق جتنے بھی قوانین منظور ہوئے ہیں ان میں علاقائی اخبارات کی رہنمائی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ شہروں سے سیکڑوں میل دور جہاں کی آبادی بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہوتی ہے، جہاں جاگیردار اپنے ہاری، مزارع اور بستی کے عام باسیوںکو اپنا غلام سمجھتا ہے وہاں ظلمت کے اس انسانیت سوز نظام میں علاقائی اخبارات ہی ہیں جنہوں نے جرا ¿ت کی شمع روشن کی اور انسان کو اس استحصالی نظام سے نجات دلائی۔ علاقائی اخبارات نے مقامی قیادت، سیاسی ، سماجی، تعلیمی، معاشی اور دیگر شعبوں کے مسائل ہمیشہ خوش اسلوبی سے اجاگر کئے، یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ علاقائی اخبارات سے زیادہ منسلک ہیں۔ قومی و بین الاقوامی سطح کی معلومات انہیں ٹی وی اور قومی اخبارات سے حاصل ہو رہی ہیں مگر قومی اخبارات میں جگہ نہ ہونے اور ٹی وی پر وقت نہ ہونے کے باعث ان کے اصل مسائل قومی میڈیاکی مجبوریوں کی دبیز تہہ تلے جم کر ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے میں صرف علاقائی اخبارات ہی ہیں جو نہ صرف ان کے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں اور پانی، صحت، تعلیم، سماجی بہبود،گلیوں محلوں اور سڑکوں کے مسائل علاقائی انتظامیہ اور سیاسی قیادت کے ذریعے حکام بالا تک پہنچاتے ہیں بلکہ علاقے کی مو ¿ثر آواز کے طور پر ایوان اقتدار کی فضاﺅں کو مرتعش رکھتے ہیں۔ علاقائی خبروں کے لئے جس طرح جدید میڈیاعلاقائی صحافتی نیٹ ورک کامرہون منت ہے اسی طرح اپنی آواز پوری دنیا تک پہنچانے کے لئے اب علاقائی اخبارات بھی جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہے ہیں اور اپنی ویب سائٹ کے ذریعے کمپیوٹر اورموبائل پر موجود ہیں۔
پاکستان میں علاقائی اخبارات ایسے اخبارات کو کہا جاتا ہے جو اسلام آباد، کراچی اورلاہور کے علاوہ دیگر شہروں سے نکلتے ہیں اور ان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان کی پالیسی کے مطابق متذکرہ تین بڑے شہروں سے شائع ہونے والے اخبارات کے علاوہ ملک بھرسے شائع ہونے والے دیگر سب اخبارات علاقائی اخبارات کے زمرے میں آتے ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل انہیں ”مفصل اخبارات“ کا درجہ حاصل تھا۔ پاکستان بننے کے بعد کوئٹہ میں علاقائی اخبارات کے مالکوں اور ایڈیٹروں کاایک کنونشن منعقد ہوا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ علاقائی اخبارات کی کیٹیگری کا نام ”مفصل“ سے تبدیل کرکے ”علاقائی“ کر دیا جائے۔ جس پر وفاقی حکومت نے علاقائی اخبارات کی حوصلہ افزائی کے لئے جہاں کچھ اچھے اقدام اٹھائے وہیں ان کا یہ مطالبہ منظور کرکے ان کی کیٹیگری کا نام ”علاقائی“ کر دیا۔
قیام پاکستان سے قبل کی تاریخ میں جھانکیں تومعلوم ہوگا کہ تحریک پاکستان میں بھی علاقائی اخبارات کا بہت اہم کردار رہا ہے۔یہ علاقائی اخبارات ہی تھے جنہوں نے ایک طر ف تو مسلمانان برصغیر کا لہو گرمایا اور ان کے دلوںمیں آزادی کی تڑ پ پیدا کی تو دوسری طرف قائداعظم محمد علی جناحؒ سمیت دیگر قومی قیادت کو اپنے اپنے علاقوں کااحوال مسائل، لوگوں کا نقطہ نظر اور مطالبات و تجاویز کو اپنے اداریوں، کالموں، مضامین، فیچر اور خبروں کے ذریعے بہم پہنچایا۔ اس طرح تحریک پاکستان میں علاقائی اخبارات نے دو طرفہ حصہ ڈال کر تاریخی فریضہ انجام دیا۔ لائل پور کے سعادت اورکوئٹہ اور پشاورسے شائع ہونے والے کچھ پرچوں نے تو تحریک پاکستان میں اس قدرمتحرک کردار ادا کیا کہ جناح و اقبال کے سپاہی ہونے کا حق ادا کر دیا۔ یہ وہ علاقائی اخبارات تھے جو مسلمانان برصغیر کی حالت زار پر تڑپ اٹھے تھے اور ان کی آزادی کے لئے کلمہ ¿ حق بلند کرچکے تھے۔
علاقائی اخبارات کا یہ قومی و ملی کردار پاکستان بننے کے بعد بھی ختم نہیں ہوا بلکہ اب تک جاری و ساری ہے جس کے تحت انہوں نے اپنے علاقوں کے مسائل حکام بالا تک پہنچانے کا فریضہ ایک تسلسل کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد لائل پور کے چار روزناموں روزنامہ غریب، روزنامہ عوام، روزنامہ سعادت اور ڈیلی بزنس رپورٹ نے ملک کے سیاسی و سماجی اور اقتصادی میدان میں جو تعمیری کردار ادا کیا آج ان کے طفیل ہی پاکستان میں بہت سی مثبت تبدیلیاں اور راحتیں و سہولتیں میسر ہیں۔ کوئٹہ سے روزنامہ زمانہ، پشاور سے روزنامہ الفلاح اور روزنامہ شہباز، ایسے علاقائی اخبارات تھے جنہوں نے علاقائی تعمیر و ترقی میں گراںقدر خدمات انجام دیں۔لائل پور کے روزنامہ عوام نے جناب ظہیر قریشی کی زیر ادارت علاقائی اخبار کا ایک مکمل ماڈل پیش کیا۔ اس اخبار میں پیشانی سے پرنٹ لائن تک تمام مواد مقامی اور علاقائی اہمیت کو پیش نظررکھ کر شائع کیا جاتا تھا۔ علاقائی اخبارات کو اس دور میں اس قدر اہمیت حاصل تھی کہ سرگودھا کے ایک کمشنر نے ”تجارت“ سرگودھا کے زیر اہتمام منعقد ہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”نماز اور تلاوت کلام پاک کے بعد میں اپنی صبح کا آغاز ”تجارت“ کے مطالعہ سے کرتا ہوں۔ اس سے مجھے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں میرے ڈویژن میں کیا اہم واقعات رونما ہوئے اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں مجھے کیا فرائض انجام دینے ہیں۔“
یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ علاقائی اخبارات اپنے اپنے علاقے کے مسائل واضح کرنے کے ساتھ قومی اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لئے بھی ایک نرسری کا کردار ادا کررہے ہیں۔ آج قومی میڈیا میں نمایاں مقام رکھنے والے اکثر صحافیوں نے ابتداءمیں علاقائی اخبارات میں ہی اپنے جوہر دکھائے اور ان اخبارات کی سیڑھیاں چڑھ کر ہی قومی سطح پر اپنی شناخت بنائی۔ آج قومی اخبارات کے پاس اتنی جگہ نہیں کہ وہ ڈاک ایڈیشن میں بھی علاقائی مسائل کو جگہ دیں مگر علاقائی اخبارات کو وہ وسائل میسر نہیں جو ان کے تعمیری کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مہیاکئے جانے چاہئیں ۔ اگر آج دانستگی یا نادانستگی میں علاقائی اخبارات کا گلا گھونٹا گیا اورانہیں قومی میڈیا کی دبیز تہہ تلے دفن کرکے ان کے معاشی قتل کی طرف قدم بڑھایا گیا تو ہم اپنی روایات و ثقافت اور تہذیب و اقدار کی ترویج اور مسائل کو اجاگر کرنے سے ہی محروم نہیں ہوں گے بلکہ اسلاف کے ان پودوں کی جڑیں کاٹتے ہوئے اس شجر سایہ دار سے محروم ہو جائیں گے جس کی چھاﺅں تلے جناح کے قافلے نے قیام کیا، جس کو مولاناظفر علی خان اورمحمد علی جوہر نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور انہی علاقائی اخبارات کے دم قدم پر ”تحریک پاکستان“ کو ”تشکیل پاکستان“ کے خوش نما اور جاذب نظر پورٹریٹ میں ڈھالا جہاں آج مادر وطن کی آزاد گود میں قومی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیاپھل پھول رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں