36

فرانسیسی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی‘ گستاخانہ خاکوں اورفرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیان پراحتجاج ریکارڈ کروایاگیا

اسلام آباد: پاکستان نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر میکرون کی جانب سے اسلام مخالف بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فرانسیسی سفیر کو دفترخارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے. تفصیلات کے مطابق پاکستان میں تعینات فرانس کے سفیر کو آج دفتر خارجہ طلب کرکے انہیں مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا گیا اور انہیں ایک احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا ہے‘قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مذکورہ معاملے پر پاکستان نے فرانسیسی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا ہے تاکہ ان کو احتجاج ریکارڈ کرایا جائے.
ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ اسلام کے خلاف نفرت انگیز بیانیے اور گستاخانہ خاکوں کا نوٹس لے اور موثر کارروائی کرے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام مخالف بیانیے اور گستاخانہ خاکوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں دوارب کے قریب مسلمانوں کی دل آزاری کرے، آج جو نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں اس کے نتائج شدید ہوں گے.
انہوں نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے پوری دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے جبکہ فرانس کے صدر کے غیرذمہ دارانہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں ایک جامع قرارداد پیش کی جائے گی، جس میں 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر منانے کی تجویز دی جائے گی.
دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ٹرینڈ ہے جس کی نشاندہی پہلے کرچکے ہیں، کچھ عرصے قبل چارلی ہیبڈو نے گستاخانہ خاکوں کا پروگرام منعقد کرنے کی کوشش کی جس پر پاکستان نے اپنا ردعمل ظاہر کیا انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے، جس کی وزیراعظم عمران خان نے نشاندہی کی تھی اور کہا تھا کہ اس پر قابو نہیں پایا تو معاملات بگڑیں گے، ساتھ ہی انہوں نے تاریخی ہوا دیا تھا کہ جب ہولوکاسٹ کی صورتحال سامنے آئی تو مہذب معاشروں نے اس پر ردعمل دیا اور اس پر قدغن لگائی.
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اسی سلسلے میں وزیراعظم نے فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کو خط لکھا ہے کہ جب ہولوکاسٹ پر پابندی لگ سکتی ہے تو اسلام مخالف مواد پر بھی پابندی لگنی چاہیے انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وقت آگیا ہے کہ اس پر ایک اجتماعی فیصلہ ہونا چاہیے اور دنیا کے مہذب ممالک کو اس سے آگاہ کرنا چاہیے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں