37

فرانسیسی صدر نے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا،عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فرانسیسی صدر نے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے، گستاخانہ خاکوں کی حوصلہ افزائی سے اسلام اور پیغمبراسلام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہالت پر مبنی بیانات، نفرت، اسلاموفوبیا اور انتہاء پسندی کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے فرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیانات پر اپنے شدید ردعمل میں کہا کہ لیڈر کی پہچان ہے کہ وہ لوگوں کومتحد کرتا ہے۔
نیلسن منڈیلا نے لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کیا۔ فرانسسی صدر انتہا پسندی مسترد کرنے کی بجائے تقسیم بڑھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے صدر میکرون تقسیم کے بجائے انتہاء پسندی روکیں۔ گستاخانہ خاکوں کی حوصلہ افزائی سے اسلام اور پیغمبراسلام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسلام کو سمجھے بغیرنشانہ بنانے نے دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے۔
عمران خان نے کہا کہ تقسیم بنیاد پرستی کا سبب بنتی ہے۔ لیکن جہالت پر مبنی بیانات، نفرت، اسلاموفوبیا اور انتہاء پسندی کو فروغ دیں گے۔ اسی طرح گزشتہ روز ترک صدر طیب اردوان نے بھی فرانسیسی صدر کے بیانات پر سخت ردعمل دیا اور کہا کہ دماغی مریض ہے اسے علاج کی ضرورت ہے۔ مساجد بند کرنے اور مسلمانوں کیخلاف کریک ڈاون پر ترک صدر کی جانب سے فرانس اور یورپ پر شدید تنقید کی گئی ہے۔
ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں رجب طیب اردگان کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور مساجد کی بندش کے معاملے پر فرانس اور یورپ کی ٹھیک ٹھاک کلاس لی گئی۔ طیب اردگان کا کہنا ہے کہ اسلام دشمنی کے چکر میں یورپ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ اسلام دشمنی یورپ کو لے ڈوبے گی اور وہ خود اس چکر میں پڑ کر اپنے آپ کو ختم کر لے گا۔ مسلمان مخالف اتحاد یورپین ممالک کو ڈوبا دے گا۔
یورپ اسلام اور مسلمان دشمنی کی اس بیماری سے جلد ہی باہر نہ آیا تو پورا یورپ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ ترک صدر نے فرانسیسی صدر میکرون کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کیخلاف بیان بازی کرنے والا فرانسیسی صدر دماغی مریض ہے جسے علاج کی ضرورت ہے۔ طیب اردگان نے پیش گوئی کی ہے کہ تعصبانہ سوچ کی وجہ سے فرانسیسی صدر کو انتخابات میں شکست ہوگی۔
2022 کے بعد میکرون فرانس کے صدر نہیں ہوں گے۔ واضح رہے کہ کچھ روز قبل فرانس کے دارالحکومت پیرس میں حضورﷺ کے خاکے دکھانے والے ایک استاد کو ایک مسلمان نوجوان کی جانب سے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد فرانسیسی صدر کی جانب سے مسلمانوں کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے فرانس میں مسلمانوں کیخلاف سختیاں کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ فرانس میں گزشتہ چند روز کے دوران کئی مساجد کو زبردستی بند کروا دیا گیا ہے۔ جبکہ مسلمانوں پر مزید پابندیاں بھی عائد کیے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں