164

فیصلہ عوام کو کرنے دیں

شادیانے بجاﺅ، منادی کراﺅ، ڈھول کی تھاپ پر رقص کرو، لڈی اور دھمال ڈالو، ذرا جھوم کے ناچو، دشمنوں کو خبر کر دو، دوستوں کے گھر مٹھائی بھیجو، کُل عالم ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کر دو۔ ہمارا خان جیت گیا، عمران خان کا دور آگیا، وزیراعظم عمران خان کے نعرے نے حقیقت کا روپ دھار لیا۔ ہمارے خان کی دو دہائیوں سے جاری سیاسی جدوجہد رنگ لے آئی۔ اس کے چہیتے وزیر بن رہے ہیں اور مانگے تانگے کے لوٹے مشیر۔ ملک بھر میں ہر طرف تبادلوں کا جھکڑ چل رہا ہے، بیورو کریسی کی میرٹ پر تعیناتیاں ہونے لگی ہیں۔ پنجاب میں شاہ محمود قریشی ، علیم خان کے درمیان وزارت اعلیٰ کے معاملات طے پا گئے ہیں۔ اب لوٹوںکی باری ہے، ہر کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ ترین وزارت اور منصب کی تمنا لئے خان صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کررہا ہے، اختلافات بھی ہیں ، دلیل بھی ہے، دھمکی بھی ، مگر ہمارا وزیراعظم خان بڑا دلیر اور حوصلہ مند ہے۔ وہ ناراض ساتھیوں کو منانا بھی جانتا ہے اورلوٹوں کو ٹالنا بھی ۔ صورت حال بڑی خوش کُن ہے۔ ایف آئی اے، پولیس، نیب تمام قانون نافذ کرنے والے اداروںکو مکمل بااختیار اور سیاسی دباﺅ سے آزاد کرنے کے وعدوں پر عمل ہونے لگا ہے۔ یہ منظر25 جولائی کے عام انتخابات کے بعد جب آنکھوں کے سامنے گھومتا ہے تو ایک نیاپاکستان نظر آنے لگتا ہے۔ دل جھوم جھوم جاتا ہے، دل سے دعائیں نکلتی ہیں، ان سب کے لئے جنہوں نے عمران خان کو اقتدار میں لانے کی زبردست تدبیریں کیں، پیسہ لگایا، سڑکوں پر دھرنے دیئے، احتجاج کیا، جگہ جگہ انصاف کا بول بالا اور کرپشن کا منہ کالا کرنے کے نعرے بلند کئے مگر پھر دل بجھ سا جاتا ہے کہ جب پیچھے مڑ کر بہت سارے منظر بدلتے دیکھتا ہوں کہ عمران خان کو اقتدارمیں لانے کے لئے جو جو پاپڑ بیلے گئے جس کسی نے بھی اس”ایثار“ میں حصہ ڈالا، قربانیاں دیں، وہ قابل ستائش ہے یانہیں مگر جب مورخ تاریخ کا پہیہ گھمائے گا کہ مضبوط، مستحکم اور خوبصورت پاکستان بنانے کی ”مخلصانہ “ کوششوں میں کچھ ایسی بڑی کوتاہیاں بھی ہوگئیں جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں نے بھگتا۔ ایک سابق وزیراعظم اور اس کی بیٹی بیرون ملک ایک متنازعہ جائیداد رکھنے کے الزام میں مجرم قرار پائے اور وہ مجرم تاریخ میں پہلی بار بیرون ملک سے خود چل کر اپنی بیٹی کے ہمراہ جیل کاٹنے پاکستان آئے۔ یہ ایک ایسی داستان ہوگی جسے ”ووٹ کو عزت دو“ کے نام پر پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک نئے انداز میں رقم کیا جائے گا۔ احتساب سے انصاف، انصاف سے سزا تک کے مراحل تو بآسانی طے ہو جاتے ہیں مگر قید کاٹنے کا عمل اور وہ بھی اپنی بیٹی کے ساتھ تاریخ کا ایک انوکھا باب تصور کیا جائے گا۔ ایک شخص اپنے ملک، اپنی عزت، سیاسی بقائ، جمہوریت کی بالادستی کی خاطر ایک ایسے مرحلے میں وطن واپس لوٹے کہ بیوی ہسپتال میں موت وحیات کی کشمکش سے گزر رہی ہو اور بوڑھی والدہ گھر میں دعاﺅں کے ساتھ اس کی منتظر ہو، یقینا حوصلے ، ہمت اور جذبے والا کام ہے۔مورخ یہ بھی لکھے گا کہ ” تاریخی چور“ یا ”عادی چور“ میں فرق یہ ہوتا ہے کہ ”تاریخی چور “ حالات کاڈٹ کر مقابلہ کرتا اوراپنی خوشی غم کو ایک طرف رکھ کر تاریخ کی سمت صحیح رقم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور مصلحت کا شکار نہیں ہوتاجبکہ ”عادی چور“ حالات و واقعات سے آنکھیں چراتا ہے، پکڑے جانے کے خوف سے کبھی ایک ٹھکانہ تو کبھی دوسرا ٹھکانہ بدلتا ہے۔ وہ قانون کا سامنا کرنے سے ہمیشہ ڈرتا ہے اور قانون کی گرفت سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ مورخ لکھے گا یہاں ”عادی چوروں“ کی ایک قسم پہلے سے موجود تھی جسے قانون نے اپنے شکنجے میں نہ لیا اور نہ ان عادی چوروں نے بیرون ملک سے وطن واپس آنے کی ہمت دکھائی اور قانون نے آنکھیں بند رکھیں اور زبردستی تاریخ کا دھارا بدلنے کی کوشش کی۔ مورخ یہ بھی لکھے گا کہ سزا اور جزاءکے اس عمل کے دوران انتخابی مہم جس انداز میں جاری تھی وہ قابل ستائش یا قابل تقلید کسی بھی صورت قرار نہیں دی جاسکتی۔ ایک شخص نے قانون کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا ،وہ سزا بھگتنے کو تیار تھا اور بلا جھجک زندان میں چلا گیا مگر اس کی جماعت کو آزادی سے الیکشن لڑنے کاماحول فراہم نہ کیا گیا۔ مورخ کا قلم اس وقت کانپے گا جب وہ یہ لکھے گا ایک شخص کو اقتدارمیں لانے اور بڑی سیاسی جماعت کے ووٹ بینک کو ختم کرنے کی خاطر”تاریخی چور“ کے خوف سے تمام راستے بند کر دیئے گئے، جگہ جگہ ناکے لگے، انٹر نیٹ موبائل سروس جام کرنا پڑی، ذرائع ابلاغ کو غیر معمولی، غیر اعلانیہ دباﺅ کا سامنا کرنا پڑا جس کی ضرورت نہ تھی وہ بھی کیا، ہر طرف ہا ہا کار مچی، سیاسی کارکنوں، انتخابی امیدواروں کی بے دریغ گرفتاریاں ہوئیں، پنجاب کا پہیہ جام ہوا مگر وہ اپنے بیانیے میں کامیاب ہوا۔ مورخ تاریخ کو درست رکھنے کے لئے یہ بھی لکھے گا کہ ایک عادی چور گھر سے عدالت کی طرف نکلا، راستے میں گھبراہٹ سے طبیعت خراب ہوئی، اسے خصوصی طور پر ہسپتال لے جایا گیا، وہاں سے وہ بیرون ملک فرار ہوا۔ مگر وہ وطن واپس لوٹا نہ گرفتار ہوا۔ سیاسی تاریخ کے اس باب میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ ن لیگ کے کارکنوں نے یہ روایت بھی توڑ دی کہ وہ مزاحمتی سیاست نہیں کرسکتے اوریہ پیغام دیا کہ لیڈر کا حکم ہو تو احتجاج پُر امن بھی ہوسکتا ہے اور جذبات پر کنٹرول رکھ کر آگے بڑھا بھی جاسکتا ہے۔ سیاسی جدوجہد کا یہ نیا انداز مستقبل میں پاکستان کی مثبت سیاسی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کر گیا۔ اس باب میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ ”تاریخی چور“ اپنی پاکستان آمد اور گرفتاری کے موقع پر عوام سے کچھ زیادہ کی توقع رکھتے تھے مگر باوجوہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ن لیگی کارکنوں نے چھوٹے میاں صاحب کی قیادت میں لاہور کی سڑکوں پر بھرپور سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا اور پیغام دیا کہ ن لیگ ابھی زندہ ہے۔ مورخ اس تاریخی باب کے آخری پنے پر یہ بھی لکھے گا کہ 13 جولائی 2018 ءبروز جمعتہ المبارک پاکستان میں سیاسی جدوجہد اور جزا و سزا کے حوالے سے تاریخی مگر دکھ اور غم کے لحاظ سے سیاہ ترین دن کے حوالے سے ہمیشہ یاد رہے گا، اس دن بنوں اور مستونگ میں دشمن ہماری سیاسی اساس کی بنیادیں ہلانے کے لئے 150 سے زائدسیاسی کارکنوں اور ایک محب وطن سیاسی رہنماسراج رئیسانی کی جانیں لے گیا اور چند دن قبل بلور خاندان کے عظیم سپوت ہارون بلور کو شہادت کا رتبہ دے گیا۔ مگر کسی کو ہوش نہ آیا کہ ایک ہو جائیں۔یہ ہم ہی ہیں کہ جو پاکستان کو درپیش حقیقی مسائل سے آنکھیں موندھے بیٹھے ہیں۔ دشمن ایک کے بعد ایک وار کئے جارہا ہے اور اس تاک میں ہے کہ کب ہم سے کوئی بڑی بھول ہو اور وہ ہمارے وجود پر کاری وار کرے۔ آخر کب تک ہم خود کو دھوکہ دیئے جائیں گے۔ مستقبل میں جس استحکام کے خواب ہمیں دکھائے جارہے ہیں وہ ہم نے پہلے بھی دیکھے تھے کہ اب تو یہ دیکھتے دیکھتے آنکھیں تھک سی گئی ہیں۔ بس اتنی سی التجا ہے کہ ووٹر کو آزادی دے دیں، عوام کا فیصلہ عوام کو کرنے دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں