60

قانونی حقوق کی دھجیاں بکھیری گئی ہیں،شیری رحمان

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر اور سینئر رہنما شیری رحمان کاکہنا ہے کہ وکلاء کی عدم موجودگی میں فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی، یہ عمل قانونی حقوق کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے۔

سابق صدر آصف علی زرداری پر پاک لین ریفرنس میں وکلاء کی عدم موجودگی میں فرد جرم عائد کرنے کے معاملے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ وکیل کی عدم موجودگی میں فرد جرم عائد کرنا آصف زرداری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر زرداری 11 سال جیل کاٹ چکے، احتساب عدالت کا یہ رویہ ان کے لئے نئی بات نہیں، نیب کی کاروائیوں اور طریقہ کار پر ہر طرف سے سوال اٹھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے آج ریفرنس کی سماعت کے آغاز پر عدالت سے استدعا کی تھی کہ میرے وکیل آج سپریم کورٹ میں مصروف ہیں مجھ پر آج فرد جرم عائد نہیں کی جائےجس پر جج احتساب عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ آپ کے وکیل کو پہلے سے آج کی تاریخ معلوم تھی، فرد جرم آپ پر عائد ہونی ہے۔

جج نے ریمارکس میں مزید کہا کہ فاروق ایچ نائیک اپنے معاون وکیل کو بھی بھجوا سکتے تھے، دو سادہ سے سوالات ہیں انگلش میں، آپ وہ سن کر جواب دے دیں، اس پر آصف زرداری نے کہا کہ آپ اپنے آرڈر میں یہ ضرور لکھیں کہ وکیل کی غیر موجودگی میں مجھ پرفردجرم عائد کی جا رہی ہے، جج احتساب عدالت نے کہا کہ چارج ہمیشہ ملزم پر فریم ہوتا ہے، اگر ان کا وکیل نا آئے تو ہم مجبورنہیں کرسکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں