مصطفی صادق: عہد ساز شخصیت

1958ء مصطفی صادق کے صحافتی اور سیاسی معرکوں کا نقطہ آغاز تھا۔ لائل پور میں گلی وکیلاں کچہری بازار کی چار نوجوان لڑکیوں کے اغوا کا مسئلہ ہو یا گول چنیوٹ بازار سے بازارِ گناہ ہٹانے کی تحریک اورسرگودھا میں ثنائی برادران کے قتل کا سانحہ ہو یا لیڈی لیکچرار نسیم یعقوب کی پُراسرار گمشدگی‘ تحریک تحفظ ختم نبوت ہویا تحریک نظام مصطفی،ڈاکٹر نذیر احمد کی شہادت ہو یا خواجہ محمد رفیق کی شہادت، مولانا مفتی محمود کا سانحہ ا رتحال ہو یا مولانا مودودی کے انتقال کا المیہ۔ ان کی ادارت میں وفاق کا کردار ناقابل فراموش رہا۔ آغا شورش کاشمیری کی گرفتاری اور ”چٹان پر پابندی ہو یا نوائے وقت کے اشتہارات کی بندش مصطفی صادق صاحب نے آگے بڑھ کر مذاکرات سے مسائل حل کرائے۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے اعتماد کے امین رہے۔ جب بھٹو صاحب وزیر خارجہ کے عہدے سے مستعفی ہو کر اسلام آباد سے لاہور آئے تو ریلوے سٹیشن پر ان کے استقبال کا منظر دیدنی تھا، فقید المثال استقبال دیکھ کر بھٹو صاحب کی آنکھیں بھیگ گئیں۔”وفاق“ نے ان کی پُرنم آنکھوں اور رومال سے آنسو پونچھتے ہوئے تصویر شائع کی تو وفاق کی اشاعت و مقبولیت میں اضافہ ہونے لگا او ریہی بات بھٹو صاحب سے مصطفی صادق کے رابطوں کا ذریعہ بنی۔ بھٹو صاحب نے جب ناصر باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا، حکومتی غنڈوں نے ہنگامہ برپا کر دیا، جلسہ میں بجلی کی ٹوٹی تاریں گرنے سے کئی لوگ زخمی ہو گئے۔ معروف صحافی اثر چوہان وفاق کے چیف رپورٹر تھے۔دھینگا مشتی میں ان کے کپڑے پھٹ گئے اور چہرہ زخمی ہو گیا۔وفاق نے چیختی چنگھاڑتی سُرخیاں لگائیں، ذوالفقار علی بھٹو پر قاتلانہ حملہ۔ صبح مارکیٹ سے اخبار نایاب ہو گیا۔ پریس کھلوا کر دوبارہ پرنٹنگ شروع کی گئی اور اخبار 10,10روپے میں بِکا۔ مصطفی صادق بعد میں کئی سیاسی معرکوں اور صحافتی مجادلوں میں شریک رہے، اُنہیں ”چھوٹے اخبار کا بڑا ایڈیٹر“ قرار دیا گیا۔جنرل ضیاء الحق نے اے پی این ایس کی ایک سالانہ تقریب میں چھوٹے اور بڑے اخبارات کی بحث کے حوالے سے اپنی تقریر روک کر ان سے دریافت کیا ”مصطفی صادق صاحب!آپ کا اخبار چھوٹا ہے یا بڑا“۔ مصطفی صادق صاحب نے برجستہ کہا ”چھوٹوں میں بڑا اور بڑوں میں چھوٹا“ مصطفی صادق پاکستان کی سیاسی اور صحافتی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب ہیں، انہوں نے 1973ء میں متفقہ آئین کی تیاری میں سیاست دانوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایک خط لکھ کر اُن کی خدمات کا اعتراف کیا، یہ ایک منفرد اعزاز تھا جو جناب مصطفی صادق کو حاصل ہوا، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلانے میں بھی اُن کی مساعی وطن عزیز کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ جسارت پر سے پابندی اُٹھانے کا معاملہ ہویا مدیر جسارت صلاح الدین کی رہائی کا، الطاف حسن قریشی اور مجیب الرحمن شامی کے جرائد پر پابندیوں اور گرفتاریوں سے اُن کی رہائی کا مسئلہ ہو‘مولانا مودودی سے ذوالفقار علی بھٹو کی تاریخی ملاقات ہو یا نوابزادہ نصر اللہ خان سے بہاول پور جیل میں رات گئے خفیہ ملاقات، ایسے درجنوں واقعات ہیں جن میں مصطفی صادق صاحب کا پس پردہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، وہ ایک ایسے صحافی کی حیثیت سے کبھی بھلائے نہیں جا سکیں گے جنہوں نے ضلع ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) کے ایک غریب کسان چوہدری حسین علی کے گھر میں آنکھ کھولی، تحریک پاکستان میں حصہ لیا۔مسلم کش فسادات میں حملہ آور سکھ کی گردن اپنی تلوار سے جدا کی۔ قیام پاکستان کے بعد مولانا مودودی کے سائے تلے سیاسی سفر کا آغاز کیا،جماعت اسلامی کے ترجمان روزنامہ تسنیم میں ملک نصر اللہ خان عزیز، سعید ملک اور ارشاد احمد حقانی کے ساتھ صحافتی سفر میں شریک ہوئے اور شبانہ روز محنت اور جدوجہد کے نتیجے میں اے پی این ایس اور سی پی این ای کی صدارت کے منصب پر فائز کئے گئے اور جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنی آخری کابینہ میں انہیں وزیر امور عامہ کا قلمدان سونپا۔میں 25 دسمبر 1959ء سے 22 اگست 1980ء تک روزنامہ ”وفاق“ میں ان کے ساتھ رہا اور پھر ایک شام ہماری یہ رفاقت ختم ہو گئی مگر 22 اگست 1980ء سے 20نومبر 2011ء تک ان کے ساتھ قلب و ذہن کا رشتہ بدستور استوار رہا، وہ میرے دوست بھی تھے، میرے رہنما بھی، ”وفاق“ کی ابتداء میں پیشانی پر ادارہ تحریر مصطفی صادق، جمیل اطہر کے الفاظ شائع ہوتے تھے جو بعد میں مدیر اور مدیر معاون اور پھر ایڈیٹر اور ایگزیکٹو ایڈیٹر میں تبدیل ہوتے گئے۔ افسوس صد افسوس کہ ایک ایسا شخص دُنیا سے اٹھ گیا جس کے سینے میں کئی سیاسی داستانیں اور کہانیاں دفن رہ گئیں۔سید محمد قاسم رضوی نے حمید نظامی کی رحلت پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کاش وہ ایوب خان کے نافذ کردہ نئے آئین پر ہی کچھ لکھ گئے ہوتے میں بھی آج ان کی پیروی میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ کاش مصطفی صادق صاحب ان تاریخی معرکہ آرائیوں پر ایک دو کتابیں ہی سپردِقلم کر گئے ہوتے تو یہ کہانیاں ان کے ساتھ ہی دفن نہ ہوگئی ہوتیں۔
™ جامعہ اشرفیہ کے مہتمم مولانا فضل الرحیم کہتے ہیں کہ ختم نبوت کے حوالے سے تاریخی قانون سازی میں مصطفی صادق صاحب نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں خاص طورپر راولپنڈی بلایا اور اپنی بیگم نصرت بھٹو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھائیں ختم نبوت کا مسئلہ کیا ہے۔ مصطفی صادق صاحب کے بقول انہوں نے بیگم بھٹو کو بتایا کہ مسئلہ یہ نہیں رہا کہ مسلمان قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتے ہیں۔ مسئلہ اب یہ ہے کہ قادیانی مسلمانوں کو مسلمان تصور نہیں کرتے، ان کے نزدیک حرم مکی اور حرم نبوی کے امام اور خطیب بھی غیر مسلم ہیں۔ یہ سن کر بیگم بھٹو مسئلہ ختم نبوت کی حقانیت کی قائل ہوئیں۔ اس طرح ایک اہم رکاوٹ دور ہوئی اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی قانون سازی میں مصطفی صادق کا حصہ بھی شامل ہوگیا۔
õ دارالعلوم کورنگی کے نائب مہتمم اور ممتاز سکالر مولانا محمد تقی عثمانی کاارشاد گرامی ہیچونکہ جناب مصطفےٰ صادق حاصب کا مقصد کسی جماعتی وابستگی کے بغیر ملک و ملت کی خدمت کرنا تھا اس لئے ہر دور حکومت میں ان کے تعلقات حکومت اور مخالف دونوں حضرات سے رہے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا نقطۂ نظر بڑی وضاحت کے ساتھ مدلل انداز میں پیش کرنے کا سلیقہ عطافرمایا تھا ٗاس لئے وہ شدید سے شدید مخالف کے ساتھ بات کرنے کے دروازے بند نہیں رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ انہیں کسی بھی حکومت سے کلی اتفاق نہیں ہوا لیکن ہر دور حکومت میں ارباب اقتدار سے گفتگو کا دروازہ کھلا رکھنے کے لئے ان کے تعلقات ہر دور میں ارباب اختیار سے قائم رہے ٗچنانچہ ذوالفقار علی بھٹوصاحب مرحوم ٗضیا ء الحق صاحب مرحوم ٗفاروق لغاری صاحب مرحوم اور غلام اسحاق خان صاحب مرحوم سب سے بیک وقت ان کے بے تکلف تعلقات تھے اس وجہ سے بہت سے لوگ انہیں آج کی دنیا کے رنگ کے مطابق موقع پرستی کا طعنہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ان تعلقات کو اپنے کسی ذاتی مفاد کے لئے استعمال نہیں کیا بلکہ ان کامقصد اپنی استطاعت تک صحیح مشورے دینے تک محدود تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان سارے تعلقات کے باوجود ان کے معاشی حالات جیسے تھے ویسے ہی رہے بلکہ اپنا آخری دور انہوں نے بڑی عسرت کے ساتھ گزارا۔
† بہرکیف!ان کی وفات سے صحافت ٗ سیاست اور دینی حلقوں میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے ٗاللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرما کر انہیں درجات عالیہ سے نوازیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطاء فرمائیں۔ آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں