44

مقدس سفر کا مشکلات سے آغاز (2 )

راقم نے روزنامہ نوائے وقت کے شمارہ مورخہ 13 اپریل 2019 ء کے ادارتی صفحہ پر شائع ہونے والے اپنے کالم ”مقدس سفر کا مشکلات سے آغاز“ میں عمرہ زائرین کو بائیو میٹرک تصدیق کرانے کے لئے پیش آنے والی دشواریوں کا تفصیل سے ذکر کیا تھا اور یہ لکھا تھا کہ جب قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوانے کے لئے بائیو میٹرک تصدیق کے عمل سے گزرنا لازمی ہے تو پھر عمرہ زائرین کو تیسری مرتبہ اس مشکل میں ڈالنے کا کیا جواز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ کالم صدا بہ صحرا ثابت نہیں ہوا۔ سعودی سفارت خانے نے اس کانوٹس لیا اور 24 اپریل کو یہ اعلان کیا کہ عمرہ زائرین کے لئے اعتماد (پرائیویٹ ) لمیٹڈ کے ذریعے بائیو میٹرک تصدیق کی شرط ختم کر دی گئی ہے اور اب عمرہ کے سفر پر روانہ ہونے والوں کے لئے صرف یہی کافی ہوگا کہ اپنا پاسپورٹ اپنے ایجنٹ کے حوالے کردیں جسے سفارت خانہ سے رجوع کرنے پر ای ویزا کی سہولت حاصل ہو جائے گی اور ہزاروں زائرین کو اس صعوبت سے نجات حاصل ہو جائے گی جو انہیں اعتماد لمیٹڈ کے دفتر کی تلاش ، دور دراز علاقوں سے سفر کے اخراجات ، لاہور میں قیام اور اعتماد کے دفتر میں زائرین کے ہجوم کے باعث گھنٹوں انتظار کی آزمائش کی صورت میں اٹھانا پڑ رہی تھی ہم اس اقدام کے لئے سعودی بادشاہ ، ولی عہد، وزیراعظم عمران خان، سعودی سفارت خانہ اور وزارت مذہبی امور کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ایک جائز شکایت اور اہم مسئلہ کا فوری نوٹس لیا اور اسے حل بھی کردیا۔
اس طرح کا ایک دوسرا مسئلہ ایک سال کے بعد دوسرے سال عمرہ کی سعادت کی خواہش رکھنے والوں کا ہے جن سے سعودی حکومت دو ہزار ریال اضافی ویزا فیس وصول کرتی ہے۔ اس فیس کے بارے میں بھی زائرین کی یہ رائے ہے کہ یہ فیس ان پر اضافی بوجھ ہے۔ سعودی حکومت عمرہ اور حج کے زائرین کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کرنے کی شہرت رکھتی ہے۔ ایک سال کے بعد دوسرے سال عمرہ ادا کرنے پر دو ہزار ریال کی اضافی ویزا فیس سعودی مملکت کی اس حکمت عملی کی روح کے سراسر منافی دکھائی دیتی ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کو عمرہ اور حج کے لئے حجاز مقدس کا سفر اختیار کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ ہم نے اپنے مذکورہ بالا کالم میں یہ اضافی ویزا فیس ختم کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔ وزیراعظم عمران خان حال ہی میں جب سعودی حکومت کی دعوت پر وہاں تشریف لے گئے تھے تو ذرائع ابلاغ نے یہ خوش خبری دی تھی کہ یہ اضافی فیس واپس لی جارہی ہے مگر وزیراعظم واپس تشریف لے آئے اور یہ توقع نقش برآب ثابت ہوئی اور یہ اضافی ویزا فیس بدستور وصول کی جارہی ہے۔ اس دوران یہ خبریں بھی آئیں کہ جن ملکوں کے زائرین عمرہ سے یہ اضافی فیس لی جارہی تھی ان کی فہرست سے مصر کا نام نکال دیا گیا ہے یہ ایک خوش آئند اقدام ہے اور اس کا اطلاق نہ صرف پاکستان بلکہ دوسرے تمام ملکوں پر بھی ہونا چاہئے۔ ہمیں یہ گمان ہے کہ وزیراعظم اور وزارت مذہبی امور نے شاید اس مسئلہ کو زیادہ اہمیت دینے کے قابل نہیں سمجھا ورنہ سعودی ولی عہد اس درخواست کو بھی یقینی طور پر شرف قبولیت ضرور بخشتے۔ ہم ایک بار پھر وفاقی وزیر مذہبی امور اور سعودی سفارت خانہ کی توجہ اس مسئلہ کی طرف مبذول کرانے کی جسارت کررہے ہیں۔ ہماری گزارش ہے کہ ایک سال کے بعد دوسرے سال عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والوں کے لئے زیادہ سے زیادہ آسانی اور سہولت مہیا کرنے کے خیال سے یہ اضافی ویزا فیس بلاتاخیر واپس لے لی جائے اور سعودی اور پاکستانی ارباب حل و عقد عمرہ زائرین کی دعائیں سمیٹیں۔ سعودی بجٹ میں اضافی ویزا فیس سے حاصل ہونے والی آمدنی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے مگر زائرین کی جیب پر یقینا ایک بوجھ ہے جسے ہٹایا جانا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں