146

مقدس سفر کا مشکلات سے آغاز

عمرہ اور حج کو عام طور پر ریاضت اور مشقت کا سفر قرار دیا جاتا ہے مگر بعض مشکلات اورمسائل ایسےہیں جنہوں نے حال ہی میں جنم لیا ہے۔ان صعوبتوں سے حج اور عمرہ کے عازمین کو جن میں بوڑھے، عورتیں اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں ناقابل بیان پریشانی سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان تازہ دشواریوں میں ایک بائیو میٹرک تصدیق کا صبرآزما مرحلہ ہے اور دوسرے ایک سال عمرہ ادا کرنے کے بعد دوسرے سال عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کی خواہش پر دو ہزار ریال کی اضافی فیس کی ادائیگی۔
لاہورمیں بائیو میٹرک تصدیق کا دفتر اعتماد (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے زیر اہتمام دی انٹرپرائز بلڈنگ 1 کلو میٹر ٹھوکر نیاز بیگ ملتان روڈ میں قائم کیا گیا ہے۔ مجھے گزشتہ جمعرات(4اپریل )کو بائیو میٹرک تصدیق کے لئے اس دفتر میں جانے کا موقع ملا۔ ملتان روڈ پر ٹھوکر نیاز بیگ سے ایک کلو میٹر سفر کرنے پر آپ کو رہنمائی کے لئے مین سڑک پر کوئی بورڈ میسر نہیں جو آپ کو آگاہ کرسکے کہ آپ نے کس مقام سے یوٹرن لینا ہے۔ اگر کسی نے آپ کو یہ نہ بتایاہو کہ یہ دفتر یونی فوم فیکٹری کے ساتھ والی سڑک یا گلی میں ہے تو آپ کے لئے اعتماد (پرائیویٹ) لمیٹڈ تک پہنچنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ میں جب اس سڑک یا گلی میں داخل ہوا تو آدھی سڑک پارک کی جانے والی گاڑیوں نے روک رکھی تھی اور جب کوئی اشارہ یا سگنل نہ ہونے کے باوجود بائیں جانب گلی میں داخل ہوا تو پوری سڑک سیوریج کے گندے پانی سے کیچڑ میں اٹی ہوئی تھی اور دونوں طرف سے گاڑیوں کی آمد نے ٹریفک کو جام کررکھا تھا۔ درجنوں مرد، عورتیں، بوڑھے اور بچے پیدل چلنے کے لئے اپنی گاڑیاں باہر ہی چھوڑ آئے تھے۔ وہ سڑک کے دائیں اور بائیں دیوار کے ساتھ خشک جگہ کی تلاش میں تھے مگر خشک جگہ ہوتی تو انہیں میسر آتی۔ ایک مقدس و معتبر سفر کی ابتداءکے لئے گندے پانی اور کیچڑ میں سے گزرنا پڑ رہا تھا۔ برقعہ پوش عورتوں کے برقعے اور پاﺅں کیچڑ میں لت پت ہورہے تھے ان میں ایسی خواتین بھی تھیں جنہوں نے شیرخوار بچے اپنی گود میں لے رکھے تھے یا کمسن بچے ان کے دائیں بائیں چل رہے تھے، خدا خدا کرکے ایک سادھو قسم کے شخص نے جو گیروے کپڑے پہنے ہوئے تھا گاڑیوں کو راستہ دلانے کا فرض سنبھال لیا۔ جو لوگ آدھے پون گھنٹے سے ٹریفک جام میں پھنسے ہوئے تھے اس مصیبت سے نجات پانے پر سادھو کو نذرانے بھی پیش کررہے تھے۔ اس نے جو جیکٹ پہن رکھی تھی اس پر لنگر کے لئے چندہ کی اپیل بھی درج تھی۔
خدا خدا کرکے اس بلڈنگ کے مین گیٹ پر پہنچے جسے ایک بڑے ٹرالر نے گھیر رکھا تھا، یہ ٹرالر نہ آگے جارہا تھا اور نہ پیچھے ہٹ رہا تھا۔ گیٹ کے اندر داخل ہونے کے لئے بہت تھوڑی جگہ میسر تھی جسے کیچڑ میں لت پت زائرین اندر جانے کے لئے غنیمت جان رہے تھے۔ میں چونکہ گاڑی میں تھا اور یہ گاڑی گیٹ کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں تھا اس لئے ٹرالر کو وہیں چھوڑ کر آگے نکل گئے جہاں کچھ فاصلہ پرایک گیٹ دکھائی دیا جہاں ایک سکیورٹی گارڈ پہرہ پر مامور تھا اسے اپنی مشکل سے آگاہ کیا کہ بلڈنگ کے داخلی گیٹ پر ٹرالر کھڑا ہے اور اس گیٹ سے داخلہ ممکن نہیںمگر اس کا اصرار تھا کہ یہ گیٹ باہر نکلنے کے لئے ہے اندر جانے کے لئے نہیں، کافی بحث مباحثہ کے بعد ایک شریف آدمی کی مداخلت پر گارڈ نے گاڑی کو اندر جانے کی اجازت دے دی جب ہم مرکزی عمارت کو جانے والی سڑک پر آگئے تووہاں دیوار کے ساتھ ایک لمبی زنجیر بندھی ہوئی تھی۔ ایک شخص نے اشارہ سے بتایا کہ ہمیں اس زنجیر کی حدود کے اندر چل کر اعتماد (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی عمارت میں جانے کے لئے سفر طے کرنا ہوگا۔ یہ منزل بھی طے ہوئی۔ ہم اعتماد لمیٹڈ کے دفتر میںجو پہلی منزل پر واقع تھا۔ پہنچ گئے وہاں بلا مبالغہ ایک میلہ کا سماں تھا، دائیں طرف کچھ کاﺅنٹر موجود تھے جہاں لمبی لائنیں لگی ہوئی تھیں، بائیں طرف بیٹھنے کے لئے کچھ نشستیں موجود تھی جو زائرین کی تعداد کے مقابلے میں بہت ناکافی تھیں۔ رہنمائی کے لئے کوئی شخص دستیاب نہیں تھا۔
ہمیں معلوم ہوا کہ دفتر صبح نو بجے کام شروع کرتا ہے مگر بائیومیٹرک تصدیق کرانے والے سات ساڑھے سات بجے ہی یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت بیرون لاہور سے آنے والوں کی ہوتی ہے۔ بائیو میٹرک تصدیق کی سرکاری فیس بارہ سو روپے فی کس ہے۔اگر قسمت باوری کرے تو تصدیق کا عمل چند منٹوں میں طے ہو جاتا ہے مگر اس مرحلہ تک پہنچنے کے لئے جاں گسل مشکلات سے گزرنا پڑتاہے، خاص طور پر دیہات سے آنے والے ناخواندہ یا نیم خواندہ بزرگوں، عورتوں اور ان کی مدد کے لئے ساتھ آنے والے زائرین کو۔ہال میں کوئی پنکھا نہیں تھا اور لوگوں کا گرمی سے ب±را حال ہو رہا تھا۔ بائیو میٹرک تصدیق کیوں ضروری ہے جبکہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بائیو میٹرک تصدیق کے بعد ہی جاری کئے جاتے ہیں اور فیس سعودی حکومت وصول کرتی ہے یایہ رقم پاکستان کے خزانہ میں جاتی ہے۔ اس کا کچھ علم نہیں ہوسکا۔
وزارت مذہبی امور کے کوئی ذمہ دار اہل کار یا سعودی سفارت خانہ کے کوئی سینئر سفارت کار کسی روز اعتماد کے دفتر تشریف لانے کی زحمت فرمائیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ عمرہ اور حج کے پاکیزہ سفر پر جانے والے معصوم پاکستانیوں کو بائیو میٹرک تصدیق کے نام پر کس ذلت سے گزرنا پڑرہا ہے اورپھر اس آزمائش سے نکلنے کے لئے بلاتاخیر تدبیر اختیار کریں۔ موجودہ صورت حال سینکڑوں لوگوں کے لئے اذیت اور پریشانی کا باعث بن رہی ہے اس کا مداوا آخر کون کرے گا اور کب؟ایک سال کے بعد دوسرے سال عمرہ ادا کرنے پر دو ہزار ریال کی اضافی فیس کے متعلق کئی بار خبریںآئیں کہ یہ فیس اب ختم کی جانے والی ہے۔ مصر اور کچھ دوسرے ملکوں کے لئے سعودی حکومت نے یہ اضافی فیس (یا جرمانہ) ختم بھی کر دیا مگر عمران خان کی حکومت اپنے برادر اسلامی ملک جو حرمین شریفین کا پاسبان ہے سے اپنے وطن کے ان نیک اور متقی لوگوں کو جو اپنے آپ کو اللہ کے اور قریب کرنے کے لئے یہ سفر اختیار کرنا چاہتے ہیں ابھی تک یہ رعایت نہیں دلا سکی۔ یہ مسئلہ بھی حکومت پاکستان کی فوری توجہ کا مستحق ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں