Irfan Athar Qazi 100

موت کا منظر اور صدقے کے بکرے

زندہ رہیں یا مر جائیں، آہیں بھریں یا دیواروں سے سر ٹکرائیں؟ کوئی آس رکھیں یاامیدوں کے سمندر میں غرق ہو جائیں؟ زندگی کو کب تک امید و یاس کے درمیان تڑپتا سسکتا چھوڑدیں؟ کس کو رہبرورہنما مانیں؟ کس کو خوابوں کا محور بنائیں؟ کوئی راہ، کوئی رہنما،کوئی رہبرہی تو نظر نہیں آتا ، اک تم ہی لاکھوں، کروڑوں کی امید تھے اور کسی حد تک ہو۔ مگر تم ہو کہ آئے دن ہمیں ایک نیا دلاسہ دے کے چلے جاتے ہو۔چلو تمہاری باتوں پرہی یقین کرلیتے ہیں کہ اس گلشن کو اپنوں نے ہی اجاڑا، رہبر و رہنما ہی راہزن نکلے، سب چور، ڈاکو ہمارے گھر کو لوٹ کر کھا گئے، چلو مان لیتے ہیں ماضی کے رہنماﺅں نے ڈاکوﺅں کا روپ دھار کر ہمیں اس حال تک پہنچایا۔ مان لیا ہم اُجڑ گئے،برباد ہوگئے، صیاد نے سعد بن کر ہمیں لوٹ لیالیکن ڈاکٹر خان! ڈکیتی مزاحمت میں زخمی مریض کو ایمرجنسی میں دعا نہیں دوا چاہئے۔آپ تو مریض کےساتھ ایسا کررہے ہوکہ جیسےکسی سرکاری ہسپتال سے ڈاکٹرز، نرسیں، چوکیدار سب غائب ہوں اور کوئی مولوی کا روپ دھارے وعظ کرتا شخص سر پر ٹوپی رکھے، ہاتھ میں تسبیح پکڑے ہر صبح و شام وارڈ میں داخل ہو اور آخری سانسیں لیتے مریض کے سرہانے جا کر موت کا منظر سنائے، چاروں قل، آیت الکرسی پڑھائے اور سفر آخرت کا درس دیتا چلا جائے۔ ڈاکٹر خان! تڑپتے سسکتے، بھوکے، پیاسے، دوائی کے محتاج بستر مرگ پر پڑے اس مریض کو صبح و شام موت کا منظر مت سنائیں، آپ ایسے ڈاکٹر مت بنیں جو مریض کی نبض دیکھنے سے پہلے پوچھے کہ پہلے کس ڈاکٹر کے پاس دھکے کھاتے رہے ہو، جب مرنے لگے تو میرے پاس آگئے اور بار بار یہ کہے کہ اب میں کیا کرسکتا ہوں اللہ ہی ہے جو تمہیں بچائے پھر مریض کی نبض دیکھنے سے پہلے یہ کہے کہ پہلے کیش کاﺅنٹر پر جاﺅ ، بھاری فیس جمع کراﺅ پھر تمہارا علاج شروع ہوگا اور ساتھ ساتھ اپنی نالائقی کا بھی اعتراف کرے کہ یہ یقین نہیں کہ تمہارے زندہ رہنے کے امکانات ہیں یا نہیں؟ ڈاکٹر خان! آپ اعلیٰ اداروںکے تعلیم یافتہ ہیں، مانا کہ آپ کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں ہیں ، آپ دنیا کے اعلیٰ اداروں اور شخصیات سے متاثر ہیں، مگر آپ بے رحم ڈاکٹر مت بنیں، آپ کے کلینک کے 80 فیصد مریض غریب ، پسماندہ، کم تعلیم یافتہ، بے روزگار، یتیم، مسکین، بیوائیں، بھوکے پیاسے لوگ ہیں۔ انہیں ملٹی نیشنل میڈیکل کمپنیوں کے کمیشن دہندہ میڈیکل ریپس کی مہنگی ادویات تجویز نہ کریں۔ خالی جیب مریضوں کو دلاسے کے ساتھ ساتھ پاکستانی کمپنیوں کی سستی، عام دستیاب ادویات کے سہارے زندہ رکھنے کی کوشش کریں۔ ڈاکٹر خان! ایسا نہ ہو کہ موت کا منظر سنتے سنتے اور مہنگی ادویات دسترس میں نہ ہونے کے باعث آپ کے کلینک پر آنے والے مریض کسی نیم حکیم کے ہتھے چڑھ جائیں۔ ڈاکٹرخان! آپ کی باتیں سن کرمجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے، گوالمنڈی دل محمد روڈ پر ایک ڈاکٹر شفیق الرحمن (مرحوم ) ہوا کرتے تھے، ہمارے محلے کی نکڑ پر ان کا آثار قدیمہ نما بڑے ہال پر مشتمل کلینک تھا جہاں کبھی بھی مریضوں کا رش ختم نہیں ہوتا۔ کلینک میں داخل ہوتے ہی مریض کو سکون کا احساس ہونے لگتا۔ ہر کوئی گھنٹوں اطمینان سے اپنی باری کا انتظار کرتا، مجھے بھی جب کبھی بخار ہوتا تو میرے والد گود میں اٹھائے ڈاکٹر صاحب کے پاس لے جاتے جیسے ہی کلینک میں داخل ہوتے ان کی شفقت بھری مسکراہٹ ہمیشہ ہمارا استقبا ل کرتی۔ باری آنے پر ڈاکٹر صاحب پیار سے پوچھتے ارے میاں! کیا ہوگیا؟ کوکاکولا(جی دیسی والی ولایتی نہیں خالصتاً پاکستانی عام مشروب) ہر وقت ان کی میز پر موجود ہوتا۔ پیار سے کہتے لو میاں! پیو، والد کہتے، ڈاکٹر صاحب اسے تو بخار ہے گلا خراب ہے، ڈاکٹر صاحب فرماتے، جمیل میاں! اسے کسی کی نظر لگ گئی ہے شائد آپ کی یا اس کی والدہ کی، کچھ نہیں ہوا، پھر نبض دیکھتے، پیار سے سمجھاتے کہ بازار کی کھٹی میٹھی چیزیں مت کھایا کرو۔ نسخہ تجویز کرتے وہی ڈاٹ کے ڈھکن والا شیشی میں بند پیلا شربت، تین وقت کی سفید، گلابی، سبز رنگ کی گولیاں اور خیرسے جانے کی دعا کے ساتھ رخصت کرتے اور فیس بھی چار پانچ روپے۔ یقین جانیے نسخہ لکھتے تک مریض کی بیماری نصف رہ جانے کے آثار پیدا ہو جاتے اور یہی نسخہ گھر پہنچنے تک افاقے کا باعث بنتا۔ شائد ان دنوں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر آنا جانا شروع نہیں ہوا تھا اور کمیشن کا رواج بھی نہیں تھا۔ ڈاکٹر بھی صحیح معنوں میں مسیحا تھے ان کی دوا اور دعا بھی اثر رکھتی تھی۔ نہ اس زمانے میں بھاری میڈیکل ٹیسٹ تجویز کئے جاتے اور نہ ان ٹیسٹوں کے عوض مسیحا کمیشن کھاتے تھے۔ خیر چھوڑیئے پرانی باتیں۔ ڈاکٹر خان! ایک آپ ہیں کہ ہمیںآئے دن موت کے منظر کے ساتھ ساتھ ریاست مدینہ کا درس دیتے ہو مگر اس ریاست میں غریبوں کو جینے اور رہنے کا حق نہیں۔ ڈاکٹر خان! یہ جو آپ نے ہمیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نمائندوں کی خوشنودی کی خاطرمہنگی ادویات کا نسخہ تجویز کیا ہے، مریض اس نسخے کے مطابق ادویات کھانے سے پہلے زہر کھانے کو ترجیح دے گا یا پھر کسی نیم حکیم یا عامل کامل بابے کے ہتھے چڑھ کر دم درود سے بیماری کا علاج کرانا بہتر سمجھے گا۔ ڈاکٹر خان! تقریباً ایک سال گزرنے کو آیا، مریض آپ کے زیر علاج ہے، آپ نے تو ابھی تک مریض کی نبض تک دیکھنا گوارا نہیں کی۔ اللہ نے سارے خالی، بھرے خزانے، لٹے پھٹے کارواں، زخمی دل، بوجھل آنکھیں، سسکتی تڑپتی زندگیاں آپ کے سپرد کر دیں۔ پلیز ہمارے زخموں پر کوئی فوری مرہم لگائیں، یہ تڑپتے،سسکتے ، بھوک سے مرتے مریض تمہارے لئے دعائے خیر کریں گے۔ صرف طفل تسلیاں، دلاسے دم توڑتے مریض کو موت کا منظر سنا کر شفا یاب نہیں کرسکتے۔ ڈاکٹر خان! آپ کیوں اس مریض کے ناسور بنتے زخموں کو بار بار چیرے لگا کر یہ کہتے ہو کہ کلینک میں آکسیجن کی سہولت موجود نہیں۔ ڈاکٹر خان! مریض دم توڑنے کے قریب ہے اور یہ تمہارا سجا سجایا عطائی کلینک بھی کسی دن ویران ہو جائے گا۔ یہ قوم ذہنی مریض بن چکی ہے، گھر گھر روٹی پر فساد ہے، بچے دودھ کو بلکتے ہیں، نوجوان نوکریوں کی درخواست کرتے ہیں، بوڑھے آپ کو بڑھاپے کا سہارا سمجھتے ہیں مگر تم ہو کہ ہمیں صدقے کا بکرا سمجھ کر آئے دن ”بنی گالا“ میں نیازیں بانٹ رہے ہو۔ یاد رکھو صدقے کے بکروں سے ”بنی گالا“ کو زیادہ دیر تک نہیں چلایا جاسکتا۔ اس کالم کا وفاقی بجٹ کے گورکھ دھندے سے کچھ لینا دینا نہیں، بس موت کا منظر اور قیامت کے بعد کیا ہوگا؟ کے تناظر میں پڑھیں تو مریض کو افاقہ ہوگا اگر پھر بھی افاقہ نہ ہوتو کسی مستند، قابل، غریبوں کے ہمدرد ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ مہنگی ادویات بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں، یہ پیغام مفاد عامہ کے تحت دیا جارہا ہے۔ (وزارت عوامی صحت و قومی مفادات)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں