18

مہنگائی کا طوفان روکیں

وزیراعظم منتخب ہونے سے قبل عمران خان عوام سے جو وعدے کئے کرتے تھے ان سے انحراف نے ان کی شخصیت کی نفی کردی ہے ہم حکومت کی طرف عوام کے لئے ”صحت کارڈ “ کا شور بہت سن رہے ہیں ہم دمہ جیسے موذی مرض کے ساتھ ساتھ عارضہ قلب میںبھی مبتلا ہیں ۔ پنجاب کی سابق حکومت نے ہمارے علاج معالجہ کا ذمہ اپنے سر لیا ہوا تھا اور ہمارے علاج کے لئے جو مہنگی ترین ادویات ڈاکٹروں نے تجویز کی تھیں‘سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر وہ ہمیں ہر ماہ مہیا کی جاتی رہیں ۔جیسے ہی عمران خان نے اقتدار کے ایوانوں میں قدم رنجہ فرمائی ‘ہمیں ادویات کے ملنے کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔ہم نے بہت کوشش کی کہ وزیراعظم کا صحت کارڈ حاصل کرلیں لیکن ہمیں وہ صحت کارڈ کہیں دکھائی نہیں دے رہا ۔بات شروع ہوئی ہے عمران خان کے دعوﺅں اور وعدوں سے انحراف کی‘ تو موصوف نے دعویٰ کیا تھا کہ میں نچلے طبقے کو اوپر لاﺅں گا آج صورت حال یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی پالیسیوں نے نچلے طبقے کو دلدل سے نکالنے کے بجائے اسے مزیدمسائل میں دھنسادیا ہے ۔لال ٹماٹر جو کبھی تیس سے چالیس روپے کلو فروخت ہوا کرتے تھے ”تبدیلی “والوں کی حکومت میںدو سو روپے کلو فروخت ہورہے ہیں۔یہ ہم نے صرف ٹماٹروں کے بارے میں لکھاکہ گزشتہ روز ہم نے صرف دو عدد ٹماٹر تیس روپے میں خریدے ‘کبھی یہی ٹماٹر ہم تیس روپے کلو خریدا کرتے تھے اور ایک کلو ٹماٹروں کی تعداد پندرہ سے بیس تک ہوا کرتی ہے۔
ہم میں سکت ہی نہیں کہ ہم باقی سبزیوں کی قیمت ادا کریں ۔بدترین مہنگائی سے روزمرہ ضرورت کی اشیاءکی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے ‘الامان والحفیظ ہماری تو سوچتے سوچتے مت ماری گئی ہے کہ ہم تو اس ”تبدیلی “ کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے جو عوام کو دن میں تارے دکھا
سکتی ہے ۔یہاں ہم یہ بھی واضح کردیں کہ تبدیلی والوں نے بیماروں سے بھی زندہ رہنے کا حق چھین لیا ہے اس پر ہم لکھیں تو کیا لکھیں کہ عمران خان صاحب !آپ بھی روایتی وزیراعظم ہی ثابت ہوئے ہیں بلکہ اگر ہم یوں لکھیں تو بے جانہیں ہوگا کہ آپ کے پانچ ماہ کے دور حکومت سے گزشتہ حکومت کا پانچ سالہ دور قدرے بہتر تھا گوکہ (ن) لیگ کے حکمران اپنے دور حکومت میں اچھے خاصے بے چین دکھائی دیئے لیکن انہوں نے عوام کو اس قدر بے چین نہیں ہونے دیا جتنا آپ نے پانچ ماہ میںکردیاہے ؟ایسا ہم نہیں بلکہ حالات وواقعات واضح کررہے ہیں ۔ملک کا ہر شہری دوسرے شہری سے سوال کرتا دکھائی دے رہا ہے کہ تبدیلی والوں کے پاس کرپشن کرنے والوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کے سوا کوئی دوسرا کام بھی ہے ؟جواب ملتا ہے کہ ”ابھی تو ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا ‘آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا “ پھر سوچتے ہیں کہ حالات وواقعات واضح تو کررہے ہیں کہ آگے کیا ہونے جارہا ہے ؟ بدترین مہنگائی میں اضافہ ہونے کے ساتھ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی ”تبدیلی “ آگئی ہے۔
بات یہیں تک رہتی تو عوام صبر شکر کرلیتے ‘خبر یہ بھی ہے کہ ”دو ماہ کے مختصر عرصے میں ادویات کی قیمتوں میں دوسری مرتبہ اضافہ ہوگیا ہے “۔یہ ہے وہ تبدیلی ‘جس کا خواب تبدیلی والوں نے عوام کو دکھایا تھا اور عوام کو دکھایا جانے والا یہ خواب بہت بری طرح چکنا چور ہوچکا ہے۔تبدیلی والوں کی طرف سے دکھائے جانے والے اس خواب کی تعبیر عوام کے لئے سود مند ثابت نہیں ہورہی ۔بتایا یہ بھی جارہا ہے کہ معمول میں استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتوںمیں بھی سات سے آٹھ روپے اضافہ ہوچکا ہے ایسی صورت میں ہم یہ لکھنے میں حق بجانب ہیں کہ بیماروں اور ناداروں سے زندہ رہنے کا حق چھین لینا کسی طرح روانہیں اب تو اندھیر نگری چوپٹ راج ہے ۔حالات ہمیں مزید ابتری کی جانب جاتے دکھائی دے رہے ہیں ۔خدشہ ہے کہ آنے والے وقت میں پٹرولیم مصنوعات کے علاوہ بجلی اورگیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔خدشہ ہے کہ اگر تبدیلی والوں نے عوام کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا تو کوئی دوسری ”تبدیلی “ موجودہ تبدیلی کو اپنے نرغے میں نہ لے لے گی اس لئے کہ سیاست میں یہی کچھ ہوتاہے ۔عمران خان صاحب !آپ تو غریب عوام کے دکھ دور کرنے کے لئے اقتدار میں آئے تھے ۔مگر آپ نے تو دکھی اور پریشان حال عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے ؟ہمیں تو آپ کے وزارت عظمیٰ میں آنے کے علاوہ ملک میں کوئی دوسری تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی ؟عمران خان صاحب !آپ ملک کے وزیراعظم ہیں اور وزیراعظم خلیفہ وقت ہوا کرتا ہے ‘اسے بھی اپنے اقتدار کے ایک ایک لمحہ کا حساب خالق کائنات کو ہر حال میں دینا پڑتا ہے ۔اگر کوئی خلیفہ وقت بھیس بدل کر راتوں کو یہ دیکھنے کے لئے نکلتا ہے کہ کوئی اس کے دور میں بھوکا سو گیا تو اس کا جواب اللہ کو ضرور دینا پڑے گا
آپ ریاست مدینہ کا ڈھنڈورا تو پیٹتے ہیں کیا کبھی آپ نے یہ دیکھنے کی زحمت گوارا کی کہ آپ کی ریاست کا کوئی غریب پیراسٹامول کی ایک گولی خریدنے کی سکت بھی نہیں رکھتا ؟عمران خان صاحب !اپنی تبدیلی کو غریبوں اور بے کسوں کی مدد کے لئے فعال کریں نہ کہ ان کے خون نچوڑنے کے لئے ؟اگر آپ نے پاکستان کو بنانے والوں کے مطابق چلانا چاہتے ہیں تو خلق خدا سے چھینا جھپٹی کی پالیسی ختم کریں اور عوام سے زندہ رہنے کا حق چھینے کے بجائے انہیں زندہ رہنے کا حق دیں۔ہمارا آئین اور منشور بھی یہی کہتا ہے۔ عمران خان صاحب !کوئی ایسا کام غریب اور ناداروں کے لئے کرجائیں کہ لوگ آپ کو اچھے الفاظ میں یاد رکھیں ؟باتوں کا کھٹیا کھانے سے ریاست کے عوام کو ہی کچھ حاصل ہوتا ہے تاریخ اس کی گواہ ہے ۔جس ریاست میں بدتر ین مہنگائی ہواور مریضوں اور ناداروں سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا جائے ‘ایسی صورت میں اس ریاست کے حکمرانوں کو شرم تو ضرور آنی چاہیے کہ وہ خود اس ریاست کے حکمران کیسے کہتے ہیں ؟
گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل پر کمر توڑ مہنگائی کے بارے میں رپورٹر پیش کی گئی رپورٹ میں سوال کیا گیا کہ اپنے خیالات کا اظہار کریں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت درست کام کررہی ہے ؟وزیراعظم عمران خان صاحب !عوام کے یہ جذبات ریکارڈ پر ہیں کہ ”ہم پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر پچھتا رہے ہیں “ یہ جذبات چینل نے سو فیصددرست حکومت تک پہنچائے اس کے علاوہ بھی عوام نے مہنگائی کا روناروتے ہوئے حکومت کے بارے میں ایسے الفاظ ادا کئے جنہیں ہم تحریر میں نہیں لاسکتے لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ ”بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی “۔عمران خان صاحب !حالات وواقعات ظاہر کررہے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں آپ کے لئے عوام کے سامنے جانا مشکل ہوجائے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں