104

نیا بلدیاتی نظام ‘آدھا تیتر ‘آدھا بیٹر ؟

ہمارے ملک میں سیاست کے رنگ سمجھ نہ آنے والے رنگ ہیں اور جب سمجھ آتے ہیں تو اس وقت تک اکھاڑ پچھاڑ کا عمل مکمل ہوچکا ہوتا ہے اور نئے چہرے دلفریب نعروں کے ساتھ حکومتی سٹیج پر آکر اپنی پرفارمنس دے رہے ہوتے ہیں یہی کچھ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت کے 8ماہ بعد ہوا ہے وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی سیاست کو کرکٹ کھیلنے کا گراﺅنڈ سمجھ لیا ہے وہ ملک کے معاملات کو اپوزیشن جماعتوں کے تعاون کے بغیر ہی حل کرنا چاہتے ہیں اور ایسا کبھی پارلیمانی جمہوری نظام میں نہیں ہوتا تمام حالات اور نتیجہ حکمرانوں کے سامنے ہے یہ سارا کیا دھرا ان کا اپنا ہے اس کا دوش مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو دینا کسی بھی طرح جائز اور درست نہیں ہے عوام کے سر اور کندھوں پر مہنگائی کا بوجھ لاددیا گیا ہے۔
وزراءکو کام کرنے کا موقع ہی نہیں دیا جارہا ان کے کام میں وزیراعظم آفس اور خود ان کی جانب سے مداخلت کا سلسلہ جاری ہے پھر کارکردگی اچھی نہ ہونے کا بہانہ بناکر وزراءکو وزارت سے فارغ یا پھر ان کے محکموں میں تبدیلی کردی جاتی ہے پنجاب اسمبلی کا ایوان متفقہ طور پر اپنی اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت صوبائی وزراءکی تنخواہوں میں اضافے کا بل پاس کرلیتے ہیں تو وزیراعظم عمران خان ناراض ہوجاتے ہیں حالانکہ مسائل کا حل صوبائی ‘قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ایوانوں میں اکثریت رائے یا متفقہ رائے سے ہوتا ہے وزیراعظم اپنی رائے تو دے سکتے ہیں اسمبلیوں اور سینیٹ کے معزز ایوانوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا اختیار نہیں رکھتے لیکن وہ پنجاب حکومت کی پارلیمانی کابینہ کے اجلاسوں کی صدارت بھی کرلیتے ہیں جس پر عوام محسوس کرتے ہیں کہ عمران خان وزیراعظم ہونے کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب بھی ہیں اور وہ وزیراعلیٰ پنجاب ‘پنجاب کابینہ اور ایوان سے اپنی مرضی کے مطابق کام لے رہے ہیں۔
ایسا تو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒبھی نہ کرسکے لیکن انہوں نے جمہورکی رائے کا احترام کیا اگر وہ اپنی ذاتی رائے یا فیصلہ ملک پر مسلط کرتے تو ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام کے بجائے صدارتی نظام ہوتا لیکن منتخب قیادت کی اکثریت کی رائے پارلیمانی جمہوری نظام کے حق میں تھی قائداعظم محمد علی جناح ؒنے اس رائے کا احترام کیا حالانکہ بانی پاکستان ‘مسلمانوں کے دلوں پر حکمرانی کررہے تھے اور پاکستانی قوم انہیں اپنا نجات دہندا سمجھتی تھی اور آج بھی اس کی رائے یہی ہے اس کے باوجود قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی اپنی ایک رائے تھی کہ پارلیمانی نظام کی بجائے اگر صدارتی نظام اپنی مرضی سے نافذ کیا تو عوام اور سیاسی پارٹیاں اس کی راہ میں مزاحمت کریں گی اور یہ بات بانی پاکستان کو قبول نہ تھی ادھر حال یہ ہے کہ ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام کے تحت حکومت تشکیل پائی ہے لیکن وزیراعظم عمران خان ملک میں فیصلے صدارتی طرز حکومت والے کرنا چاہتے ہیں صدارتی نظام حکومت میں ریاست کی سربراہی ایک ہی شخص یعنی صدر مملکت کے پاس ہوتی ہے۔
صدر بیک وقت ہیڈآف دی سٹیٹ اور ہیڈ آف دی گورنمنٹ ہوتا ہے جب کہ پارلیمانی نظام حکومت کا سربراہ یعنی ملک کا چیف ایگز یکٹو وزیراعظم ہوتا ہے صدارتی نظام حکومت چونکہ صدر کو ریاست کے علاوہ انتظامیہ کے اختیارات بھی استعمال کرنا پڑتے ہیں اس لئے اس کے عہدے کا انتخاب براہ راست ہوتا ہے جیسا امریکہ میں ہے جب کہ پارلیمانی نظام حکومت میں صدر کو صرف ریاست مملکت کی نمائندگی کرنی ہوتی ہے انتظامیہ کے اختیارات ان کے پاس نہیں ہوتے اس لئے ان کا انتخاب براہ راست طریقے سے نہیں ہوتا بلکہ اس کا حلقہ نیا بت الیکیوریٹ تشکیل دیا جاتا ہے جیسا کہ پاکستان میں ہوتا ہے پاکستان میں صدر کے انتخاب کے لئے سینیٹ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان پر مشتمل حلقہ انتخاب تشکیل دیا جاتا ہے پاکستان میں صدارتی نظام حکومت کے تجربات ہوتے رہے ہیں لیکن عوام نے اس نظام کو قبول نہیں کیا حالانکہ صدارتی نظام حکومت کے تجربات ہوتے رہے ہیں لیکن عوام نے اس نظام کو قبول نہیں کیا حالانکہ صدارتی نظام حکومت کے حامی طاقت وروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت ناکام ہوچکا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ملک کو معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ملک میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام حکومت لانا پڑے گا حالانکہ بات اس طرح نہیں ہے جس طرح یہ لوگ سوچ رہے ہیں ۔
بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اللہ خان( مرحوم)کہا کرتے تھے کہ پارلیمانی جمہوری نظام کے مخالف ”سٹیٹس کو “ کے طاقت ور لوگ ملک میں اس نظام کو پھلنے پھولنے کا موقع ہی دیتے جب یہ نظام پاﺅں جمانے لگتا ہے یہی طاقت ور لوگ اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتے ہیں اور ملک کے سیاست دان دوبارہ اس نظام کی آبیاری اور قیام کی جدوجہد میںمصروف ہوجاتے ہیں سیاست دانوں کے پاس بندوق نہیں ہوتی اس لئے پاکستان میں ہمیشہ اتحادوں کی ضرورت رہتی ہے تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا اور متحد کرکے ملک میں پارلیمانی نظام حکومت کو رواں دواں رکھنے کا سلسلہ قائم رکھا جاسکے ملک میں سیاسی منظر نامہ ایک بار پھر تبدیل ہورہا ہے وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں کافی تبدیلی کی ہے اوزکزئی ‘پشاور کے قبائلی علاقے میں ایک جلسہ عام میں خیبر پی کے اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ سمیت صوبائی وزیروں کو اشارہ دے دیا ہے کہ کسی وقت بھی سرخ بتی روشن ہوسکتی ہے اور اسد عمر کی طرح چھٹی ہوسکتی ہے۔
پنجاب اسمبلی کے رواں اجلاس میں لوکل گورنمنٹ 2019ءنیا بلدیاتی بل منظوری کے لئے شور شرابے میں پیش کردیا گیا حکومت سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت کے بلدیاتی نظام کو ختم کرکے ایک اور نئے بلدیاتی نظام کا تجربہ کرنا چاہتی ہے جس میں ویلج کونسل اور تحصیل کونسل کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پر کرنا چاہتے ہیں جب کہ شہری حلقوں میں میونسپل کمیٹیوں اور دوسرے بڑے بلدیاتی اداروں میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہوں گے یہ تو آدھا تیتر اور آدھا بیٹر بلدیاتی نظام ہوگا اسی طرح کا غیر جماعتی بنیادوں پر جنرل ایوب خان کے دور میں بھی بلدیاتی انتخاب ہوا تھا اور بعدازاں ان بی ڈی ممبران سے ووٹ لے کر اور دھاندلی کرکے وہ صدر پاکستان بھی بن گئے تھے مگر عوام اس انتخاب اور اس کے نتائج کے خلاف سڑکوں پر آگئے تھے اور آخر کار جنرل ایوب خان کو اقتدار چھوڑ کر گھر جانا پڑا تھا ملک میں بلدیاتی نظام کو تبدیل کرنے کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی ملک کے معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اس نظام کو محض اس لئے تبدیل کردینا کہ یہ نواز شریف اور شہباز شریف کے دور میں منظور ہوا تھا کسی بھی طرح جائز اور درست نہیں ہے اس کو پنجاب اسمبلی سے منظور کروانا مشکل ہوجائے گا مسلم لیگ (ن) پنجاب اسمبلی میں نئے بلدیاتی نظام کی منظوری کے خلاف سپریم کورٹ جانے کی تیاریاں کرچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں