world bank 69

ورلڈ بینک سے بھی 40 کروڑ ڈالر قرضے کیلئے مذاکرات

اسلام آباد: موجودہ حکومت نے ملک کے ٹیکس سسٹم میں اصلاحات کے نام پر ورلڈ بینک سے 40 کروڑ ڈالر قرضہ لینے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
اس نئے قرضے کیلیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ورلڈ بینک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور چند ماہ کے دوران اس ضمن میں خاصی پیش رفت بھی ہو چکی ہے تاہم اکنامک افیئر ڈویژن کی طرف سے ابھی باضابطہ درخواست نہیں کی گئی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک نے اس نئے قرضے کے لیے وفاق اور صوبوں میں ریونیو تنازعات حل کرنے کے لیے آئینی ادارہ ’’نیشنل ٹیکس کونسل‘‘ تشکیل دینے کی شرط لگائی ہے۔ورلڈ بینک ایگریکلچر سیکٹر کے ٹیکس ڈھانچے میں بھی تبدیلی چاہتا ہے جس کی حکومت میں شامل بااثر جاگیرداروں کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے، ان مذاکرات کے ابتدائی ادوار میں قرضے کا حجم ساڑھے 28 کروڑ ڈالر رکھا تھا، اگر ورلڈ بینک کا بورڈ اس قرضے کی منظوری دے دیتا ہے تو گزشتہ 14 برسوں کے دوران عالمی بینک کی پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی یہ دوسری کوشش ہوگی، ماضی میں 15 کروڑ ڈالر سے شروع کی گئی ٹیکس اصلاحات کی کوششیں بری طرح ناکام ہوگئی تھیں اور مطلوبہ نتائج نہ ملنے کی وجہ سے یہ رقم ضائع ہوگئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں