75

وزیراعظم کا عزم اور زمینی حقائق

وزیراعظم عمران خان نے گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ”فرسودہ نظام کا خاتمہ کرکے دم لیں گے ۔بڑی خوشی ہوئی کہ وزیراعظم کی نظر نظام کی فرسودگی پڑی ہم ان کے جذبات کے مفہوم کو سمجھ نہیں پائے کہ انہوں نے پاکستان کے کس نظام کی فرسودگی کی بات کی ہے اس لئے کہ پاکستان کے ہر سرکاری ادارے کا نظام فرسودہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ خصوصاً وفاقی حکومت کے نظام کی فرسودگی پر اگر ہم کچھ لکھنا شروع کردیں تو ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے ۔اسی طرح ایک دوسرے پر کیچڑاچھالنے کی روش۔ وزیراعظم نے میاں نواز شریف کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ ”سابق وزیراعظم نے بلوچستان کے بجائے لندن کے زیادہ دورے کئے “ہم وزیراعظم عمران خان کے ان خیالات کے بارے میں کیا لکھیں ؟اس سلسلے میں ایک محاورا ہے کہ ” تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ ت±و“عمران خان صاحب وزیراعظم تو ضرور بن چکے ہیں لیکن جن مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انہوں نے جس فرسودہ نظام کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ انہیں اس فرسودہ نظام کو ختم کرنے کے لئے عوام کا ”دم “ نکالنے کا سلسلہ جاری رکھنا پڑے گا اور حالات ظاہر کررہے ہیں کہ وزیراعظم جتنی مہنگائی کرنے پر تلے ہوئے ہیں اس سے عوام کا دم یقینا نکل جائے گا۔
وزیراعظم صاحب ! آپ کی حکومت ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی جس انداز میں حوصلہ افزائی کررہی ہے اس سے عوام کی چلتی سانسیں رکنا شروع ہوچکی ہیں۔ آپ جس فرسودہ نظام کو ختم کرنے تک دم نہ لینے کے دعوے کررہے ہیں، آپ کے دم لینے تک عوام ”بے دم “ ضرور ہوجائیں گے ؟آپ جس فرسودہ نظام کو ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں اس کے خاتمہ کے آثار تو ہمیں دور دوردکھائی نہیں دے رہے ۔وزیراعظم صاحب !فرسودہ نظام کو ختم کرنے کادعویٰ بھی انہی سیاسی دعوﺅں میں شامل تھا جو دعوے آپ نے انتخابات سے قبل عوام سے کئے تھے ؟اب تو عوام اس نظام سے” نکونک“ ہوچکے ہیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا ہے کہ ”پرانے حکمرانوںنے ملک کو کنگال کردیا ہے “ ہوسکتا ہے کہ عمران خان کی یہ بات سچ ہو ؟مگر یہ بات بھی واضح ہے کہ موجودہ حکومت عوام کو کنگال کرنے میں جو کردار ادا کررہی ہے اس پر بھی ملک بھر میں شور شرابہ شروع ہوچکا ہے ۔وزیراعظم صاحب !آپ جو بھی سیاست کررہے ہیں ہمیں اس سے کچھ لینا دینا نہیں لیکن معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ آپ کی سیاست نے کاروباری طبقے کوتباہ کردیا ہے۔ ہم قریہ قریہ گھومتے ہیں تو ہمیں پی ٹی آئی کی ساکھ خراب ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
موجود حکومت نے عوام کو کنگال کرنے میں صرف سات ماہ میںجو کردار ادا کیا ہے وہ کسی سابق حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں بھی نہیں کیا ،اس کا واضح ثبوت گزشتہ روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اور جابرانہ اضافہ ہے اس پر ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ”ابھی تو ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا“۔ موجود حکومت نے پہلے سات ماہ میں اپنے اصلی چہرے سے تھوڑا ساپردہ اٹھایا ہے ،جب حکومت اپنا پورا چہرہ بے نقاب کردے گی تو پھر قوم خود ہی دیکھ لے گی کہ حکومت کی غربت مکاﺅ نہیں ،غریب مکاﺅ پالیسی پورے ملک میں جاری ہے ۔ہم نے اپنے کالم کی شروعات وزیراعظم کے اس دعوے سے کی تھیں کہ فرسودہ نظام کا خاتمہ کرکے دم لیں گے جناب عمران خان نے فرسودہ نظام کو ختم کرنے کے لئے حکومت کی لوٹ مار کی اسی گھمن گھیری میں قوم کو گھمائے رکھنا ہے تو وزیراعظم صاحب !قوم اس کے لئے بھی تیار ہے کہ عوام ستر سال سے حکمرانوں کے جھوٹ اور منافقت پر مبنی وعدوں اور دعوﺅں کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آپ نے انتخابی مہم میں عوام سے جو وعدے کئے وہ ریکارڈ پر ہیں۔ آپ کے مخالف آپ کے انہی وعدوں کے بارے جن الفاظ میں آپ پر تنقید کررہے ہیں ہم ان کی اس تنقید کو کیسے جھٹلا دیں کہ وہ سچ تو کہہ رہے ہیں۔
اب ہم آتے ہیں وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری کی طرف حیرت اس بات پر ہے کہ آج کل ہمیں وہ کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہیں اسی سلسلے میں انہوں نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو ایک خط تحریر کیا ہے کہ حکومت کا بدنیتی پر مبنی الزامات اور جھوٹی خبروں کی روک تھام کے لئے موجودہ قوانین کا نفاذ اس طرح مو¿ثر نہیں جیسے ہونا چاہیے۔ فواد چوہدری صاحب !میں ہم تو آپ سے یہی عرض کریں گے کہ شیر بنیں شیر ‘آپ تو پانچ چھ ماہ میں ہی ”ڈھگی ڈھا “ بیٹھے ہیں اگرآپ نیک نیت ہیں تو آپ کیوں پریشان ہیں ؟انسان اسی صورت میں پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے جب اس کی بدنیتی واضح ہوجاتی ہے اور بدنیتی اسی صورت میں واضح ہوتی ہے جب کوئی وزیر ،مشیر یا بڑاحکمران جھوٹ در جھوٹ کا سہارا لیتا ہے ۔ہم موجودہ حکومت کو بدنیت تصور نہیں کرتے ہم حالات وواقعات کے تناظر میں حکومت کے بدنیت ہونے کے ثبوت پیش کرنا شروع کردیں پھر ان الفاظ کا چناﺅ تو ضرور ہونا ہے کہ حکومت اور اس کو چلانے والے بدنیت ہیں ؟ہم نے دس روز قبل کھانے پکانے کا ایک لیٹر تیل کا پیکٹ ایک سواسی روپے میں خرید اتھا جب ہم گزشتہ روز تیل کا وہی پیکٹ خریدنے گئے تو وہ ہمیں دو سو دس روپے میں ملا حیرت ہوئی کہ دس بارہ روز میں ایک لیٹر خوردنی تیل کے پیکٹ کی قیمت میں تیس روپے کا اضافہ ہوگیا اور گزشتہ روز پٹرول کی فی لٹر قیمت میں چھ روپے کا اضافہ حکومت نے کردیا ۔ایسی صورت میں ہم حکومت کو بدنیت نہ کہیں تو اورکیا کہیں؟کیاپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پرحکومت کی حمایت میں لڈیاں ڈالیں ؟نہیں فواد چوہدری صاحب !اب جھوٹے کو جھوٹا اور نیت بدرکھنے والے کو بدنیت ہی کہا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں