74

وَرق وَرق زندگی

زندگی تو ہم سب کی ورق ورق ہے‘ منتشر منقسم! خال خال ہی شخصیات ہوتی ہیں جو ان اوراق کی جلد بندی کرکے اسے کتاب کی صورت دیتی ہیں۔ پروفیسر خالد شبیر احمد صاحب نے بھی اپنے اوراق زلیت کو ”ورق ورق زندگی“ کے نام سے کتابی شکل میں پیش کیا ہے۔ یہ ان کی آپ بیتی ہے جو نواسئہ بخاریؒ سید محمد کفیل بخاری صاحب کی فرمائش پر انہوں نے لکھی۔ خالد صاحب نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے‘ ایک مجاہد کی زندگی‘ ایک غازی کی زندگی! اب ریٹائر ہوکر بھی اپنے مقصد حیات کی لگن میںمگن ہیں۔ وہ مقصد حیات جو انہیں اپنے والد جناب نذیر مجیدی سے ورثہ میں ملا‘ وہ مقصد حیات جو نذیر مجیدی صاحب کو امیر شریعت حضرت عطاءاللہ شاہ بخاریؒ کی تحریک احرار سے ملا۔ احرار نے قیام پاکستان سے پہلے دو محاذوں پر دو عظیم الشان مقاصد کے لیے جنگیں لڑیں۔ ایک محاذ پر دشمن کو پسپا کرکے میدان چھوڑنے پر مجبور کردیا جب کہ دوسرے محاذ پر قیام پاکستان سے 27 سال بعد فتح حاصل کرکے اس دشمن کی سازشوں اور ریشہ دانیوں سے اسلام اور پاکستان کو محفوظ رکھنے کا جہاد اب تک جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ عظیم الشان مقاصد انگریز کی غلامی سے آزادی اور تحفظ ختم نبوت کے پرچم تلے جھوٹے نبی اور اس کی ذریت کو‘ جھوٹوں کو ان کے گھر تک پہنچانے کے لیے مسلسل تعاقب! قیام پاکستان کے بارے میں ہم پہلے بھی لکھتے ہیں کہ اس مکتب فکر کے علماءانگریز کی غلامی سے نجات اور اعلائے کلمتہ الحق کے لیے پھانسیوں پر نہ چڑھتے‘ اس تحریک کے رہنما جیلوں کی صعوبتیں جھیلتے ہوئے خیبر سے راس کماری تک کے ہندوستانیوں میں انگریز سے آزادی حاصل کرنے کا جنون پیدا نہ کرتے تو صرف مسلم لیگ کی پرامن سیاسی جدوجہد سے انگریز سے نجات ملتی نہ پاکستان بنتا۔ یہ منزل مراد حاصل کرنے میں غالب حصہ علمائے دیو بند کی جانی قربانیوں اور اسی مکتب فکر کے رہنماﺅں کی مصائب وآلام سے بھرپور جدوجہد کا ہے۔ انگریز سے آزادی ملی‘ پاکستان معرض وجود میں آیا۔ یہ پہلے محاذ پر فتح تھی۔ حضور ختم الرسلﷺ کی ختم نبوت کا بزعم خود بطلان کرنے والے‘ اسلام دشمن‘ خاتم النبین دشمن مرزا قادیانی کذاب کے کفریہ عقائد کی تبلیغ کرکے مسلمانوں کو گمراہ کرنے والے ٹولے کا تعاقب اور تحفظ ختم نبوت دوسرا محاذ تھا جس پر یہ حضرات ذی شان برسرپیکار رہے۔ مسلمانوں کی غیرتِ ملی کی آزمائش تھی کہ جھوٹے نبی کی یہ جھوٹی اُمت قیام پاکستان کے بعد قادیان سے پاکستان میں وارد ہوئی اور چنیوٹ کے قریب ربوہ (چناب نگر) کو اپنا مسکن بنا کر اسلام کا نام لیتے ہوئے اسلام کی جڑیں کاٹنے کی مذموم کارروائیوں میں منہمک ہوگئی۔ احرار نے ان کا تعاقب اور ان سے مسلسل جنگ جاری رکھتے ہوئے قیام پاکستان سے ستائیس سال بعد انہیں آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیئے جانے پر دوسرے محاذ پر کامیابی حاصل کی۔ ”ضرب آئینی“ کھا کر زخمی ہونے والے ان فتنہ پر دازوں کی سازشوں کے خلاف احرار کا جہاد اب بھی جاری ہے اور مسیلمہ کذاب کی اس نسل سے ہمیشہ جاری رہے گا۔ ان کی فتنہ پر دازی ختم ہوگی نہ ان کے خلاف یہ جہاد ختم ہوگا۔ اس گمراہ و گمراہ کن ٹولے کی مکمل بیخ کنی اس وقت تک ناممکن ہے جب تک امریکہ اور اسرائیل جیسے ان کے مربی و سرپرست باقی ہیں۔ لبرل اور سیکولر دانش ور اور این جی اوز باقی ہیں۔ یہ بے دین دانش ور یوں تو اسلام سے بیزار ہیں لیکن اسلام کا نام لے کر توحید اور رسالت کے مسئلہ پر فساد پیدا کرنے والے ٹولوں‘ ان ”مسلمانوں“ کے مددگار ہیں۔ اب جب کہ سانحہ نیوزی لینڈ کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں سے ہمدردی اور اسلام سے رغبت کی ایک بڑی لہر اٹھی ہے اور لوگ اسلام کی طرف مائل ہورہے ہیں تو انہیں ”اسلام“ کا لبادہ اوڑھ کر‘ ”پھپھے کٹن“ انداز اختیار کرکے دنیا بھر کے لوگوں
کو ”اپنے اسلام کی طرف گھسیٹنے کا موقع مل رہا ہے۔ تحفظ ختم نبوت کے مجاہدین ومبلغین کا ”زہر خوردہ متاثرین “ کو تریاق مہیا کرنے کے لیے چوکس ہوکر میدان میں رہنا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی حمایت و نصرت ان کے شامل حال رہے۔
پروفیسر خالد شبیر احمد صاحب نے زندگی بھر ان کے خلاف جدوجہد کی۔ وہ اس معاملہ میں ہر دم تیز دم رہے اور اس عمر میں بھی اس محاذ کی اگلی صف میں شامل ہیں۔ ان کی زندگی حرکت وعمل سے عبارت رہی۔ اپنے مقصد حیات سے اس درجہ مخلص رہے کہ اس راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ہٹا دیا۔ خود اپنے جاوئہ عمل سے نہیں ہٹے۔ انہوں نے کئی معرکے سر کیے۔ عملی طور پر لڑائیاں بھی لڑیں‘ ماریں بھی برداشت کیں۔ مسائل ومصائب کا بھی سامنا کیا لیکن ان کا ”ذوق جُرم“ ہر سزا کے بعد بڑھتا ہی رہا۔ قابل رشک ہے ان کی زندگی! امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری اور خانوادہ بخاری کے روشن چراغوں سے مولانا تاج محمود‘ شیخ حسام الدین‘ قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ شورش کاشمیری تک سبھی زعما میں مقبول‘ ان کی آنکھ کا تارا رہے۔ ان کی مجالس میں بیٹھے‘ ان کی عملی جدوجہد میں شریک رہے۔ شعبہ تدریس میں نام پیدا کیا۔ ہاکی کھیلی تو اس میں فتوحات اور انعامات لیتے چلے گئے۔ ادبی اور صحافتی مشاہیر سے ان کی مجالس رہیں۔ حلقہ ارباب ذوق میں آنا جانا رہا۔ شاعری بھی کرتے رہے۔ نعتوں کا مجموعہ ”حرف حرف بندگی“ اور غزلوں کا مجموعہ ”خواب خواب روشنی“ کے نام سے شائع ہوا۔ نثر میں روقادیانیت پر کتابیں اور زیر نظر آپ بیتی ”ورق ورق زندگی“ ان کے ہمہ صفت موصوف ہونے کی گواہیاں نہیں۔ چنیوٹ ان کا مولاو مسکن تھا۔ ملتان‘ خانیوال‘ بہاول پور وغیرہ میں ملازمت کرتے رہے۔ جہاں بھی گئے داستان چھوڑ آئے۔ ان کے والد محترم بھی بہت متحرک اور سیماب صفت تھے روز گار کے سلسلہ میں کبھی کہیں کبھی کہیں رہے۔ اسی بنا پر خالد شبیر صاحب چنیوٹ کے علاوہ لائل پور‘ لاہور اور عالم میں انتخاب دہلی میں بھی پڑھتے رہے۔ ہر جگہ‘ ہر مجلس میں‘ احراری زعما کی معیت میں بہت کچھ سیکھا۔ ان کی آپ بیتی میں پے درپے واقعات صفحے باندھے چلے آتے ہیں۔ ہمیں تقریر وہ پسند آتی ہے جو دو لفظوں میں اور کتاب وہ اچھی لگتی ہے جو دو ورقوں میں ختم ہوجائے‘ لیکن ”ورق ورق زندگی“ کے چار سو سولہ صفحات میں جہاں سے پڑھنا شروع کیا‘ یہ دو ورق ہی ختم نہ ہوپائے۔ سادہ اور رواں اسلوب نگا رش ہمیں اپنے ساتھ بہائے چلا گیا۔ ان کی زندگی کا ایک ورق قارئین کے سامنے بھی کھولتے ہیں لیکن کون سا انتخاب مشکل ہے؟ فال نکالنے کے انداز میں جو ورق سامنے آیا ہے‘ وہی پیش خدمت ہے لیکن کالم محدود اورواقعہ مبسوط ! ان سے معذرت کے ساتھ کچھ جگہوں سے چند جملے اس طرح چھوڑنے پڑیں گے کہ واقعہ کی روح متاثر نہ ہو۔ بچپن میں چنیوٹ سے لے کر خالد صاحب جس جس شہر میں رہے‘ تقریباً ہر شہر میں ان کی ملاقات عطاءاللہ شاہ بخاریؒ سے ہوتی رہی۔ ایک ملاقات کا حال لکھتے ہیں۔ انہی دنوں مولانا ابوالکلا آزاد کا انتقام ہوا تھا اور حصرت شاہ جیؒ اپنے مرشد حضرت عبدالقادر رائے پوری صاحب سے ملنے لاہور آئے ہوئے تھے۔ لکھتے ہیں ” مولانا ابوالکلام آزاد کے انتقال پر اخبارات میں اطلاع دی گئی کہ مولانا داﺅد غزنوی صاحبؒ موچی دروازہ کے باہر آپ کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ چنانچہ میں ایک ساتھی کے ساتھ نماز جنازہ میں شرکت کے لیے موچی دروازے پہنچ گیا۔ جنازے سے فارغ ہوئے تو ایک ملنے والے نے بتایا کہ عطاءاللہ شاہ بخاریؒ صاحب شملہ پہاڑی کے پاس اپنے ایک عقیدت مند کی کوٹھی میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ شاہ جی ؒجیل روڈ پر صوفی عبدالحمید کی کوٹھی پر رہائش پذیر ہیں‘ جہاں حضرت رائے پوریؒ کا قیام ہے۔ پیدل بہت سفر کرکے وہاں پہنچے تو وہ لان میں اپنے عقیدت مندوں کے درمیان تشریف فرما تھے جب کہ حضرت رائے پوریؒ اندر ایک وسیع کمرہ میں تشریف فرما تھے۔ میں نے حضرت شاہ جیؒ کو سلام عرض کیا اور کہا کہ حضرت آج تو میں آپ کے لیے بہت پیدل چلا ہوں۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ سے ملاقات ہوگئی۔ تھکاوٹ ساری دور ہوگئی ہے۔ میں نے سارے سفر کی کہانی سنادی فرمانے لگے ”کیا یہ مجھ پر تمہارا کوئی احسان ہے؟ اپنے بیٹے ہو‘ ملنے کے لیے آئے ہو۔ آﺅ میرے پاس بیٹھو۔ میری طرف بھی تو دیکھو‘ اس عمر میں تین منزلہ ہسپتال سے دانت لگوا کر آرہا ہوں“۔ میں آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ تذکرہ تو ہورہا تھا مولانا ابوالکلام آزاد کی عظمت کا اور زبان تھی امیر شریعت کی۔ منہ سے پھول جھڑ رہے تھے۔ ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔ شاہ جیؒ فرما رہے تھے ”کیا یہ حکومت ہندوستان کا مولانا آزاد پر احسان تھا کہ اس نے انہیں وزیر تعلیم بنایا ہوا تھا‘ بھائی یہ تو مولانا آزاد کا ہندوستان حکومت پر احسان تھا کہ وزارت تعلیم کو قبول کرلیا۔میری تمام زندگی پڑھے لکھے لوگوں میں گزری ہے۔ ایسا عالم فاضل شخص میری نظروں سے کبھی نہیں گزرا۔ عربی جن کی مادری زبان ہو‘ اردو جس کی ہاتھ کی چھڑی ہو‘ فارسی جس کے گھر کا پانی بھرتی ہو اور انگریزی بھی ایسی خوب جانتے تھے کہ (مجھے مخاطب کرکے بولے) بابو تم بھی کیا جانو۔ وہ ہمارے دور کے واقعی امام تیمیہؒ تھے۔ شاہ جیؒ ابوالکلام آزاد کی شخصیت کردار اور خدمات کا ذکر اپنے مخصوص انداز میں کررہے تھے اور میں بڑے غور سے ان کے چہرے پر نگاہ دوڑا رہا تھا۔ آج بھی دل میں رہ رہ کر اس تاباں چہرے کی روشنی اور نورانیت جھلملاتی ہے۔ وہ اس تذکرہ سے مخمور تھے۔ اتنے میں ایک آدمی نے آپ کے پاس آکر کہا ”حضرت رائے پوریؒ آپ کو اندر یاد فرما رہے ہیں“۔ شاہ جی کا وہ چہرہ جو چند لمحے پہلے جگمگ کررہا تھا۔ اس کا رنگ تبدیل ہوگیا۔ ایک بالکل مختلف کیفیت شاہ جیؒ پر طاری ہوگئی۔ ان کی ہر اختیاری اور اضطراری حرکت سے معلوم ہورہا تھا کہ کوئی طالب اپنے گراں قدر مطلوب کے پاس جارہا ہے۔ چہرے پر اب سرخی کے بجائے قدرے زردی تھی۔ پہلے بے تکلفی کے تاثرات تھے۔ اب اس کی جگہ متانت نے لے لی تھی ۔پہلے ننگے سر تھے‘ اب بڑے اہتمام سے رومال سر پر باندھ رہے تھے۔ کھڑے ہوئے اور عجز وانکساری کی تصویر بنے ایک سعادت مند مرید کی طرح ایک باکمال پیر کی بارگاہ کی طرف چل دیئے۔ سب لوگ کھڑے ہوگئے۔ ہم دونوں بھی حضرت شاہ جیؒ کے پیچھے پیچھے چل تو دیئے لیکن کمرے کے دروازے پر آکر کھڑے ہوگئے۔ وسیع کمرہ میں تل دھرنے کو جگہ بھی نہیں تھی۔ دروازہ ہی میں پہلی اور آخری بار ہمیں حضرت رائے پوریؒ کی زیارت ہوئی۔ ایک بڑے پلنگ کے ایک کونے میں حضرت تشریف فرما تھے۔ بالکل نحیف ونزار جیسے گوشت اور ہڈیوں کی ایک ڈھیری کسی نے بستر پر رکھ دی ہو۔ شاہ جیؒ بھی انتہائی ادب کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے‘ سلام عرض کیا اور چارپائی کے ساتھ زمین پر بیٹھنے لگے تو حضرت رائے پوریؒ نے فرمایا“ نہیں شاہ جیؒ‘ آپ اوپر میرے ساتھ چارپائی پر تشریف رکھیں“۔ شاہ جی ؒحکم کی تعمیل میں چارپائی پر بیٹھ گئے۔ ہم دروازے پر کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ کمرے میں بیٹھے تمام لوگ شاہ جی کے سامنے تھے۔ شاہ جی ہمارے سامنے تھے۔ شاہ جیؒ کو حضرت رائے پوریؒ نے فرمایا ”آپ کو اس لیے بلوایا ہے کہ آپ ان لوگوں کو وعظ فرمائیں“ بس پھر کیا تھا‘ وہ شاہ جیؒ جو لاکھوں کے مجمع میں اپنی گر جدار آواز سے تقریر کرتے کئی بار سنے اور دیکھے تھے‘ انتہائی کمزور آواز میں واقعی وعظ فرما رہے تھے۔ مجھے اس دن معلوم ہوا کہ تقریر اور وعظ میں کیا فرق ہے“۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں