47

چرواہو، یہ بکریاں تمہاری ذمہ داری ہیں

” او، اِہنُوں کے ہویا اے“ ہمارے پاس بیٹھے ایک دوست نے حیران ہوکر کہا۔ پڑھنے کے لئے ہمارے پاس ایک کتاب آئی تھی، جس پر ایک اخبار چڑھا تھا۔ ہمارے دوست اسی اخبار سے ذوق مطالعہ کی تسکین کررہے تھے کہ اچانک ان کے مُنہ سے نکلا ” اوئے ، اسے کیا ہُوا؟“ہم نے پُوچھا ” کیسے؟“ تو اُنہوں نے بند کتاب پر لپٹے اخبار کی ایک خبر پراُنگلی رکھ کرکتاب ہمارے آگے کردی۔ یہ حکومت کے ایک ”بانس چڑھے“ کابیان تھا۔ حکومت کی مُونچھ کابال ہوتے ہوئے اُس نے حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خُوب لتّے لئے تھے۔ اُس نے بجلی، گیس، پٹرول اور بہت سے وغیرہ غیرہ کے نام لے کراُن کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے پر حکومت کو خُوب کھر ی کھری سُنائی تھیں، بات واقعی حیران کُن تھی۔ ہم نے کتاب پرلپٹا اخبار کھول کر ” سباق وسباق“ کی خبریں دیکھیں۔ اخبار کی تاریخ دیکھی تودوست کی تسلّی کرادی کہ یہ پرُانا اخبارہے جب یہ آتش جوان نہیں ہُوا تھا۔انگوٹھا چُوسنے والا بچہ تھا۔ اب ماشا ءاللہ جوان ہوکر مُلک کے چیف ایگزیکٹو کا دست راست ہے۔ تھی تووُہ بھی آگ ہی تاہم بچپنے والی تھی۔ اب وُہ بُجھ چُکی ہے۔ اب ایک نئی آگ لگی ہے۔ عوامی ضروریات کی جن چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر سابقہ حکومت کے پرخچے اُڑا رہاتھا، اب اُنہی چیزوں کی قیمتوں کو شُرلی بناکر آسمان پرچڑھانے کے لئے ماچس جلانے والوں میں خود ہی شامل ہے۔ حکمران خود کہتے ہیں کہ ہم عوا م کی چیخیں نکال دیں گے، پھراُسی مقام پر آجاتے ہیں جسے آپ ون وے پر ایک سڑک سے ، پہلو میں مخالف سمت جانے والی سڑک پر آنے کے لئے استعمال کرتے ہیںیعنی یُوٹرن! ” ہم عوام کی چیخیں نہیں نکال رہے“ واقعی حکمران عوا کی چیخیں نہیںنکال رہے۔ وُہ توسرکاری محکمے بجلی، گیس، پٹرول وغیرہ اور صنعت کار ، تاجر وغیرہ پہلے ہی نکال رہے ہیں۔ حکمران کیا نکال رہے ہیں، اس کانام رکھنے کے لئے زبان کے ماہرین کا دماغ چیخ چیخ کرسوچ رہاہے لیکن کوئی نام رکھنے میں کامیاب نہیں ہورہا جواس کے لئے باون تولے پاوُرتی صحیح بیٹھ سکے۔ یہ ساس بُہو کاجھگڑا ہے کہ بہو تھی توساس اچھی نہیں تھی، ساس بنی ہے توبُہو اچھی نہیں ملی ” بہوئیں اچھی نہیں نہ ساسیں اچھی۔ ہاں مگر جودے دیں، دو سانسیں اچھی“ ساس بہو کے جھگڑے میں رگڑا عوام کاہوتاہے۔ عوام جو آم ہیں کہ چُوس لئے۔ اللہ کی کرنی سے اُن میں پھر گُودا آگیا۔ پھرچُوس لئے۔ یا ملک شیک بنا کر غٹاغٹ پی گئے یا اَنعام ہیں، ریوڑ ہیں، لاٹھی سے ادھر ہانک اُدھر ہانک دیئے۔ دُودھ دوہ لیا۔ ذبح کرکے کھالیا۔ اللہ کی کرنی ، ذبح کرنے کے لئے وہی ریوڑ پھر موجود کُچھ عرصہ پہلے ان جانوروں کو ذبح ہوتے دیکھ کر تڑپ تڑپ جاتے تھے۔ ارفع مقام کنٹینروں پرچڑھ کر روتے تھے۔” میری قوم کی بکریاں بجلی سے جُھلس رہی ہیں ، گیس سے جل رہی ہیں، پٹرول سے بھڑک رہی ہیں، مہنگائی میں روسٹ ہورہی ہیں۔ چروا ہو، خدا کاخوف کرو، بندے کے پُتر بنو۔ ان بے زبانوں پر رحم کرو۔ ان کاراتب خود کھاجاتے ہو۔ ان کے نام پر آس پاس کی چراگاہوں سے بھی چارہ مانگ کے ہڑپ کرجاتے ہو۔ تُم سے اس ریوڑ کی نگہبانی نہیںہوسکتی توچرواہوں والا لباس اُتاردو۔ کسی اور کوپہننے دو۔ میری بکریو، مُیں تمہارا غم خوار ہُوں۔ سّچا ماتم گُسا رہُوں۔ ان چرواہوں سے لاٹھی چھین کرمجھے دو ۔ کیونکہ مرزا غالب نے بھی کہاتھا ۔
عصانہ ہو توکلیمی کا ہوتا ہے کام خراب
قارئین کرام، سمجھایہ جاتاہے کہ اُردو میں شعرکہنے والے صرف تین شاعرہیں۔ مرزا غالب ، علامہ اقبال اور فراز۔ اس لئے موبائلوں پرمرمّت شُدہ یامن گھڑت، جو بھی شعر لکھے جاتے ہیں۔ وُہ عوا م کی طرف سے غالب، اقبال اور فراز کوعطا کردیئے جاتے ہیں۔ عوام کے عطا کردہ اشعار کی تعداد اس قدرہے کہ علامہ اقبالؒ کا، دیوانہ کرنے والا ایک دیوان اوربوجھوں مارنے کے لئے فراز کاایک ضخیم مجموعہ چھپ سکتاہے۔ مرزاغالب کو بھی بعداز مرگ کثرت سے کلام بخشا جاتاہے۔ قارئین سے معذرت، تقریر کاٹمپو خراب ہوگیا لیکن یہ بات بھی ضروری تھی۔ ہم پھر کنٹینر پر چڑھتے ہیں اورتقریر کووہیں سے کھینچتے ہیں۔ توسُنیے” میں تمہارا پیٹ بھردُوں گا، تمہاری جلن، جُھلسن پر مر ہم رکھ کرتمہارے زخموں کو بھردُوں گا۔ یہ لاٹھی یہ عصا چھین کرمُجھے دے دو ۔ پھر اس کے مُعجزے دیکھو۔“ بکریوں کے غم خواروں کو عصا دے دیاگیا۔ کارِ کلیمی ” شروع ہوگیا۔” معجزے“ ہونے لگے۔ بغل میں کُچھ دبا رکھاتھا اسے بھینچ لیاگیا۔ کبھی ” نہیں نہیں“ کرکے بغل کو ڈھیلا چھوڑدیتے، کبھی دبالیتے۔ آخر بغل میں ہاتھ ڈال کرنکالا توکشکول نکل ہی آیا۔ عصا تڑاک تڑاک بکریوں کے سروں پربرسنے لگاتو وُہ ”باں باں“ کرنے لگیں۔ یہ ”کارِ کلیمی“ ہرگز نہیں تھا، جادوئے سامری تھا۔ لاٹھی توچروا ہوں کی تھی، جادوئی منتر تھا اُس چراگاہ والوں کا جن سے چارہ مانگنا تھا۔ ” ہُو، شرشر شرار“ لاٹھی نے بجلی کو چُھوا تو وُہ اورتیزی سے لپکنے لگی، بکریوں کو اور جُھلسانے کے لئے۔”ہُو، شرشرشرار“ کہتے ہوئے لاٹھی کو پٹرول کے قریب کیاتو اُس نے اور تیز آگ پکڑلی ۔مہنگائی کی کڑاہی کاتیل اوراُبلنے لگا۔ پہلے ہی، بجلی، پٹرول، مہنگائی کادرجہ کم بُلند نہیںتھا، اب اور زیادہ بُلند ہوگیا۔ رافع الدرجات سرکار کی طرف سے یہی تبدیلی تھی جس کاوعدہ کیاگیا تھا۔ تبدیلیاں اوربھی بہت سی آئیں۔ بیانات میں تبدیلی ” اندازِ مانگیات“ میں تبدیلی، ترجیحات میں تبدیلی ۔ کئی پیمائشوں میں تبدیلی آگئی ۔ سرکاری پتلونوں کی ویسٹ بڑی ہوگئی۔ کشکول کاسائنربڑاہوگیا ۔ جُھوٹی آس دلانے کے پیمانے بڑے ہوگئے، حیلے بہانے بڑے ہوگئے۔
قارئین کرام! یہ آئینہ ہے سیاست دانوں کےBefore اورAfter کا۔ نسلاً، عقلاً، فطرتاً سب ایک ! ووٹ لینے کے لئے سب سرجُھکا کرآتے ہیں اور کامیاب ہوکر مرکھنے بیل کی طرح اُسی سرسے عوام کو ٹکریں مارتے ہیں۔ سینگوں پراُٹھا کر زمین پرپٹج دیتے ہیں۔ ان کے دعوے ” یُو عد“ اور وعدے ”یدعو“ بن جاتے ہیں۔ اُلٹے ہوجاتے ہیں۔ جمہوریت ، جمہوری آمریت، فوجی آمریت سب وبال ہیں اگر عوام سُکھی نہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد کسی حکمران کو بھرا ہُوا خزانہ نہیں ملتا۔ سب کہتے ہیں اگلے لُوٹ کرکھاگئے کالج میں فزکس کے پریکٹیکل کرتے ہُوئے جب مطلوبہ فریکشن ویٹ نہ ملنے کی شکایت اپنے پروفیسر صاحب سے کرتے تو وُہ کہتے ” آپ کے آباﺅ اجداد لے گئے۔“ اُن کا مطلب ہوتا کہ ہم سے پہلے پڑھنے والے طالب علم چُرا کرلے گئے۔ اقتدار کے اُمیدواروں کوعلم نہیں ہوتا کہ اُن کے ”آباﺅ اجداد“ خزانہ لُوٹ رہے ہیں۔ وُہ حکمران بنیں گے توخزانہ خالی ملے گا۔ پھرکیوں اقتدار کا ورلڈ کپ اُٹھانے کے لئے لپک لپک کردوڑتے ہیں۔ کوئی چاٹ کوئی چسکا توہے نا، جو ” خزانہ خالی“ ہونے کے باوجود اُنہیں اپنی طرف کھینچتا ہے ، اس سارے عمل میں عوام اوراُن کی فلاح و بہبود کہاں سے آگئی ، جس کے نام کا وظیفہ پڑھتے ہوئے بے دَم ہوجاتے ہیں۔ ریاست مدینہ میں یہ چاٹ چسکا توسرے سے نہیں تھا۔ اللہ کے خوف سے عوا م کی فلاح و بہبود مطمع نظر ہوتا تھا۔ یہاں یہ بنیادی عنصر معدُوم، سارا نظام ہی ذاتی مفاد، چاٹ چسکا کے گرد گُھوم رہاہے۔ صدر ایوب دُودھوں دُھلا بالکل نہیں تھا۔ ہم نے آج ہی اعداد وشمار سے بھر ا کالم آج کے معاصر میں پڑھاہے۔ کالم نگار نے ثابت کیاہے کہ پاکستان کی معیشت کابیڑہ غرق کرنے کی ابتدا ایوب خان نے کی تھی۔ کہا جاتاہے کہ جُھوٹ کی تین قسمیں ہیں۔ جُھوٹ ، سفید جُھوٹ اورتیسری قسم اعداد و شُمار ! چلئے ان اعداد وشمار کو صحیح مان کر اُسے ملکی معیشت کاپہلا غرق کنندہ تسلیم کرلیتے ہیں ۔ دوم اُس نے مارشل لگا کر حکومت کی، اس طرح اُس نے ملکی سیاست اورنظامت کوغلط راستے پر لگا یا۔ اُ س کے دَور میں ”بیس روپے مَن آٹا۔ اس پربھی ہے سناٹا“ کی آوازیں بھی خُوب گُونجتی رہیں۔ اس کے باوجُود اُس دَور میں سُکھ کاجوسانس عوام نے لیا وُہ اسے پھرکبھی نصیب نہیںہُوا۔ اشیائے صرف کی نسبتاً ارزانی اورعوام کی اُن تک رسائی رہی۔ زراعت اورصنعت کے شُعبوں میں نُمایاں ترقی اُسی کے دَور میں ہُوئی۔ دُنیا بھرمیں پاکستان کانیک نام اور اعلیٰ مقام رہا۔ عالمی سطح پر کسی بھی دُوسرے دَور کی نسبت پُروقار خارجہ پالیسی رہی۔ عالمی زُعما میں صدرایوب ایک باوقار شخصیت رہے۔ عوا م نہیں جانتے، نہ اُنہیں کوئی دلچسپی ہے کہ اُن کاحکمران غاصب ہے، آمر ہے یا جمہوری ، اُنہیں بنیادی ضروریات اورامن وامان چاہئے۔ ہمارے کسی بھی حکمران نے ایسا کیاہے کہ اُس نے اقتدار میں آنے کی جدوجہد کرنے سے پہلے، عوام کو سامنے رکھ کر ہوم ورک کیاہو۔ معیشت جوتمام مسائل پیدا کرتی اورحل بھی یہی کرتی ہے۔ کسی نے گہرائی میں جاکراس کامطالعہ کیاہو۔ مسائل کا ادراک اور ان کے حل کی منصوبہ بندی کی ہو۔ ہم کہتے ہیں، اس کی بھی اتنی ضرورت نہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ حکمران بنیں گے اس لئے پہلے ہی ہوم ورک کرلیں۔ ذمہ داری پڑی اور کایاپلٹ گئی۔ صرف خوف ،خُدا ، نیک نیتی اورعوام کے حقوق کی جواب دہی کے احساس نے راہیں کھول دیں۔ اپناامیرانہ ٹھاٹھ باٹھ آہستہ آہستہ مرحلہ وارنہیں، یک لخت ختم کردیا ۔ اُن کی بیوی نے بھی رہن سہن بدل دیا۔ احتساب کا آغاز جُرا¿ت مندی کے ساتھ اپنے اقربا سے کیا۔ بے جا حکومتی اخراجات پرقلم پھیر دیا۔ نمائشی طورپر نہیں ، واقعی طورپر! ہمارے حکمران اور ممبران عوا م کی خدمت کے نام پر اسمبلی میں داخل ہونے کے لئے مرے جارہے ہوتے ہیں۔ یہ سب کے سب امیر کبیر، کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں۔ دگرگُوں معیشت، مہنگائی اورعوام کی زبوں حالی کو دیکھ کر اپنی تنخواہوں ، مراعات، مستثنیات سے فوراً دست بردار کیوں نہیں ہوجاتے۔ انہیں یہ توفیق حاصل ہوجائے توعوام کی خدمت کی طرف اُن کا پہلا قدم ہوگا۔ دُرست سمت کو سفر شروع ہوگا۔ منزل بہت جلد قریب آجائے گی ۔ اے جذبہ دل ، گرمَیں چاہُوں، ہرچیز مقابل آجائے ۔ دوگام چُلوں منزل کی طرف اورسامنے منزل آجائے۔ حضرت عمرفاروقؓ ہوں، حضرت عمر ثانی رحمتہ اللہ علیہ یاہمارے دیگر خلفائے راشدینؓ عوام کے حقوق کی پاس داری میں اُن کی جان اٹکی رہتی تھی۔ اپنے آقا ﷺ کافرمان ہر وقت اُن کے سامنے رہتا تھا۔ ریاست مدینہ کا نام لینے والوں کوبھی سرکار مدینہ ﷺ کے فرمان کاعلم ہوناچاہئے کہ تُم میں سے ہرشخص نگہبان ہے اوراُس سے ( اُس کے نگہبانی میں آنے والے) ہرفرد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔( کہ اُس نے اُن کے حقوق کہاں تک پُورے کئے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں