asghar ali khokher 2018 25

ڈاکٹر حسن بیگ سے ملاقات

ڈاکٹر حسن بیگ کا مختصر تعارف یہ ہے کہ آپ دہلی میں پیدا ہوئے۔ تعلیمی مراحل کراچی، برطانیہ اور ایڈنبرا میں طے کئے۔ آپ دس سال تک ایک طبی مجلّے کے ایڈیٹر بھی رہے۔ ڈاکٹر حسن بیگ تاریخ سے نہ صرف گہری دلچسپی رکھتے ہیں بلکہ آپ کی کوششوں سے مغلیہ دورپر لکھی گئی کتابیں، جن میں وقائع محمدظہرالدین بابر ، مآثر رحیمی ، خانخاناں نامہ ،سوکمارے کی بیرم خان وغیرہ شامل ہیں ، نئی آب و تاب سے منظر عام پر آئیں۔ ڈاکٹر حسن بیگ نے ان تاریخی کتب کے آسان حواشی سمیت بعض واقعات کی تفصیلات میں اضافہ کیاتاکہ تاریخ کا ہرقاری ان واقعات کو بخوبی سمجھ سکے۔ ڈاکٹر حسن بیگ جولندن میں مقیم ہیں گذ شتہ دنوں ایک عزیز کی شادی میں شرکت کے لئے پاکستان تشریف لائے توپریس کلب لاہور میں ان سے ملاقات ہوئی ۔یہ ڈاکٹر حسن بیگ سے راقم کی دوسری ملاقات تھی اس سے قبل نومبر2018ءمیںبھی ان سے تب مختصر سی ملاقات ہوئی جب وہ” مآثر رحیمی ‘ ‘ کی تقریب رونمائی کے سلسلے میں لاہور پریس کلب میں تشریف لائے تھے اور دیگر سامعین کے ساتھ راقم کوان کا خطاب سننے کا موقع ملاتاہم دامنِ وقت میں کمی کے باعث ان سے تبادلہ خیال کاموقع نہ مل سکا اوریہ تشنگی قدرے اس مرتبہ کم ہوئی جب بیس پچیس منٹ کی ملاقات میں مجھے ملت اسلامیہ کی زبوںحالی بارے ڈاکٹر حسن کی سنجیدہ گفتگو سننے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر صاحب سے گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ نہ صرف اُمہ کو درپیش سیاسی، معاشی، معاشرتی اور جغرافیائی سرحدوں جیسے مسائل کاگہراادراک رکھتے ہیں بلکہ ان مسائل کے حل کے لئے ایسی تجاویز بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر عالم اسلام کے سرکردہ لیڈر ان تجاویز پر غور کرکے آگے بڑھیں تو متعدد مسائل فوری حل ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب عصر حاضر کے مسائل، جن میں دہشت گردی سب سے اہم مسئلہ ہے کو کنٹرول کرنے کے لئے بین المذاہب سنجیدہ مکالموں پرزور دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر حسن بیگ جہاں پاکستان میں آزادی صحافت کو خوش آئند قرار دیتے ہیں وہاں پر نٹ اورالیکڑانک میڈیا کے لئے قابل عمل ضابطہ اخلاق مرتب کرنے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرنے کو بھی بہت اہمیت دیتے ہیں ان کاکہناہے کہ قومی سلامتی ہماری اوّلین ترجیح ہونی چاہئے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے بعض میڈیا ہاﺅسز کے اینکر جن میں مرد وخواتین دونوں شامل ہیں اپنی رٹینگ بڑھانے کے لئے ایسی گفتگو کرتے ہیں کہ دیار غیر میں بیٹھے ہمارے سرشرم سے جھک جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قلم کی حرمت کی بے حرمتی نہیں ہونی چاہئے۔ خبر کوئی بھی ہو۔ اس کی صحت بارے تسلی کرنا رپورٹر کی ذمہ داری ہے بعد کی معافیاں حالات خراب کرنے کی تلافی نہیںکرسکتیں۔ انہوںنے خاص طورپر کہاکہ یہ ایسا وقت کہ مجھے ہفت روزہ ” تکبیر “کے مرحوم ایڈیٹر صلاح الدین بہت یاد آتے ہیں۔ حکیم محمد سعید شہید کانام ذہن میں آتا ہے یہ لوگ قلم کی حرمت کی پاس داری کرنے والے تھے ان کی تقریریں اورتحریریں ایسا سرمایہ ہےں جس سے آج کے اہل قلم کو استفادہ کرناچاہئے۔ اس بات کا زبان سے اقرار کافی نہیںکہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ اس ستون کو مضبوط کرنابھی ضروری ہے تاکہ یہ گرنے یاجھکنے نہ پائے، اس پر انگلیاں نہ اٹھیں۔ پاکستان اسلام کاقلعہ ہے اس میں کوئی شک نہیں مگر اسلام کے اس قلعے میں نسلی، لسانی اورصوبائی تعصب کی دراڑیں نہیں پڑنی چاہئیں ۔پاکستان میں میرٹ کی قدر اور قانون کی بالادستی لازم ہے۔ حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ عوام کو صرف سیاسی خواب ہی نہ دکھائیں ان کے مسائل بھی حل کریں تاکہ قیام پاکستان کامقصد پورا ہوسکے۔ یہ ملک اسلامی فلاحی ریاست اسی صورت بن سکتاہے جب اس کی نظریاتی اساس کو اُجاگر کیا جائے، اس کاتحفظ کیاجائے۔ جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں، یہ انتہائی اقدام ہوتاہے جس طرح یہ بات حقیقت ہے اسی طرح اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اگر دشمن مکار اور عیار ہوتو قیام امن کے لئے جنگ کے لئے تیاررہنا ضروری ہے۔ ہمیں اپنی تہذیب وثقافت کونہیں بھولنا چاہئے۔ ایسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں جن سے ”جیواور جینے دو“ کی پالیسی فروغ پاسکے۔ عالم اسلام کے رہنما غیر مسلم حکمرانوں سے جوبھی معاہدے کریں،ان میں اُمہ کا مفاد مدنظر رکھنا ضروری ہے، حالات کاتقاضا ہے کہ عالم کفر کے مقابلے میں عالم اسلام کاسیاسی ،معاشی اورثقافتی بیانیہ ایک ہواگر اُمہ اس پرسنجیدگی سے غو ر نہیں کرے گی توایسے حالات کا شکار رہے گی، جس طرح اب ہے، کہ دنیا کے سب بڑے بڑے انتہا پسند ایسے اقدام کرنے میں مکمل آزاد ہیں جن کے باعث دنیابھر میں دہشت گردی بڑھی ہے مگر اس کی ذمہ داری مسلمانوں پرڈالی جارہی ہے، عالم اسلامی کے لئے یہی لمحہ فکریہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں