66

کتا مار مہم

خبر آئی ہے کہ لاہور شہر میں آوارہ کتوںکی تلفی کے لئے باقاعدہ آپریشن شروع کردیاگیا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں 54 آوارہ کتے تلف کر دیئے گئے ہیں۔ان کتوں کے خلاف شکایت یہ درج کی گئی ہے کہ یہ اکثرراہ چلتے راہگیروں کوبلاوجہ گھورتے ہیں،بھونکتے رہتے ہیں اورجب باﺅلے ہو جاتے ہیں تو شہریوں کو کاٹنے بھی لگتے ہیں۔آوارہ کتے تلف کرنے کے اس اقدام کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔ شہر کی انتظامیہ کو گاہے بگاہے یہ آپریشن جاری رکھنا چاہئے۔ مگر حیوان دوست ہونے کے ناطے ایک رائے یہ بھی ہے کہ ان آوارہ کتوں کو تلف کرنےکی بجائے حیوان دوست ماحول میں زندہ رکھا جاتا اور انہیں سدھارنے کی کوئی کوشش کی جاتی۔
بلوچستان کے شہر لورالائی سے دوسری خبر یہ آئی ہے کہ وہاں ایک قصاب نے کتے کو ہرن کا گوشت ظاہر کرکے معززین شہر کو کھلا دیا ۔ آخر کار کسی سیانے نے جو پہلے ہرن کے گوشت کا ذائقہ چکھ چکا تھا کتے کا گوشت کھانے کے بعد فرق تلاش کرلیا اورانتظامیہ کو اس فنکار قصاب کی شکایت کردی کہ جناب یہ ہرن نہیں کتے کا گوشت فروخت کررہا ہے اور ہرن کے نام پر عوام کو لوٹ رہا ہے۔ گمان یہی ہے کہ لورا لائی انتظامیہ کے کسی سرکاری افسر نے بھی کتے کا گوشت چکھ لیا تھا اور پھر اس کے اوسان ہرن ہوگئے۔ کمال کے لوگ ہیں ہم، مٹی کو سونا اور سونے کو مٹی بنانے کا فن خوب جانتے ہیں۔ دولت کمانا تو جیسے ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔ ایسے ہی کچھ فنکار سیاسی میدان میں بھی کود چکے ہیں اور انہوں نے عوام کی توجہ حاصل کرنے کا فن خوب سیکھ لیا ہے مگر بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی۔ آخر دھر ہی لئے گئے۔
فیاض الحسن چوہان سابق وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب کی طرح ”بڑھک گروپ“ کے کئی اور ارکان بھی ہمارے وزیراعظم خان کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں جو گاہے بگاہے اپنی سُریلی بانسری بجا کر سنسان سڑک پر کسی انجان راہگیر کو چلتے چلتے پہلے گھورتے ہیں اور پھر اس کے خوب لتے لیتے ہیں۔ اب کس کس کا نام لیا جائے کوئی پستول اٹھا کر سلمان خان بننے کے شوق میں مودی کو للکارنے نکل پڑتا ہے تو کوئی قومی اسمبلی میں قومی سلامتی ، پاک بھارت کشیدگی، ضمنی بجٹ جیسے اہم موضوعات پر بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کا انتہائی بھونڈے انداز میں جواب دینے لگتا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آتی کہ آخر ” بڑھک گروپ“ چاہتا کیا ہے؟ جنگ کے بادل سر پر منڈلا رہے ہیں، دشمن کے وار کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں، قومی یک جہتی وقت کا تقاضا ہے۔ ملک ایک ایک پائی کا محتاج ہے۔ کشکول ہاتھ میں پکڑے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل ہونے کا شدید خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔ معاشی اعشاریے لڑکھڑا رہے ہیں۔ قومی ایکشن پلان اِن ایکشن ہے۔ صنعت کار، سرمایہ دار ، بینک کار، سیاست دان کورٹ کچہری کے چکر میں ہیں اور ہم ہیں کہ بس…….. اب کیا کہوں، راہ چلتے ایک دوسرے کو گھور رہے ہیں، غرا رہے ہیں اور کبھی کبھی لفظوں کے تیکھے دانتوں سے کاٹ بھی لیتے ہیں۔ اب تو سندھ اسمبلی میں ایک دوسرے کو مکّے مارنے تک نوبت آچکی ہے۔
عدم برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ سندھ اسمبلی میں مکّے بازی کا مقابلہ دیکھا تو سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم یاد آگئے۔ ویسے تو دنیا بھر میں مکّے بازی ، جوتا باری کلب کی ممبر شپ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن پاک بھارت جنگی کشیدگی میں ہمارے سیاست دانوں کی قوت عدم برداشت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اجلاس میں کوئی خاص فرق تو نظر نہیں آتا۔ پھر پتہ نہیں کیوں ہم گولے توپ کی سیاست پر ہی ڈٹے ہیں۔ بہتر تو یہی ہے کہ دونوں ملکوں کے سیاست دانوں کے درمیان مکاّ بازی اور جوتا باری کایودھ ہو جائے۔ کم از کم دونوں ملکوں کے غریب عوام کی جان بخشی تو ہو جو آئے دن غربت کے ہاتھوں پِس رہے ہیں اور بارود کے بوجھ تلے دب کر بھی مررہے ہیں اور یہ سیاست دان پیسہ بھی غریبوں سے اینٹھ رہے ہیں اور خون بھی انہی کا چوس رہے ہیں۔ بات چل نکلی تھی کتا مار مہم سے اور پہنچ گئی سیاست دانوں تک جن کی دکانداری چلتی ہے زبان درازی سے اور جب زبان سے کام نہ چلے تو پھر مکا بازی اور جوتا باری پر ہی پہنچ کر ختم ہوتی ہے۔
اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہمارے وزیراعظم عمران خان بھی آپریشن کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ آخر کب تک برداشت کریں گے؟ ایک دن تو جو بویا ہے وہ کاٹنا پڑے گا۔ وسائل محدود، حالات مسدود! جائیں تو جائیں کہاں؟ خان صاحب مودی سرکارکے خلاف آپ کی دلیری کو سلام! مگر آپ پھنسے بہت بُری طرح ہیں آخر کس کس سے استعفیٰ لیں گے؟ ایک لمبی لائن ہے، کوئی تو وفادار ہو؟ کہتے ہیں کہ نسلی ہی وفادار ہوتے ہیں، دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ آپ کے ساتھی حالات کی نزاکت کو سمجھیں۔ معیشت کا پہیہ چلنے دیں، بلاوجہ چلتی گاڑی کے سامنے آکر مخصوص آوازیں نکالنے سے ڈرائیور گھبراہٹ میں آواز نکالنے والے کو بھی کچلے گا اور گاڑی بھی کسی دیوار میں دے مارے گا۔ نقصان گاڑی چلانے والے کا بھی ہوگا اور دیوار والے کا بھی۔ مگر گاڑی کے سامنے آنے والا جانور چھلانگ لگا کر سڑک کے اس پار چلا جائے گا اور پھر کسی اور پر غرائے گا۔ اس کالم کا کسی سے کچھ لینا دینا نہیں۔ بس ایک ہی پیغام ہے اتحاد، ایمان، تنظیم پر قائم رہیں۔ ایک دوسرے کے دشمن مت بنیں بلکہ قومی یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ دشمن پر نظر رکھیئے ، آوارہ کتوں کے خلاف آپریشن جاری رکھیئے یا انہیں حیوان دوست ماحول میں رکھیں اور ہاں! سرحدوں کے پار بھونکنے والوں کا بھی علاج کیجئے اور کاٹنے والوں کا علاج بھی اسی طرح جاری رکھیئے جس طرح جاری رکھا ہوا ہے۔ بعد میں ویکسین کے انجکشن لگانے سے بہتر ہے ابھی تلف کر دیجئے….!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں