کرونا وائرس کو شکست دینے سے متعلق ایک اور حوصلہ افزا خبر

کرونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر میں خوف پھیلا کر رکھا ہوا ہے مگر اس دوران مثبت اور حوصلہ افزا خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔

مہلک وائرس چین کے شہر ووہان سے پھیلا اور چند ہی ماہ میں یہ دنیا 209 سے زائد ممالک تک پھیل گیا جس سے اب تک 15 لاکھ 38 ہزار 79 افراد وائرس کا شکار ہوئے۔

ابتدائی ایام میں چین کے شہر ووہان میں وائرس نے بہت زیادہ تباہی مچائی اور یہاں یومیہ بنیادوں پر نئے کیسز کے ساتھ اموات سامنے آئیں البتہ اب صورت حال بالکل مختلف ہے کیونکہ وبا کی شدت نہ صرف کم ہوئی بلکہ ختم ہی ہوگئی۔

گزشتہ کئی روز سے ووہان سمیت دیگر شہروں میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور تین دن میں وہاں کسی مریض کی موت واقع نہیں ہوئی۔ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 89 ہزار 961 اور صحت یاب مریضوں کی تعداد بھی بڑھ کر 3 لاکھ 40 ہزار 461 تک پہنچ گئی ہے۔

ووہان کے بعد کرونا وائرس نے اٹلی میں اپنا بھرپور زور دکھایا، بعد ازاں فرانس میں بھی وبا نے ہولناک نے صورت حال اختیار کی اور اب امریکا، برطانیہ میں وائرس نے زور پکڑا ہوا ہے۔

ایک ماہ قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کرونا کے ایک معمر مریض کی تصویر وائرل ہوئی تھی جو اسپتال کے گارڈن میں سورج غرویب ہونے کا منظر دیکھ رہے تھے اور اُن کے ساتھ ایک نوجوان ڈاکٹر موجود تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وائرل ہونے والی تصویر دیکھ کر صارفین کے دل افسردہ ہوگئے تھے۔ ڈاکٹرز نے بتایا تھا کہ مریض کی حالت تشویشناک ہے اور اُن کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔
چینی میڈیا رپورٹ نے خوش خبری سنائی ہے کہ 87 سالہ مریض جن کی تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مارچ میں وائرل ہوئی تھی وہ کرونا وائرس کو شکست دے کر صحت یاب ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق مریض کے کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ نیگیٹو آئی جس کے بعد ڈاکٹرز نے انہیں اسپتال سے گھر جانے کی اجازت دے دی۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں