کورونا کا دوسرا مرحلہ بگڑتا نظرآرہا ہے، پروفیسررفیق خانانی

کراچی: انفیکشن کنٹرول سوسائٹی پاکستان کے صدر وپیتھالوجسٹ پروفیسر رفیق خانانی نے کہا ہے کہ کووڈ 19 وائرس کی ایک سے دوسروں میں منتقلی شدت اختیار کرنے لگی ہے۔ پاکستان میں اس وائرس کا دوسرا مرحلہ شدت سے بگڑتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اگر عوام نے اس مرحلے کو سنجیدہ نہ لیا تو شدید تباہی ہوسکتی ہے۔

بالخصوص دیہی اور مضفاتی علاقوں میں ناخواندگی کی وجہ سے لوگ سماجی رابطوں سے دوری ( distance social ) پر عمل نہیں کررہے جس کے نتائج خوفناک ہوسکتے ہیں۔ زیادہ ابادی والے یونین کونسل کی سطح پر فوری تشخیصی مراکز قائم کرنے ہوں گے، بصورت دیگر وائرس کا تیسرا مرحلہ بہت خوفناک ہوسکتا ہے۔ پروفیسر رفیق خانانی نے وائرس کی تشخیص کے حوالے سے بتایا کہ اس وائرس کیلیے 2 قسم کے ٹیسٹ موجود ہیں۔ ایک ٹیسٹ وائرس کی جین کو شناخت کرتا ہے جس کو PCR کہا جاتا ہے۔پی سی آر کا ٹیسٹ جس دن وائرس کسی کے جسم میں داخل ہوتا ہے ایک سے 2 دن میں ٹیسٹ پازیٹو اجاتا ہے۔

اس ٹیسٹ کیلیے مریض کے ناک اور حلق کی جھلی سے لعاب لیا جاتا ہے جس کے بعد ایک مخصوص تیکنیک کے ذریعے 6 گھنٹے میں اس کا زرلٹ اجاتا ہے اور معلوم ہوجاتا ہے کہ مریض کے جسم میں وائرس فعال ہے یا غیرفعال۔2 سے 4 ہفتے کے درمیان PCR کے ذریعے دوبارہ ٹیسٹ کرانے کے دوران اگر ٹیسٹ کا رزلٹ منفی آجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وائرس جسم میں غیرفعال ہوگیا ہے۔ دوسرا ٹیسٹ میں یہ معلوم کیاجا ہے کہ شخص کے جسم میں اینٹی باڈیزیز COViD 19 ہے یا نہیں اس کے لیے IgMاور IgG کیا جاتا ہے جس میں یہ معلوم کیاجاتا ہے کہ جسم میں وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز یعنی اپنی قوت مدافعت ہے یا نہیں۔IgM ٹیسٹ کسی بھی جسم میں وائرس داخل ہونے کے 7 سے 9 دن میں پازیٹو اتا ہے جبکہ IgG ٹیسٹ 11 دن تک پازیٹو ہونا شروع ہوجاتا ہے جو کئی سال تک پازیٹو رہتا ہے۔

اس کا مطلب یہ کہ وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بن گئی یعنی وائرس سے لڑنے کیلیے قوت مدافعت پیدا ہوگئی ہے۔ پروفیسر رفیق خانانی نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ کراچی میں PCR تیکنیک پر جو ٹیسٹ کیے جارہے ہیں اس میں 10 سے 20 فیصدرزلٹ درست نہیں آتے۔ وائرس جسم میں داخل ہونے کی صورت میں بھی رزلٹ نگیٹو آتا ہے جس کو طبی زبان میںnegative False کہتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں