لیجنڈ معین اختر کا یوم پیدائش، گوگل کا بھی خراج عقیدت

معروف کامیڈین، لیجنڈ اداکار اور صدارتی ایوارڈ یافتہ معین اختر کا آج 71 واں یوم پیدائش منایا جا رہا ہے۔کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے معین اختر آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور لیجنڈ اداکار کے یوم پیدائش پر گوگل نے بھی ڈوڈل کے ذریعے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے سپر اسٹار کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
معین اختر 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہوئے، زندگی کی پہلی پرفارمنس شیکسپیئر کے ناول سے ماخوذ اسٹیج ڈرامے ’دی مرچنٹ آف وینس‘ میں محض 13 برس کی عمر میں دی جبکہ فنی کیرئیر کی باقاعدہ شروعات پاکستان کے پہلے یوم دفاع پر 1966 میں کی۔وہ بچپن ہی میں اپنے اسکول ٹیچرز، قریبی عزیز و اقارب اور دوستوں کے لب و لہجے کی نقالی کر کے ساتھیوں کو ہنسایا کرتے تھے۔معین اختر کو اپنے جداگانہ کردار نگاری کی بناء پر فن کی اکیڈمی کہا جاتا تھا، معین اختر نے ریڈیو، ٹی وی ڈراما، اسٹیج اور فلم سمیت فنون لطیفہ کے ہر شعبے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا جبکہ گلوکاری بھی کی۔
فن اداکاری کے ساتھ ساتھ معین اختر کا ایک تعارف ٹی وی میزبان بھی تھا، معین اختر نے طنز و مزاح سے بھرپور جملوں میں تہذیب کا ایک نیا پہلو متعارف کروایا۔فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں معین اختر کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
ان کے مشہور ٹی وی ڈراموں میں روزی، عید ٹرین، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، سٹوڈیو چار بیس، شو ٹائم، شوشا، یس سر نو سر، معین اختر شو، سچ مچ، لوز ٹاک، ہاف پلیٹ، ففٹی ففٹی، مرزا اور حمیدہ، آخری گھنٹی، مکان نمبر 47، فیملی 93، لاؤ تو میرا اعمال نامہ، ہریالے بنے، ہیلو ہیلو، انتظار فرمائیے، ڈالر مین اور بندر روڈ سے کیماڑی سمیت دیگر شامل ہیں۔
ان کے مشہور اسٹیج ڈراموں میں بائیونک سرونٹ، مجھے معین اختر سے بچاؤ، بڈھا گھر پر ہے اور بکرا قسطوں پر سمیت کئی مشہور اسٹیج ڈرامے آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہیں۔
معین اختر24 دسمبر 1950 کو پیدا ہوئے اور 22 اپریل 2011 کو دار فانی سے کوچ کر گئے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے 60 برسوں میں 44 سال فن کی دنیا کی نذر کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں