معین اختر کا انتقال سے 34 سال قبل خط میں اپنی موت کا تذکرہ

پاکستان کے لیجنڈ فنکار معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے ایک دہائی کا عرصہ گزر چکا ہے اور آج ان کے چاہنے والے ان کا 71واں یوم پیدائش منا رہے ہیں۔معین اختر کی سالگرہ کے دن ایک کا خط سامنے آیا ہے جو انہوں نے 44 برس قبل اپنے قریبی دوست اقبال وحید کو لکھا اور اس میں انہوں نے اپنی موت کا ذکر کیا۔
18 اگست 1977کو لکھے گئے اس خط میں معین اختر نے اپنے دوست کو خط کے ساتھ بھیجی گئی تصویر بھی سنبھال کر رکھنے کا کہا اور لکھا:
اپنے عزیز دوست اقبال وحید کے لیے،
موت کا وقت؟ شاید کسی کو نہیں معلوم کہ سب کو ایک نہ ایک دن جانا ہوگا، شاید پہل ہم ہی کر بیٹھیں، اس صورت میں اس تحریر اور اس تصویر دونوں کی حفاظت کرنا جو تمہیں ہمیشہ اس مخلص کی یاد دلاتی رہے گی۔
یاد رہے کہ معین اختر کی پیدائش 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں ہوئی، زندگی کی پہلی پرفارمنس شیکسپیئر کے ناول سے ماخوذ اسٹیج ڈرامے ’دی مرچنٹ آف وینس‘ میں محض 13 برس کی عمر میں دی جب کہ فنی کیرئیر کی باقاعدہ شروعات پاکستان کے پہلے یوم دفاع پر 1966 میں کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں