انسانی جسم کا ایک اور نامعلوم حصہ دریافت

برن: سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں نے انسانی جبڑے کے پٹھوں میں ایک ایسا جسمانی حصہ دریافت کرلیا ہے جس کے بارے میں ہم آج سے پہلے نہیں جانتے تھے۔انسانی جسم کا یہ نیا دریافت ہونے والا حصہ ’جبڑی پٹھے‘ (masseter muscle) کی تیسری پرت ہے جو باقی دو بالائی پرتوں کے اندر، خاصی گہرائی میں واقع ہے۔
بتاتے چلیں کہ جبڑے کو حرکت دینے اور بالخصوص چبانے میں اسی ’جبڑی پٹھے‘ کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ اب تک ہم اس پٹھے کی صرف دو تہوں سے ہی واقف تھے لیکن یونیورسٹی آف بیسل کی ڈاکٹر سلویا میزے اور ان کے ساتھیوں نے ان تہوں کے نیچے ایک اور، تیسری تہہ بھی دریافت کرلی ہے۔
اپنی دریافت کی تفصیلات انہوں نے ’اینلز آف اناٹومی‘ کے تازہ ترین شمارے میں آن لائن شائع کروائی ہیں۔
’’دراصل جبڑی پٹھے کی تیسری پرت کے بارے میں تاریخی طبّی ریکارڈ میں کچھ باتیں پہلے سے موجود ہیں لیکن وہ بہت مبہم اور بڑی حد تک غلط ہیں،‘‘ ڈاکٹر میزے نے کہا۔
ان باتوں کی سچائی جانچنے کےلیے یونیورسٹی آف بیسل کے ماہرین نے سرکاری مردہ خانے سے 12 انسانی لاشیں حاصل کیں جو خاص طور پر محفوظ کی گئی تھیں۔
تمام لاشوں کے سر علیحدہ کرنے کے بعد سی ٹی اسکین اور بعد ازاں ایم آر آئی کی مدد سے ان کے جبڑوں کا مفصل جائزہ لیا گیا جس سے جبڑی پٹھے میں تیسری تہہ کا مفروضہ درست ثابت ہوا۔
مزید تصدیق کی غرض سے انہوں نے زندہ رضاکاروں کا معائنہ کیا، جس سے نہ صرف اس تیسری اور اندرونی تہہ کی موجودگی ایک بار پھر ثابت ہوئی بلکہ اس کا مقصد بھی سمجھ میں آیا۔
اس تہہ کا مقام اور ساخت دیکھتے ہوئے ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ نچلے جبڑے کو متوازن رکھنے کے علاوہ اسے اوپر اٹھانے اور پیچھے کی طرف واپس کھینچنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔
’’انسان کی جسمانی ساخت (اناٹومی) کے بارے میں پچھلے 100 سال کے دوران ہم اتنا کچھ جان چکے ہیں کہ مزید کچھ نیا جاننے کا امکان بھی بہت کم رہ گیا تھا۔ ایسے میں جسم کے اندر کوئی نیا حصہ دریافت ہونا بالکل ایسا ہے جیسے ہم نے ریڑھ کی ہڈی والے جانور کی کوئی نئی قسم دریافت کرلی ہو،‘‘ ڈاکٹر کرسٹوفر ٹورپ نے کہا، جو ڈاکٹر سلویا میزے کے ساتھیوں میں شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں