ماضی میں عوام کیلیے نہیں بلکہ پیسہ بنانے کیلیے سڑکیں بنائی جاتی تھیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی میں عوام کو فائدہ پہنچانے کیلیے نہیں بلکہ پیسہ بنانے کیلیے سڑکیں بنائی جاتی تھیں۔وزیراعظم عمران خان نےہکلہ ڈی آئی خان موٹروے کا افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہکلہ ڈی آئی خان موٹروے سے پسماندہ علاقےترقی کریں گے، یہ موٹروے اور سی پیک کا مغربی روٹ پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے ، یہ ان علاقوں کو ملا رہا ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں ان شاء اللہ اب ان علاقوں میں بھی ترقی کا آغاز ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سارے ترقی پذیر ممالک کا یہ مسئلہ ہے کہ تھوڑے سے لوگ امیر اور باقی غریب ہیں، ایک دو علاقوں میں سارا پیسہ لگادیا گیا اور باقی علاقے پیچھے رہ گئے، کوئی ملک اس طرح ترقی نہیں کرسکتا، طویل المدتی پلاننگ نہ ہونے سے تھوڑے سے علاقے ترقی کرتے ہیں اور زیادہ علاقے ترقی میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 60کی دہائی میں ملک میں بڑے بڑے منصوبے بنے ہیں، اس کے بعد پاکستان میں کبھی بڑے منصوبے نہیں بنے، اس حکومت میں سی پیک کے ایسٹرن روڈ پر سب سے زیادہ ترقی ہوئی ہے۔عمران خان نے کہا کہ مدینہ کی ریاست دنیا کی تاریخ کا سب سے کامیاب ماڈل تھا، جب کرپشن کو ختم کیا جائے تو قوم کو فائدہ ہوتا ہے، 25سال سے کہہ رہا ہوں ملک کا بڑا مسئلہ کرپشن ہے، اس کی ایک مثال این ایچ اے ہے، جتنے پیسے میں پچھلے حکام نے ایک سڑک بنائی تھی، ہم نے اتنے ہی پیسے میں دگنی سڑکیں بنادیں، 2013 کے مقابلے میں آج چیزیں کتنی زیادہ مہنگی ہیں، اس کے باوجود آج 2013 کی بہ نسبت زیادہ سستی سڑکیں بن رہی ہیں، اس کا مطلب ہے کہ کسی کی جیب میں بہت زیادہ پیسہ جارہا تھا، ماضی میں عوام کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ پیسے بنانے کے لیے سڑکیں بنائی جاتی تھیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم دور دراز علاقوں میں سڑکیں بنا رہے ہیں، بلوچستان کے عوام میں واقعی صحیح احساس محرومی ہے کہ ان کے ہاں سڑکیں نہیں بنتیں، بلکہ وہاں سڑکیں بنتی ہیں جہاں پہلے ہی خوشحالی ہے، ماضی میں پیسہ بنانے کےلیے سڑکیں بنتی تھیں، کیسے ہوسکتا ہے کہ 2013 میں سڑکیں مہنگی ہوں اور 2021 میں سستی ہوں۔ 2013 میں آج کے مقابلے میں سڑکیں بنانے پر دگنا سے بھی زیادہ پیسہ خرچ کیا گیا، کم از کم ایک ہزار ارب روپیہ لوگوں کی جیبوں میں گیا ہے۔عمران خان نے مزید کہا کہ اس سے بڑا ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ ایک طرف ملک قرضے لے رہا ہے اور وہیں مہنگی سڑکیں بنائی جارہی ہوں، ہم نے سوچا بھی کہ یہ کیس نیب کو دیں لیکن انہوں نے کام ایسا کیا ہے کہ اگر ہم عدالت میں جائیں تو وہ کہیں گے کہ ہم نے تو ٹینڈرنگ اور سارے پراسس پورے کیے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں