برطانیہ میں مسلم نوجوان کا پسند کی شادی کیلیے انوکھا اقدام

برمنگھم: برطانیہ میں پسند کی شادی کے لیے ایک نوجوان نے انوکھا طریقہ اختیار کرتے ہوئے شاہراہ پر بل بورڈ نے لگا دیا جس پر لکھا تھا کہ مجھے ارینج میرج سے بچاؤ۔شادی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ ہوتا ہے جس سے صرف دو اشخاص یا دو خاندان نہیں بلکہ آنے والی پوری ایک نسل جڑی ہوتی ہے۔ اس لیے سیانے کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ بہت سوچ بچار کے بعد کیا جانا چاہیئے۔شادی گھر والوں کی پسند سے یعنی ارینج میرج ہونی چاہیئے یا پھر اپنی پسند یعنی لو میرج ہو۔۔۔ کامیابی کا تناسب کیا رہے گا اس کے بارے میں سب کی اپنی اپنی رائے ہے۔برطانیہ میں ایک نوجوان نے پسند کی شادی کا انتخاب کیا لیکن اب تک ان کی ’’دلی مراد‘‘ پوری نہیں ہوسکی جس پر نوجوان نے ایک انوکھا قدم اُٹھا کر سب کو حیران کردیا۔من پسند بیوی کی تلاش کے لیے نوجوان نے ایک بڑا بل بورڈ نصب کیا جس میں لکھا تھا کہ مجھے ارینج میرج سے بچاؤ۔ بل بورڈ میں نوجوان کی مسکراتی ہوئی تصویر بھی ہے۔29 سالہ نوجوان نے بل بورڈ پر اپنی ویب سائٹ کا ایڈریس دیا جو انھوں نے شریک حیات کی تلاش کے لیے بنائی ہے اور جس کا نام ’’فائنڈ مالک اے وائف‘‘ یعنی مالک کے لیے دلہن ڈھونڈیں۔محمد مالک نے بتایا کہ وہ ایک ایسی مسلمان لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہیں جس کی عمر 20 سے 25 کے درمیان ہو اور وہ دین کے بارے میں علم رکھتی ہو۔نوجوان کا کہنا ہے کہ اس بل بورڈ کے بعد مجھے کئی پیغامات موصول ہوئے ہیں اور مجھے امید ہو چلی ہے کہ اس ترکیب سے کام بن جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں