کابل ایئرپورٹ پر امریکی فوجی کے حوالے کیا گیا نومولود 5 ماہ بعد مل گیا

کابل: اگست میں کابل ایئرپورٹ پر ہجوم اور دھکم پیل کے دوران والدین نے کچلے جانے کے خوف سے اپنا نومولود بیٹا دیوار پر کھڑے امریکی فوجی کو پکڑا دیا تھا جو 5 ماہ لاپتہ ہونے کے بعد بالآخر مل گیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بیرون ملک جانے کے خواہش مند ہزاروں افغانی ملک کے واحد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جمع ہوگئے تھے۔انھی لوگوں میں امریکی سفارت خانے میں گارڈ کی نوکری کرنے والے مرزا علی احمدی اپنی اور اہل خانہ کی جان کے خوف سے امریکا جانے کے لیے حامد کرزئی ایئرپورٹ پہنچے تھے۔
ایئرپورٹ پر بے تحاشا رش اور دھم پیل کے دوران والدین نے ہجوم میں کچلے جانے کے خوف سے اپنا بچہ دیوار پر کھڑے ایک امریکی فوجی کی جانب اچھال دیا۔اس خاندان کو ایئرپورٹ میں داخل ہونے میں مزید ایک گھنٹا لگ گیا تاہم جب انھوں نے بچے کو ڈھونڈا تو وہ کہیں نہیں ملا جس پر امریکی فوجیوں نے کہا کہ شاید بچہ کسی کے ساتھ پرواز میں چلا گیا ہو۔والدین اسی امید پر امریکا پہنچ گئے لیکن بچہ وہاں بھی کسی کیمپ میں نہیں تھا۔ رائٹرز نے بچے کی والدین سے جدا ہونے کی کہانی تصویر کے ساتھ شیئر کی۔
جس پر طالبان حکومت نے بھی نوٹس لیا اور بچے کو ایک 29 سالہ ٹیکسی ڈرائیور حامد صافی کے گھر میں موجودگی کا سراغ لگالیا تاہم ڈرائیور کا دعویٰ تھا کہ یہ بچہ اس کا ہے۔امریکی حکام، طالبان حکومت اور بچے کے اہل خانہ نے 5 ماہ تک حامد صافی سے مذاکرات کیے جس کے بعد اس نے اقرار کیا کہ بچے کو ایئرپورٹ سے اپنی اولاد کہہ کر لایا تھا۔
بچے کو کابل میں اس کے دادا اور چاچا کے حوالے کردیا گیا اور اب بچے کے امریکا روانگی کے انتظامات کیے جارہے ہیں تاکہ وہ والدین کے ساتھ رہ سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں