چین میں افغان سفیر 6 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر مستعفی

بیجنگ: چین میں افغانستان کے سفیر جاوید احمد قائم نے طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اگست سے تاحال تنخواہیں نہ ملنے پر عہدہ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے دفتر بند کرکے چلے گئے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چین میں افغانستان کے سفیر جاوید احمد قائم نے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ انھیں اور عملے کو گزشتہ برس اگست سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں جس کے باعث کئی سفارت کار پہلے ہی ملازمتیں چھوڑ چکے ہیں۔
جاوید احمد قائم نے مزید لکھا کہ عہدہ چھوڑنے کی ذاتی اور پیشہ ورانہ سمیت بہت سی وجوہات ہیں لیکن میں یہاں ان کا ذکر نہیں کرنا چاہتا البتہ انھوں نے خط میں یہ بتایا کہ سفارت خانہ ایک نئے ملازم کے حوالے کردیا ہے جو ریسیپشنسٹ کی ذمہ داری نبھائے گا۔افغانستان کے سفیر نے خط میں اخراجات کے بارے میں بتایا کہ یکم جنوری تک سفارت خانے کے بینک اکاؤنٹ میں ایک لاکھ ڈالر اور ساتھ ہی دوسرے اکاؤنٹ میں نامعلوم رقم بھی تھی جب کہ 5 گاڑیوں کی چابیاں دفتر میں رکھ دی ہیں اور دو کاروں کو اسکریپ کرنے کی ضرورت ہے۔
جاوید احمد قائم نے اپنے خط میں مزید لکھا کہ میں نے تمام مقامی عملے کو 20 جنوری 2022 تک ادائیگی کر دی ہے اور اب ان کی ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں۔ دفتر میں نئے ریسیپشن کے علاوہ کوئی نہیں ہوگا۔
ادھر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بِن نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ جاوید احمد قائم نے بغیر بتائے خاموشی سے چین چھوڑ دیا ہے اور یہ معلومات حاصل کی جارہی ہیں کہ وہ کب اور کہاں گئے۔
افغانستان کے چین میں سفیر کے عہدہ چھوڑنے اور سفات خانہ خالی ہوجانے پر طالبان حکومت کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں