حکومت معیشت کو دستاویزی بنانا چاہتی ہے،وفاقی وزیر خزانہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکومت معیشت کو دستاویزی بنانا چاہتی ہے لہٰذا معیشت کو دستاویزی بنانے کی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنزکو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر ادارے کو خودمختار بنانا چاہتی ہے اور اس حکمت عملی کے تحت اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے، اسٹیٹ بینک پر حکومتی کنٹرول کے خاتمے کا تاثر درست نہیں، ضمنی مالیاتی بل سے عام آدمی پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری ، وزیر مملکت اطلاعات فرخ حبیب، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر، معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان اور گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ضمنی مالیاتی بل کا بنیادی مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا اور ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ ہے۔اگر گورنر اسٹیٹ بینک مجھ سے مشاورت نہیں کریں گے تو گورنر اسٹیٹ بینک کو فائر کردیں گے لیکن ایسی نوبت نہیں آئیگی۔
گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ شرح سود کا تعین زری و مالیاتی مانیٹری پالیسی کمیٹی کرتی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا وفاقی حکومت نے درآمدی گیس کو مقامی گیس میں شامل کرکے اوسط قیمت مقرر کرنیکا نظام متعارف کروانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کیلئے جلد گیس کی اوسط قیمت متعین کرنے کا قانون منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا البتہ گیس کی اوسط قیمت مقرر کرنے سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ ابھی عوام کو منتقل نہیں کیا جائیگا اور گیس کی قیمتوں کی موجودہ سلیبز برقرار رہیں گی مگر بعد میں بتدریج گیس کی اوسط قیمت کے نظام کے تحت بوجھ عوام پر منتقل کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ ابھی سپلائی کی جانے والی گیس میں ستر فیصد حصہ مقامی گیس کا ہے اور تیس فیصد درآمدی گیس کا ہے۔ جس طرح کا پروپیگنڈا ہو رہا تھا کہ اکتوبر اور نومبر میں پاکستان خدانخواستہ توانائی کی کمی کی وجہ سے بند ہو جائے گا، وہ بے بنیاد ثابت ہوا ہے۔
معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا صحت کارڈ پاکستان میں صحت کے شعبے میں خاموش انقلاب لا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں