حوثی باغیوں کے متحدہ عرب امارات میں آئل ٹینکرز پر ڈرون حملے

ابو ظہبی: حوثی باغیوں نے متحدہ عرب امارات کی آئل ٹینکرز پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں سے آئل ٹینکرز کو بھاری نقصان پہنچا اور تیل کی ترسیلات معطل ہوگئیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ابوظہبی پولیس کا کہنا ہے کہ دو دھماکے سنے گئے جن میں سے ایک دھماکا 3 آئل ٹینکرز میں جب کہ ایک دھماکا زیر تعمیر ایئرپورٹ پر ہوا ہے۔ دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
آئل ٹینکرز اور زیر تعمیر ایئرپورٹ پر لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ ابوظہبی انتظامیہ کے مطابق حملوں میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ صورت حال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے تاحال کسی کو حملے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو ڈرون حملے کو پیشگی نہ روک پانے پر تفتیش کرے گی۔
دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے جب کہ چند روز قبل ہی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی تھی۔نئے سال کے پہلے روز ہی حوثی باغیوں نے اسلحے کی ترسیل کا الزام عائد کرکے متحدہ عرب امارات کے یمن سے سعودی صوبے جازان جانے والے ایک مال بردار بحری جہاز کو ہائی جیک کرلیا تھا جب کہ امارات کا کہنا تھا کہ جہاز میں ایک اسپتال کے لیے ایمبولینس سمیت ضروری سامان تھا۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے یمن میں سعودی عرب کی سربراہی میں قائم عرب عسکری اتحاد میں 2015 میں شمولیت حاصل کی تھی تاہم 2019 میں اپنی سرگرمیاں کم کردی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں