سانحہ مری کیس: ‘تمام ذمہ داری ڈیزاسٹر مینجمنٹ پنجاب کے سربراہ کی ہے’

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سانحہ مری کیس میں کہا کہ تمام ذمہ داری پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کی ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سانحہ مری کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے مری کے رہائشی کی درخواست پر سماعت کی۔اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ ایک ہی مسئلہ تھا کہ این ڈی ایم اے قانون پر عمل نہیں ہو رہا تھا۔پٹیشنر کے وکیل نے کہا صرف افسران کو عہدوں سے ہٹانا کافی نہیں، ایکشن بھی ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا قانون کے مطابق تو سارا کام ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا تھا، یہ بات طے ہو گئی ہے کہ پالیسی میکنگ باڈی کی کبھی میٹنگ نہیں ہوئی، تمام ذمہ داری پنجاب کے سربراہ کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پٹیشن آنے تک قانون پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا، اب اس سے متعلق ایکشن بھی لے لیا گیا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے قانون کو دیکھنا ہے لیکن صوبوں میں بھی اس قانون کے تحت ڈیزاسٹر منیجمنٹ کی میٹنگز نہیں ہوئیں، اگر کچھ ہوا تو قانون کے مطابق وہ سب ذمہ دار ہوں گے۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کی میٹنگ کے لیے این ڈی ایم اے نے سفارش کی ہے وہ بھی ہو گی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا صوبوں میں الگ سے اتھارٹیز بھی بنی ہوئی ہیں یہ ان کی بھی ذمہ داری ہے، عدالت اس پر ہدایت دے گی تاکہ مستقبل میں کچھ ایسا ہو تو ذمہ داری فکس ہو۔دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ کو کھانسی کی شکایت ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ میری طبیعت خراب ہے، چیسٹ انفیکشن ہے، میں ٹیسٹ کروا چکا ہوں لیکن کووڈ رپورٹ منفی آئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں