آرمینیا کے صدر نے اختیارات محدود ہونے پر استعفیٰ دیدیا

یریوان: آرمینیا کے صدر آرمین سرکیسیان نے اچانک اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں محدود اختیارات ہونے کے باعث ملک اور قوم کے لیے کچھ بھی نہیں کر پا رہا ہوں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آرمینیا کے صدر آرمین سرکیسیان نے حیران کن طور پور استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔ صدر اور وزیراعظم نکول پشنیان کے درمیان اختلافات کا آغاز آذربائیجان سے جنگ کے وقت ہوا تھا جس میں آرمینیا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔آرمینیا کے صدر نے مستعفی ہونے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ یہ کوئی جذباتی فیصلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک خاص منطق ہے۔ ملک کی تاریخ کے سب سے پیچیدہ بحران میں اختیارات نہ ہونے کے باعث کچھ نہیں کرسکا۔
صدر سرکیسیان کے وزیراعظم نکول پشنیان کے ساتھ شدید اختلافات اس وقت سامنے آئے تھے جب آذربائیجان سے جنگ کے دوران وزیراعظم نے صدر کی مخالفت کے باوجود چیف آف جنرل اسٹاف کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
وزیراعظم کے اس آئینی فیصلے پر صدر سرکیسیان کو اپنے محدود اختیارات کا احساس شدید تر ہوتا گیا جس کےنتیجے میں آج چار سالہ صدارت سے استعفیٰ دیدیا۔
واضح رہے کہ آذربائیجان سے جنگ میں شکست کے بعد عوام کی جانب سے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور وزیراعظم نکول پشنیان نے بھی مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں