کارکن کی ہلاکت: خالد مقبول کا وزیراعلیٰ سندھ کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرانے کا اعلان

کراچی: ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے پولیس تشدد سے ہمارا کارکن جاں بحق ہوا، وزیراعلیٰ سندھ کیخلاف قتل کا پرچہ درج کرائیں گے، وزیراعظم اور وزیرداخلہ نے معاملے کا نوٹس لے لیا۔خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوچکا، مزاحمت کرنا جانتے ہیں، کراچی کی سڑکیں کسی کے باپ کی نہیں۔
یاد رہے بلدیاتی قانون میں ترمیم کے معاملے پر صوبائی حکومت اور اپوزیشن میں محاذ آرائی شدت اختیار کرگئی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر بلدیاتی قانون کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان کے احتجاج کے دوران زخمی عہدیدار این آئی سی وی ڈی اسپتال میں دم توڑ گیا۔ جاں بحق اسلم کے اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گھر کے کفیل کو ناحق مارا گیا۔
اسلم کو حالت خراب ہونے پر پہلے فیڈرل بی ایریا کے امراض قلب کے اسپتال اور پھر دس بجکر 29 منٹ پر این آئی سی وی ڈی اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے دس بجکر 35 منٹ محمد اسلم کی موت کی تصدیق کر دی۔ ایم کیو ایم پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ محمد اسلم کا دوران علاج جناح اسپتال میں انتقال ہوا، متحدہ کے ایم پی اے صداقت اور طارق کو جناح اسپتال لایا گیا جنہیں طبی امداد کے بعد ڈسچارج کردیا گیا تھا۔ جاں بحق اسلم کی نماز جنازہ آج ادا کی جائیگی۔
ترجمان سندھ حکومت نے کراچی میں مظاہرے کے دوران زخمی ایم کیو ایم عہدیدار کی جناح اسپتال میں ہلاکت کی تر دید کر دی۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ جناح اسپتال میں اسلم نام کا کوئی شہری نہیں لایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں