مغرب میں کشمیر سے متعلق جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی گئی ہے: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق مغرب میں بہت زیادہ بات نہیں کی جاتی اور اس معاملے پر جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔چینی میڈیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وفدکے ہمراہ آئندہ ہفتے چین کے دورےکا منتظر ہوں، چین کے ساتھ ہمارے 70 سال پرانے قریبی دوستانہ تعلقات ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ مضبوط ہوئے ہیں جب کہ چین ضرورت کے وقت ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک نے بھی پاکستان اور چین کو قریب کیا ہے، سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زراعت اور صنعت پرتوجہ دی جائےگی۔انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں ملک کی معیشت پرخاص توجہ نہیں دی گئی لیکن ہم معیشت پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ کشمیر میں بھارت نے انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی ہے، وہاں 90 لاکھ افرا د بدترین حالات میں کھلی جیل میں رہ رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر سے متعلق مغرب میں بہت زیادہ بات نہیں کی جاتی اور مغرب میں کشمیر سے متعلق ایک خاص خاموشی ہے، ایک طرح سے کشمیر پر جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 40 سال بعدافغانستان میں امن کا موقع ملاہے، اب عالمی برادری کوافغانستان کی صورتحال کو سمجھنا چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لیے چینی اصول سے رہنمائی لینا اور چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے چینی میڈیا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری افغانستان کی مدد کرے اور انسانی بحران سے بچانے میں تعاون کرے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں، عالمی برادری بھارتی فو رسز کے مظالم پر خاموشی توڑے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ چین نے 40سال محنت کی اور اپنی معیشت کو ترقی دے کر لوگوں کو غربت سے نکالا، میرا بھی بنیادی مقصد لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے، میں پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لیے چینی اصول سے رہنمائی لینا اور چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اس ماڈل کے ذریعے چین نے اجتماعی طور پر سبھی کو ترقی میں حصہ دار بنایا، تمام ملک جو پائیدار ترقی چاہتے ہیں وہ چین کے ماڈل سے سیکھ سکتے ہیں، چین میں ہر شعبے نے ترقی کی، ہم وہی ماڈل اپنانا چاہتے ہیں، دورہ چین ہمیشہ خوشی کا باعث رہا ہے ، آئندہ ہفتے چین کا دورہ کررہا ہوں، غربت کے خاتمے کیلئے ہم چین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں معیشت کوبہتر کرنے کےلیے مزیداقدامات کرنے ہوں گے، بدقسمتی سے معیشت پر ماضی میں توجہ نہیں دی گئی ، پاکستان چاہتاہے اپنی پیداوار بڑھائے اور زراعت کوبہتر کرے ، زراعت اور لائیواسٹاک کے شعبے میں چین سے معاونت کے خواہاں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کورونا سے کھیل کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، خواہش ہے چینی کھلاڑیوں کوکرکٹ سکھائیں، خیبرپختونخوا میں گلگت سمیت دیگر علاقے کھیل کے لیے بہترین ہیں، خنجراب پاس کے قریب پاکستان اور چین میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے خواہاں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں