کشمیری نوجوانوں کا پاکستان میں پڑھنے کا خواب بھی دم توڑنے لگا

لاہور: ہندوستان جہاں ایک طرف زیرتسلط کشمیریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے وہیں مقبوضہ کشمیرسے تعلیم کے حصول کے لئے پاکستان آنیوالے کشمیری طلباوطالبات کے لئے بھی مشکلات پیدا کی جارہی ہیں اور بھارتی خفیہ ایجنسیاں ایسے کشمیری طلباوطالبات کو ہراساں کرتی ہیں جو پاکستان آناچاہتے ہیں۔
سرینگرسے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم اسداللہ میر(فرضی نام) نے بتایا کہ وہ میڈیکل کی تعلیم کے لئے لاہور پاکستان آناچاہتے ہیں۔لاہور کی ایک معروف میڈیکل یونیورسٹی میں انہوں نے آن لائن داخلہ کے لئے اپلائی کیا تھا۔یونیورسٹی نے انہیں داخلہ بھی دے دیا ہے مگر اب ویزااپلائی کرنے کے لئے بھارت کی وزارت داخلہ این اوسی نہیں دے رہی ہے۔
اسد اللہ میرنے بتایا چند ہفتے قبل ان کے تین دوستوں کو پاکستانی ہائی کمیشن نے ویزابھی جاری کردیا تھا لیکن پاکستان سفرکے لئے بھارتی وزارت داخلہ این اوسی نہیں دے رہی ہے جبکہ مختلف تحقیقاتی اداروں کے لوگ انہیں ہراساں کررہے ہیں کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے پاکستان ہی کیوں جاناچاہتے ہیں۔سری نگرسے ہی تعلق رکھنے والے ایک اورنوجوان عبداللہ نے بتایا کشمیرمیں چونکہ اکثریت مسلمانوں کی ہے اس لئےان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اعلی تعلیم پاکستانی تعلیمی اداروں میں حاصل کریں چونکہ اسلامی ملک ہونے کی وجہ سے یہاں کے تعلیمی اداروں کا ماحول بھارت سے کافی مختلف ہے۔ لیکن بھارتی ادارے پاکستان جانے کے خواہش مندکشمیری نوجوانوں سے مختلف سوالات پوچھتے،انہیں کئی کئی گھنٹے بٹھائے رکھتے ہیں۔ مختلف طریقوں سے ڈرایاجاتا اوران کی تضحیک کی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے اب کشمیری نوجوانوں کا پاکستان میں پڑھنے کاخواب بھی دم توڑنے لگا ہے۔
نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام نے بتایا کہ ہماری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے، کوئی بھی کشمیری نوجوان اگرپاکستان کے کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے تو قواعد وضوابط کے مطابق ہم ویزاجاری کردیتے ہیں ،گزشتہ برسوں میں سینکڑوں کشمیری طلباوطالبات کو ویزے جاری کئے گئے ہیں۔
واہگہ بارڈر پرامیگریشن اورسیکیورٹی حکام کے مطابق مارچ 2020 میں کورونا وبا کی وجہ سے پاکستان اوربھارت نے واہگہ بارڈر کو بندکردیا تھا۔ تاہم بعد ازاں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے ملک میں پھنسے اپنے شہریوں کی واپسی کے لئے وزارت داخلہ کی طرف سے خصوصی اجازت لینے کاسلسلہ شروع کیااوراس کے تحت شہریوں کی واپسی بھی ہوئی ہے۔تاہم 17 اگست 2021 کوپاکستان نے اپنی طرف سے عائدپابندی ختم کردی ہے لیکن بھارت کی طرف سے ابھی تک بارڈربند ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بارڈربندہونے سے پہلے بھی بھارت کے اٹاری بارڈرپرکشمیری طلباکوبلاوجہ تنگ کیاجاتا رہا ہے اوریہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت مقبوضہ کشمیرسے تعلق رکھنے والے طلبا وطالبات پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔یہ وہ طلبہ ہیں جن کی ڈگریاں اب مکمل ہونیوالی ہیں۔بارڈر ذرائع کے مطابق پاکستان اوربھارت کے مابین صرف واہگہ اٹاری بارڈر سے زمینی راستے سے سفرہوسکتاہے۔ اگرکوئی بھارتی شہری پاکستان آناچاہیے تواسے اپنی وزارت داخلہ سے این اوسی لیناہوگا تاہم پاکستان کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ اسی طرح اگرکوئی پاکستانی انڈیا جاناچاہے تواس کے لئے بھی ہمیں بھارتی وزارت داخلہ کو آگاہ کرناپڑے گا۔البتہ بھارت سے پاکستانی شہریوں کی واپسی یاپھرپاکستان سے بھارتی شہریوں کی واپسی کے لئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہیں۔پاکستان اوربھارت کے مابین دوستی کے فروغ کے لئے کام کرنیوالی این جی او آغازدوستی کے کنوینئرروی نتیش نے ٹربیون سے بات کرتے ہوئے کہا اگرکشمیری طلباوطالبات کو تعلیم کے حصول کے لئے پاکستان جانے سے روکاجاتا ہے یہ توافسوسناک ہے،ایسانہیں ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین تجارت، مذہبی سیاحت، علاج سمیت کئی حوالوں سے ویزے دینے کامعاہدہ ہے تو کشمیری طلباوطالبات کوروکنے کی بجائے پاکستان اوربھارت کوچاہیے کہ آپس میں تعلیمی مقاصد کے لئے بھی ویزے جاری کریں۔ دونوں ملکوں کی اہم یونیورسٹیز آپس میں معاہدے کریں اوراگر حکومتیں یہ سمجھتی ہیں کہ اس سے کوئی سیکیورٹی کامسلہ بن سکتا ہے یہ کام سرکاری سطح پرہوناچاہیے۔
روی نتیش نے کشمیری طلبا کاذکرکرتے ہوئے بتایا کہ انہیں حق ہوناچاہیے کہ وہ انڈیا اورپاکستان جہاں چاہیں جاکرتعلیم حاصل کریں ۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں پولیس نے کچھ ایسے افراد کیخلاف کارروائی کی ہے جو پاکستان میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم کے لئے مختص کوٹے کی سیٹیں بیچ رہے تھے۔ جبکہ ویسے بھی دونوں ملک کشمیرکولیکر بہت حساس ہیں دونوں ملکوں میں تناؤ کی بنیادی وجہ کشمیرہی ہے تو پھر خفیہ ایجنسیاں کوئی نہ کوئی ایسی وجہ ڈھونڈتی رہتی ہیں جس کوجوازبناکرپابندی لگائی جاسکے۔
انہوں نے کہا حالانکہ وہ سمجھتے ہیں ایسانہیں ہوناچاہیے اور کشمیری طلباوطالبات کو حصول تعلیم کے لئے پاکستان جانے کی اجازت ملنی چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں