صرف ایک دن اسکول جانے کے باوجود لتا نے کیسے لکھنا پڑھنا سیکھا؟

بھارتی مصنف، پروڈیوسر اور ہدایتکار نسرین منی کبیر نے لتا منگیشکر کے انتقال سے پہلے ان کا انٹرویو لیا تھا جس میں اُن کی تعلیم سے متعلق سوالات بھی شامل تھے۔ اس انٹرویو کو انہوں نے اپنی کتاب ‘Lata Mangeshkar in her own voice’ میں شائع کیا۔ اس انٹرویو کا ایک چھوٹا سا حصہ قارائین کیلئے پیش ہے۔نسرین: میں نے پڑھا ہے کہ آپ پوری زندگی میں صرف ایک دن اسکول گئیں؟لتا: میری کزن وسانتی مُرلیدھر اسکول میں تیسری جماعت کی طالب علم تھی۔ میرا بھی وہاں داخلہ ہوگیا۔ میری بہن آشا (بھوسلے) اس وقت 10 ماہ کی تھی۔ میں اُسے گود میں اٹھائے اسکول پہنچ گئی اور کلاس میں بیٹھ گئی۔ میری استانی نے جب یہ دیکھا تو کہا کہ اسکول میں بچوں کو لانا منع ہے۔ میں غصے میں اٹھی اور اسکول سے باہر نکل گئی اور کبھی واپس نہیں پلٹی۔
نسرین: آپ نے لکھنا پڑھنا کیسے سیکھا؟لتا: میں اس وقت 3 یا 4 سال کی ہوں گی جب میں نے اپنے ایک نوجوان گھریلو ملازم ویتھل سے کہا کہ مجھے مراٹھی کے حروف تہجی بنیادی سطح پر لکھنا اور پڑھنا سکھا دو اور اسطرح میں نے مراٹھی اپنے گھر میں ہی سیکھی۔ اس کے بعد اندور میں میری کزن نے مجھے ہندی سکھائی۔ جب ہم بمبئی میں شفٹ ہوئے تو وہاں لیکھراج شرما سے ملاقات ہوئی جنہوں نے بھارتی ایکٹر اور ڈائریکٹر ماسٹر ونایک کے بچوں کو بھی پڑھایا۔ انہوں نے مجھے اور بہتر طور پر ہندی سکھائی۔اسی طرح فلم کے ایک اور ڈائریکٹر رام گباڈے نے مجھے انگریزی سکھائی۔ مجھے انگریزی میں پڑھنا بہت پسند ہے اور ہندوستان میں اس وقت انگریزی بول چال بھی کافی استعمال ہوتی تھی۔ 1950 میں ایک برہمن پنڈت جن کا نام ہردیکار تھا، انہوں نے مجھے سنسکرت سکھائی۔ سنسکرت اس لحاظ سے بھی سیکھنا زیادہ اچھا تھا کیونکہ میں چاہتی تھی کہ میں بھگواگیتا (ہندوؤں کی مذہبی کتاب) پڑھوں۔ مجھے سکھانے والے کافی استاد رہے لیکن کافی حد تک میں نے خود لکھنا پڑھنا سیکھا۔نسرین: آپ کو کتنی زبانیں بولنا آتی ہیں؟لتا: مراٹھی، اردو، تھوڑی سی پنجابی، سنسکرت بھی سمجھ لیتی ہوں۔ اس کے علاوہ میں نے بنگالی بھی سیکھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں