خواجہ سراؤں کی خریدوفروخت کیخلاف آوازیں اٹھنا شروع

لاہور: پاکستان میں جہاں ایک طرف خواجہ سرا کمیونٹی کو قومی دھارے میں لانے اور انہیں بطورخواجہ سراان کی پہچان اورحقوق دیئے جانے پرکام ہورہا ہے وہیں ان کمیونٹی کے اندر خواجہ سراؤں کی خرید وفروخت کے مکروہ دھندے کیخلاف بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔لاکھوں روپے کے عوض خواجہ سراؤں کوایک سے دوسرے گورو کوبیچے جانے کے دھندے کوبند کئے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔پنجاب کے ضلع اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والی خواجہ سرا نیلم پری نے وزیراعظم عمران خان سمیت ڈی پی او اوکاڑہ کوایک درخواست بھیجی ہے جس میں دعوی کیا ہے کہ اوکاڑہ میں خواجہ سراؤں کے چند گورو ،نوجوان خواجہ سراؤں کی خریدوفروخت کا دھندہ کررہے ہیں۔خواجہ سرا نیلم پری کے مطابق مقامی خواجہ سراگوروامین، خالدعرف پنکی اورحسینی عرف نگینہ شامل ہیں وہ کم عمرخواجہ سراؤں کو پانچ سے 20 لاکھ روپےتک میں فروخت کررہے ہیں۔ خواجہ سراؤں کے گروؤں نے اپنے ہی قاعدے قانون بنارکھے ہیں۔ یہ ایک مافیا ہے جوآج کے جدید دورمیں بھی انسانوں کی خریدوفروخت کا مکروہ دھندہ کررہا ہے۔ اگرکوئی خواجہ سرا فروخت ہونے سے انکار کردیتا ہے یا وہ اس ظلم کیخلاف آوازاٹھائے تواس کا حقہ پانی بندکردیا جاتا ہے اور پھرسزا کے طورپر 25 سے 50 ہزار روپے تک جرمانہ کیاجاتا ہے۔اوکاڑہ ہی نہیں ملک کے مختلف شہروں میں یہ مکروہ دھندہ کیاجارہا ہے ،خواجہ سرا گروؤں کے بنائی ہوئی چاردیواری کے اندر گھٹ گھٹ کرمررہے ہیں لیکن ان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی معروف خواجہ سرا نگینہ نے ٹربیون سے بات کرتے ہوئے بتایا یہ حقیقت ہے کہ ملک بھرمیں نوجوان ،خوبصورت اورکم عمرخواجہ سراؤں کی خریدوفروخت کی جارہی ہے۔ خود انہیں ،ان کے گورو نے 80 ہزار روپے میں خریدا تھا۔ان کے گوروکا تعلق سیالکوٹ سے ہے اوران کا نام عظیم چوہدری ہے،ان کےپاس کم وبیش ایک ہزارکے قریب چیلے ہیں جوانہوں نے مختلف گورو سے خریدے ہیں۔نگینہ نے بتایا کہ خواجہ سراناچ گانے، بھیک مانگنے اورکسی کے گھرشادی بیاہ اوربیٹے کی پیدائش پرڈانس کرکے جوپیسے لاتے ہیں اس کے تین حصے کئے جاتے ہیں، ایک حصہ اس خواجہ سرااوراس کے دیگرساتھیوں کودیاجاتا ہے جن میں سازبجانے والے شامل ہوتے ہیں، ایک حصہ ڈیرے کا نکالاجاتا ہے جس میں ڈیرے کاکرایہ ،پانی، بجلی،گیس کے بل اداکئے جاتے ہیں اورایک حصہ گوروخود رکھتا ہے۔خواجہ سرانیلم پری بتاتی ہیں کہ کئی گورونوجوان اورکم عمرخواجہ سراؤں سے جسم فروشی کرواتے ہیں، ان کی پریڈکروائی جاتی ہے ،منہ دکھائی سمیت کئی رسمیں ہوتی ہیں جن کے نام پرگورو ہزاروں روپے گاہکوں سے لیتے ہیں اورپھر خواجہ سرا گناہوں کی اس دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔خواجہ سراؤں کے حقوق کے لئے سرگرم خواجہ سرانایاب علی کاکہنا ہے ہمارا معاشرہ خواجہ سرا افراد کو نہ صرف اپنے والدین بلکہ خاندانی حسب و نسب سے بھی محروم کر دیتا ہے۔ لیکن برصغیر پاک و ہند میں ایک خواجہ سرا گُرو چیلہ کلچر موجود ہے جو کہ ان خواجہ سراوں کو خاندان کی طرز کا نظام مہیا کرتا ہے۔ جس میں خواجہ سرا “چیلہ” ایک اولاد کی طرح ہوتا ہے۔اس کا “گورو” ماں باپ کا کردار ادا کرتا ہے اور جب چیلہ مزید چیلوں کو پناہ، سپورٹ کرنے کے قابل ہو جائے تو “گورو” پھر “دادا گورو” بن جاتا ہے۔لیکن یہ نظام کسی قانون کے تابع نہیں ہے ۔نایاب علی کہتی ہیں انہوں نے خواجہ سراؤں کو اس نظام سے نکالنے کے لئے جدوجہد شروع کی ہے آج ملک کے 26 شہروں میں کم وبیش 1500 سے زائد خواجہ سراان کے ساتھ شامل ہیں وہ سب آزاد ہیں۔لاہورسے تعلق رکھنے والی نامورخواجہ سراگورو زعنائیا چوہدری نے ایکسپریس ٹربیون سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس کمیونٹی میں واقعی ہی ایسا ہورہا ہےاوربعض گورو ایسے ہیں جو اپنے چیلوں کو بھاری رقم کے عوض آگے فروخت کردیتے ہیں۔زعنائیا چوہدری نے بتایا کہ گوروچیلوں کی رہائش ،ان کے کپڑوں، کھانے پینے پرجوخرچہ کرتے ہیں یا پھراگروہ کبھی کچھ ادھارلیتے ہیں تووہ سب اس کے کھاتے میں جمع کرتے جاتے ہیں اورجب وہ چیلہ کسی دوسرے کے گوروکے پاس جاناچاہتا ہے تواس سے وہ تمام خرچہ وصول کیاجاتا ہے۔ زعنائیا کہتی ہیں وہ اس عمل کیخلاف آواز اٹھارہی ہیں، ایسا نہیں ہوناچاہیے۔ یہ ضرورہوناچاہیے کہ چیلے اپنے ڈیرے جوکہ ان کا گھرہے اسے چلانے کے لیے اپنے طورپرکچھ نہ کچھ حصہ اپنے گوروکودیں تاکہ ڈیرے کانظام چلتارہے۔خواجہ سراؤں کی خریدوفروخت کے حوالے سے صوبائی وزیرانسانی حقوق اعجازعالم آگسٹن کہتے ہیں ملک کے قانون اورآئین کے مطابق کسی کوبھی یہ حق نہیں کہ وہ کسی انسان کی خریدوفروخت کرسکے،اگرکوئی ایساکرتا ہے توایسے افرادکیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائیگی۔پنجاب حکومت خواجہ سراؤں کوخودمختاربنانے، انہیں ان کی الگ شناخت اورحقوق دینے کے لئے سرگرم ہے۔ انہوں نے ممکن ہے بعض واقعات میں خواجہ سراؤں کے آپس میں لین دین کے معاملات ہوں اوراس معاملے کوخریدوفروخت کانام دیں لیکن ان کے محکمے کے پاس ابھی تک کوئی اسی شکایت نہیں آئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں